نجف اشرف کے بارے میں چند باتیں

نجف اشرف کے ناموں میں سے ایک  نام بانقیا بھی ہے،روایت میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں یہاں کافی زلزلے آیا کرتے تھے، ایک دفعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں سے گزرتے ہوئےاہل بانقیا کے ہاں مہمان ٹھہرے، حضرت ابراہیم علیہ السلام جتنے دن وہاں رہے اس جگہ زلزلہ نہ آیا جس کی وجہ سے اہل بانقیا کو یقین ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے با برکت وجود کی وجہ سے یہاں زلزلہ نہیں آیا لہذا اہل بانقیا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس جگہ ہمیشہ رہنے کی درخواست کی اور اس علاقے میں مسلسل زلزلے آنے کی شکایت کی، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اہل بانقیا سے فرمایا: آپ لوگ اگر یہ زمین مجھے بیچ دیں تو زلزلہ نہیں آئے گا،  جس پر اہل بانقیا ایسا کرنے پر راضی ہو گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے غلام نے آپ سے کہا: اے خلیل الرحمن آپ اس بنجر زمین کا کیا کریں گے؟ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا: چپ رہو! اللہ تعالی اس زمین سے ستر ہزار لوگ محشور فرمائے گا جو بلا حساب بہشت میں داخل ہوں گے۔ {علل الشرائع ج٢ ب 385ح30/ معجم البلدان باب الباء و الالف ما یلیھا ج1ص232/ المطلع علی ابواب المقنع حنبلی ج1ص230/ المنتظم ابن جوزی سن 17ج1ص497/ معجم ما استعجم باب الف، ثاء ،ج1ص66/ب با ج 1ص222}

بانقیا سے مراد پشت کوفہ ہے جو نجف ہے، کتاب قصص جزائری فصل3 اور کتاب فضل الکوفہ ص37ف2ح2 میں مذکور ہے کہ اس جملے ("اللہ اس زمین سے ستر ہزار لوگ محشور فرمائے گا جو بلا حساب بہشت میں داخل ہوں گے'') کو جناب ابراہیم علیہ السلام نے سات مرتبہ کہا۔

ابن عباس اور انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت امام علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی! اللہ تعالی نے اہل بیت کی مودت کو تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیش کیا تو سب سے پہلے اسے ساتویں آسمان نے قبول کیا تو اللہ نے اسے اپنے عرش و کرسی سے زینت دی، پھر جب چوتھے نے اسے قبول کیا تو اسے بیت معمور سے شرف بخشا پھر جب آسمانِ دنیا نے قبول کیا تو اسے ستاروں سے زینت دی پھر جب سر زمین حجاز نے قبول کیا تو اسے بیت الحرام سے شرف بخشا پھر جب مدینہ طیبہ نے قبول کیا تو اسے میری قبر سے شرف بخشا پھر جب سر زمین کوفہ نے اسے قبول کیا تو اسے اے علی! تیری قبر سے شرف بخشا، تب حضرت امام علی علیہ السلام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میری قبرِ عراق کے شہر کوفہ میں ہوگی؟ آنحضرت نے فرمایا: ہاں اے علی تم شہید کیے جاؤ گے پشت کوفہ میں دو بڑی عمارتوں اور شفاف پتھروں کے درمیان دفن کیے جاؤں گے، اس امت کا شقی عبد الرحمن بن ملجم تمہیں قتل کرے گا، اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! ابن ملجم کا عذاب اس شخص سے سخت ہے جس نے ناقہ نبی صالح کی کونچیں کاٹی تھیں، اے علی!عراق سے ایک ہزار تلوار تیری مدد کریں گی''(فرحة الغری ب 1ح1ص106/الغارات ج2ص837باب 1مستدرک الوسائل ج10ص204باب 12تاریخ قم  ب١ف8)

امیر المومنین علیہ السلام اکثر نجف کی طرف آتے اور اسے شرفِ نگاہ بخشنے کے بعد فرماتے: تیرا منظر کتنا حسین ہے اور تیرا اندر کتنا خوشگوار ہے، خدایا میری قبر یہاں قرار دے۔(فرحة الغری ب2ص115/ارشاد القلوب فضل المشہد الغروی)

عقبہ ابن علقمہ نے کہا ہے کہ :حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے سرزمین نجف کو نجف سے لے کر حیرہ اور کوفہ تک وہاں کے زمینداروں سے چالیس ہزار درہم میں خریدا، اور اس خریداری پر چند افراد کو گواہ بنایا، کسی نے کہا: اے امیرالمومنین! اتنی رقم سے آپ ایک ایسی زمین کو خرید رہے ہیں جو بنجر ہے تو اس کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا ہے: پشتِ کوفہ سے 70ہزار لوگ محشور ہوں گے جو بلا حساب بہشت میں داخل ہوں گے، تب میں نے چاہا  کہ وہ سب میری ملکیت سے محشور ہوں۔ (فضل الکوفہ ص41ج6ف13فرحة الغری ب2ح١ص109)

ابو بصیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہماری ولایت اللہ عزوجل کی ولایت ہے کہ جس کے ساتھ اللہ نے ہر نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اللہ تعالی نے ہماری ولایت کو تمام آسمانوں، زمینوں،  پہاڑوں، اور تمام شہروں کو پیش کیا تا ہم اہل کوفہ کی طرح کسی نے اسے قبول نہ کیا اور کوفہ کی جانب میں ایک ایسی قبر ہے کہ جو بھی غمزدہ وہاں جائے گا تو اللہ تعالی اس کے غم کو دور کر دے گا اور اس کی دعا کو قبول فرمائے گا اور وہ شخص خوشحال اپنے گھر پلٹے گا۔

(امالی المفید ص142ح9المجلس 17/مستدرک الوسائل ج10ص212ب16ح1)

ابان بن تغلب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور ابو حمزہ ثمالی کے واسطے سے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: گو میں قائم آل محمد کو دیکھ رہا ہوں کہ نجف میں اس کا ظہور ہوا ہے اور انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پرچم لہرایا ہے…۔

 (غیبت نعمانی ب19ح14/کمال الدین و تمام النعمة باب 58فی نوادر الکتاب)