حضرت علیؑ کی قبر اقدس کا انکشاف

حضرت علی علیہ السلام کی اولاد نے وصیت کے مطابق عمل کرتے ہوئے ان کی قبر کو ہر ایک سے پوشیدہ رکھا اور کافی عرصہ تک حضرت علی علیہ السلام کی قبر اسرار آل محمد)ع)کا حصہ رہی اور آئمہ اطہار اور چند خالص و برگزیدہ شیعوں کے علاوہ کسی کو بھی حضرت علی علیہ السلام کی قبر اقدس کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا۔

 بنی امیہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد جب بنو عباس نے تخت سنبھالا تو حضرت علی علیہ السلام کی قبر اقدس کو پوشیدہ رکھنے کےاسباب اور ممکنہ خطرات ختم ہو گئے لہذا اہل بیت(ع) نے سال ہا سال سے پوشیدہ اس راز کے بارے میں اپنے مخلص شیعوں کو بتانا شروع کر دیا اور حقیقی معنوں میں اجر رسالت کے طور پر اہل بیت سے محبت کرنے والے مسلمانوں کو حضرت علی علیہ السلام کی قبر سے آگاہ کر دیا۔

تاریخی کتب کے مطابق اس زمانے میں حضرت علی علیہ السلام کی قبر اقدس ایک ٹیلے کی مانند تھی۔

روایت میں ہے داؤود عباسی(متوفی ١٣٢) نے ایک دفعہ اپنے چند با اعتماد غلاموں کو حضرت علی علیہ السلام  کی قبر اقدس کے کھودنے کے لیے بھیجا ان غلاموں میں ایک حبشی غلام بھی تھا کہ جو اپنی قوت و طاقت میں کافی مشہور تھا، ان غلاموں نے جب قبر اقدس کو پانچ ہاتھوں کے برابر کھود لیا تو ایک مضبوط پتھر ظاہر ہوا کہ جو کھدائی کے عمل میں رکاوٹ بن گیا اور کوشش کے باوجود اس پتھر کو نہ وہ توڑ سکے اور نہ ہی اپنی جگہ سے ہلا سکے تو اس وقت ان غلاموں نے اس حبشی غلام کو پتھر ہٹانے کے لیے کہا اور جب اس غلام نے دو تین مرتبہ اس پتھر پر ضرت لگائی، تو وہ غلام چیخنا چلانا شروع ہو گیا اور وہاں سے نکلنے کے لیے اپنے ساتھوں سے مدد طلب کرنے لگا، جب اس کو وہاں سے نکالا گیا تو وہ انتہائی خوف زدہ تھا سب نے اس سے چیخنے چلانے اور خوفزدہ ہونے کا سبب پوچھا لیکن اس نے کسی کو بھی اس کے بارے میں نہ بتایا اور پھر اس کے بعد اس کا گوشت اس کے جسم سے کٹ کٹ کر گرنے لگا۔ داؤود عباسی کو جب تمام واقعات سے آگاہ کیا گیا تو اس نے اپنی اس حرکت کو چھپانے کے لیے سب غلاموں سے اس معاملے کو پوشیدہ رکھنے کا حکم دیا اور پھر قبر کو از سر نو تعمیر کر کے ایک لکڑی کا صندوق قبر پر بطور نشانِ قبر رکھ دیا۔(فرحة الغری ص61)