حرم امیر المومنین(ع) کے ادارہ میں شریعت کی واپسی اور تعمیر و ترقی

سن 2003ء میں صدامی و بعثی حکومت کے خاتمہ کے بعد مختلف مراحل اور مشکلات سے گزرنے کے بعد حرم حضرت امیر المومنین کا ادارہ مکمل طور پر نجف اشرف میں موجود اعلی دینی مرجعیت کے حوالے کر دیا گیا اور پھر جب صدامی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات کے ذریعے بننے والی حکومت نے جہاں عراق کے لیے ایک مضبوط دستور تیار کیا وہاں اسی دستور کی شق نمبر 19میں شیعہ مذھب کے مقدس مقامات کے لیے بھی ایک قانون پاس کیا گیا کہ جس کے تحت شیعوں کے تمام مقدس مقامات اداری طور پر وزارت اوقاف کی بجائے ''دیوان وقف الشیعي'' نامی ادارے کے تابع ہوں گے اور دیوان وقف شیعی کا صدر نجف اشرف میں موجود اعلی دینی مرجعیت کی رضا مندی اور تائید کے ساتھ ہر حرم اور مقدس مقام کے لیے اداری سربراہ کی تعیین و تقرری کرے گا۔

پس یہی وہ زمانہ تھا کہ جب صدامی حکومت کے خاتمے اور نئی جمہوری حکومت کے آنے کے بعد باقی مقدس مقامات اور حرموں کی طرح حرم حضرت امیر المومنین(ع) کا ادارہ بھی قانونی طور پر اعلی دینی مرجعیت کے زیر سرپرستی کام کرنے لگا اور حرم کی توسیع و تعمیر اور ترقی کے لیے بے شمار منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا کہ جو اب تک بغیر کسی وقفہ کے جاری ہے…حرم کے ادارے کی طرف سے فکر و ثقافت، تعلیم و تربیت اور زندگی کے تقریبا ہر شعبے میں اس وقت کام ہو رہا ہے اور حرم امیر المومنین(ع) کا ادارہ اور خدام اس مقدس مقام سے فیض و شرف اور سعادت کی کرنوں کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔