حضرت على (ع) اور پيغمبر اكرم (ص) كى جانشيني

بلا شك و ترديد اسلام كے جو عظےم و اہم ترين مسائل ہيں ان ميں امت كى ولايت وقيادت نيز امور مسلمين كى راہبرى و سرپرستى بھى شامل ہے _ چنانچہ اس اہميت كو مد نظر ركھتے ہوئے پيغمبر اكرم (ص) كى يہ كوشش تھى كہ آئندہ جس اسلامى معاشرے كى تشكيل ہوگئي اس كے مسئلہ رہبرى كو اپنے زمانہ حيات ميں ہى طے كرديں _ چنانچہ ''دعوت حق كے اولين روز سے ہى آپ نے توحيد كے ساتھ مسئلہ خلافت كو واضح كرنا شروع كردياتھا چونكہ حضرت على (ع) ہى كى وہ شخصيت تھى جو تمام فضائل وكمالات كى مالك تھى اسلئے خداوند متعال كى طرف سے پيغمبر اكرم (ص) كو حكم ملا كہ مسلمانوں كے دينى و دنيوى امور كى سرپرستى كےلئے اپنے بعد ان كى جانشينى كا اعلام فرماديں

رسول اكرم (ص) نے اس الہى پيغام كا اعلان مختلف مواقع پر فرمايا يہاں ہم اختصار كے پيش نظر ان تين احاديث كا ہى ذكر كريں گے جو آپ نے مختلف اوقات ميں بيان فرمائي ہيں :

1حديث يوم الدار

2 حديث منزلت

3 حديث غدير

حديث يوم الدار

بعثت كى تين سال كے بعد جب يہ آيت نازل ہوئي ''وانذر عشيرتك الاقربين'') يعنى رسول اكرم (ص) اس كام پر مامور كئے گئے كہ وہ سب سے پہلے اپنے عزيز واقرباء كو دعوت اسلام ديں _ اس مقصد كے تحت پيغمبر اكرم(ص) كے حكم پر حضرت على (ع) نے بنى ہاشم كے چاليس سرداروں كو جن ميں ابوطالب، ابولہب ، حمزہ ، وغيرہ شامل تھے مدعو كيا جب سب لوگ كھانے سے فارغ ہوئے تو پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا اے فرزندان عبدالمطلب عرب كے جوانوں ميں مجھے كوئي بھى ايسا نظر نہيں آتا جو تمہارے لئے مجھ سے بہتر پيغام لايا ہو _ ميں تمہارے لئے ايسا پيغام لے كر آياہوں جس ميں دونوں جہان كى خير وسعادت ہے_ خداوند تعالى نے مجھے حكم ديا ہے كہ ميں تمہيں اس كى طرف دعوت دوں_ تم ميں سے ايسا كون ہے جو اس راہ ميں ميرى مدد كرے تاكہ وہ ميرا بھائي ، وصى اور جانشين قرار پائے _ پيغمبر اكرم (ص) نے اپنے اس سوال كو تين مرتبہ دہرايا اور ہر مرتبہ حضرت على (ع) ہى اپنى جگہ سے اٹھے اور انہوں نے اپنى آمادگى كا اعلان كيا_

اس وقت رسول اكرم (ص) نے حضرت على (ع) كى جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : تو گويا على (ع) ہى ميرے بھائي ، وصى اور جانشين ہيں لہذا تم ان كى بات سنو اور ان كى اطاعت كرو

حديث منزلت

صرف وہ غزوہ جس ميں حضرت على (ع) نے پيغمبر اكرم (ص) كى حكم كے پيروى كرتے ہوئے شركت نہيں كى غزوہ تبوك تھا _ چنانچہ اس مرتبہ آپ جانشين رسول خدا (ص) كى حيثيت سے اور ان واقعات كا سد باب كرنے كى غرض سے جن كے رونما ہونے كا احتمال تھا مدينہ ميں ہى قيام پذير رہے_

جس وقت منافقوں كو رسول خدا (ص) كے ارادے كى خبر ہوئي تو انہوں نے ايسى افواہيں پھيلائيں جن سے حضرت على (ع) اور پيغمبر اكرم (ص) كے تعلقات ميں كشيدگى پيدا ہوجائے اور حضرت على (ع) كو يہ بات باور كراديں كہ اب آپ سے رسول (ص) كو پہلى سى محبت نہيں _ چنانچہ جب آپ كو منافقين كى ان شرپسندانہ سازشوں كا علم ہوا تو ان كى باتوں كو غلط ثابت كرنے كى غرض سے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں تشريف لے گئے اور صحيح واقعات كى اطلاع دي_ رسول اكرم (ص) نے على (ع) كو مدينہ واپس جانے كا حكم ديتے ہوئے اس تاريخى جملے سے حضرت على (ع) كے اس مقام و مرتبہ كو جو آپ (ص) كے نزديك تھا اس طرح بيان فرمايا : ''كيا تم اس بات سے خوش نہيں ہو كہ ميرے اور تمہارے درميان وہى نسبت ہے جو كہ موسى (ع) اور ہارون (ع) كے درميان تھي_ مگر يہ كہ ميرے بعد كوئي نبى نہيں ہوگا