قرآن مجيد ميں حضرت ہارون كے مقامات ومناصب

اب ديكھنا يہ ہے كہ قرآن پاك كى نظر ميں حضرت ہارون كے وہ كون سے مناصب و مقامات تھے جو حضرت على (ع) ميں بھى نبوت كے علاوہ (چنانچہ حضرت محمد (ص) نے خود ہى مذكورہ حديث ميں آپ كو اس سے مستثنى قرار ديا ہے) بدرجہ اتم موجود تھے

چنانچہ جب ہم قرآن كى جانب رجوع كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ حضرت موسى (ع) نے حضرت ہارون (ع) كے لئے مندرجہ ذيل مناصب چاہے تھے_

مقام وزارت :''واجعل لى وزيرا من اہلى ہارون اخي'' ''ميرے كنبے سے ہارون كو وزير مقرر كردے جوكہ ميرے بھائي ہيں''

تقويت و تائيد ''واشد بہ ازري''_ اس كے ذريعے ميرا ہاتھ مضبوط كر

مقام نبوت: ''واشركہ فى امري''اور اس كو ميرے كام ميں شريك كردے''_

حضرت موسى (ع) نے جو چيزيں خداوند تعالے سے مانگيں اس نے ان كا مثبت جواب ديا اور مذكورہ تمام مقامات حضرت ہارون كو عطا كرديئے_ چنانچہ اس سلسلے ميں قرآن مجيد فرماتاہے:''قد اوتيت سوالك يا موسي_ ''اے موسى جو تم نے مانگا ہم نے عطا كيا''

اس كے علاوہ حضرت موسى (ع) نے اپنى غير موجودگى ميں حضرت ہارون (ع) كو اپنا جانشين مقرر كيا _ (وقال موسى لاخيہ ہارون اخلفنى فى قومي)موسى نے حضرت ہارون سے كہا تم ميرى قوم ميںميرے خليفہ اور جانشين ہو ''_

حديث منزلت كے مطابق وہ تمام مناصب و مقامات جو ہارون كےلئے بيان كئے گئے ہيں ، صرف ايك منصب كے علاوہ كہ جسے آيت سے مستثنى قرار ديا ہے، حضرت على (ع) كےلئے ثابت ہيں

اس لحاظ سے حضرت علي(ع) ہى امت مسلمہ ميں رسول خدا (ص) كے ياور و مددگار اور خليفہ ہيں