وفات پيغمبر(ص) كو جھٹلانا

رسول اكرم (ص) كى رحلت كے بعد سب سے پہلا واقعہ جو مسلمانوں كے سامنے آيا وہ عمر كى جانب سے رونما ہوا چنانچہ انہوں نے رسول خدا (ص) كے گھر كے سامنے بآواز بلند كہا كہ جو شخص يہ كہے گا كہ رسول خدا(ص) كى رحلت ہوگئي ميں اسى تلوار سے اس كا سر قلم كردوں گا اگر چہ حضرت ابن عباس و ديگر صحابہ رسول (ص) نے وہ آيت بھى سنائي جس كا مفہوم يہ ہے كہ موت سے پيغمبر(ص) كو بھى مفر نہيں  مگر اس كا ان پر اثر نہ ہوا بوقت رحلت ابوبكر مدينہ سے باہر تھے _ چند لحظے گذرنے كے بعد وہ بھى آن پہنچے اور عمر كى داد و فرياد كى جانب توجہ كي ے بغير وہ پيغمبر اكرم (ص) كے گھر ميں داخل ہوگئے اور رسول خدا (ص) كے چہرہ مبارك سے چادر ايك طرف كركے بوسہ ديا اور مسجد ميں واپس آگئے اور يہ اعلان كيا كہ رسول اللہ (ص) رحلت فرماگئے ہيں _ اس كے بعد انہوں نے بھى اسى آيت كى تلاوت كى اس پر عمر نے كہا ايسا لگتا ہے كہ ميں نے آج تك گويا يہ آيت سنى ہى نہيں تھى