على (ع) كى بيعت كے بارے ميں تجويز

حضرت على (ع) پيغمبر اكرم(ص) كے جسد مبارك كى تجہيز و تدفين ميں منہمك و مشغول تھے كہ ابو سفيان ' جس میں حس تدبر و سياست فہمى بہت تيز تھى ' پيغمبر اكرم(ص) كے گھر پہنچا تاكہ مسلمانوں كے درميان اختلاف پيدا كرے اور حضرت على (ع) كے سامنے يہ تجويز پيش كى كہ آپ(ع) كے دست مبارك پر بيعت كرے ليكن حضرت على (ع) اسكى نيت كو جانتے تھے لہذا اسكى باتوں كو قطعى اہميت نہ دى اور فرمايا تمہارا مقصد مسلمانوں كے درميان فتنہ پھيلانا ہےجس وقت ابوسفيان نے يہ تجويز پيش كى توعين اس وقت حضرت عباس نے بھى چاہا كہ اپنےبھتيجے كے دست مبارك پر بيعت كريں ليكن حضرت على (ع) نے ان كى تجويز كو بھى منظور كرنے سے انكار كر ديا حضرت عباس كى تجويز كو حضرت على (ع) نے كيوں منظور نہےں فرمايا اس كا ذكر بعد مےں كيا جائے گا ، يہاں ابوسفيان كى تجويز كے بارے ميں وضاحت كر دينا ضرورى ہے كہ ابو سفيان كى كى پيشكش حسن نيت پر مبنى نہيں تھى بلكہ اس كا مقصد اختلاف و فتنہ پرپا كرنا تھا اس نے جانشينى پيغمبر(ص) كے بارے ميں مسلمانوں كى رسہ كشى اور اختلاف كو اچھى طرح محسوس كر ليا تھا وہ جانتا تھا كہ ابو بكر و عمر رسول(ص) كى جانشينى كے چكر ميں ہےں اور اسے يہ معلوم تھا كہ سياسى اور معنوى اعتبار سے بنى ہاشم ہى ان كا مقابلہ كر سكتے ہيں لہذا وہ اپنے ناپاك مقصد كے حصول كے غرض سے خدمت امام(ع) مےں آيا اور آپ كو جنگ كيلئے ابھارا
آپ نے ابوسفيان كى گفتگو سے اس اختلاف كا اندازہ لگا ليا تھا چنانچہ آپ خود فرماتے ہيں ميں ايك طوفان ديكھ رہا ہوں كہ جس كى منھ زوريوں كو خون ہى روك سكتا ہے  پھر آپ اپنى رائے مےں صحيح تھے اگر بنى ہاشم اور ان كے سردار حضرت على بن ابيطالب(ع) فداكارى اور صبر سے كام نہ ليتے تو اس طوفانى اختلاف كو كشت و خون كے علاوہ كوئي چيز خاموش نہيں كر سكتى تھى