سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت على (ع) كا ردعمل

سقيفہ ميں جو اجتماع ہوا تھا وہ اس طرح اختتام پذير ہوا كہ انصار و مہاجرين مےں سے چند افراد نے ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى اس كے بعد يہ مجمع مسجد كى جانب روانہ ہوا تاكہ وہاں عام مسلمان بيعت كر سكيں عمر اس مجمع مےں پيش پيش تھے اور راہ ميں جو بھى ملتا اس سے كہتے كہ وہ ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لے حضرت على (ع) ابھى پيغمبر(ص) كے جسد مبارك كے تكفين و تدفين مےں مشغول و منہمك تھے كہ لوگوں كے شورو غل كى صدائيں سنائي ديں اور صحيح واقعے كا اس كے ذريعے علم ہوا خلافت كى اہليت كےبارے ميں جب مہاجرين كى يہ حجت و دليل آپ كو بتائي گئي كہ انہوں نے اس بات پر احتجاج كيا كہ خليفہ خاندان قريش اور شجر نبوت كى شاخ ہو تو اس پر آپ (ع) نے فرمايا كہ انہوں نے تكيہ تو درخت پر ہى كيا ليكن اس كے پھل كو تباہ كر ڈالا حضرت على (ع) كا دوسرا رد عمل پيغمبر اكرم(ص) كے جسد مبارك كى تدفين كے بعد ظاہر ہوا _ حضرت على (ع) مسجد مےں تشريف فرما تھے اس وقت بنى ہاشم كے افراد بھى كافى تعداد ميں وہاں موجود تھے بعض وہ لوگ جو ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر چكے تھے آپ كے اور افراد بنى ہاشم كے گرد جمع ہو گئے اور كہنے لگے كہ طائفہ انصار نيز ديگر افراد نے ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى ہے آپ بھى بيعت كر ليجئے ورنہ تلوار آپ كا فيصلہ كرے گى
حضرت على (ع) نے فرمايا كہ ميں ان سے زيادہ بيعت كے لئے اہل وقابل ہوں تم لوگ ميرے ہاتھ پر بيعت كرو تم نے رسول خدا(ص) سے قربت كے باعث خلافت انصار سے لے لى اور انہوں نے بھى يہ حق تسليم كر ليا خلافت كے لئے ميرے پاس بھى دلائل موجود ہيں مےں پيغمبر اكرم(ص) كے زمانہ حيات ميں ہى نہےں بلكہ رحلت كے وقت بھى ان كے سب سے زيادہ قريب و نزديك تھا ميں وصى ' وزير اور علم رسول(ص) كا حامل ہوں ... ميں كتاب خدا اور سنت رسول(ص) كے بارے مےں سب سے زيادہ واقف و باخبر ہوں امور كے نتائج كے بارے ميں تم سے زيادہ جانتا ہوں ، ثبات و پائداراى مےں تم سے سب سے بہتر محكم و ثابت قدم ہوں اس كے بعد اب تنازع كس بات پر ہےاس پر عمر نے كہا : آپ مانيں يا نہ مانيں ہم آپ كو بيعت كئے بغير جانے نہيں ديں گے حضرت على (ع) نے انھيں فيصلہ كن انداز ميں جواب ديتے ہوئے فرمايا كہ دودھ اچھى طرح دوہ لو اس مےں تمہارا بھى حصہ ہے آج خلافت كے كمر بند كو ابو بكر كيلئے مضبوط باندھ لو كل وہ تمہيں ہى لوٹا ديںگے اس وقت وہاں عبيدہ بھى موجود تھے انہوں نے حضرت على (ع) سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اے ميرے چچا زاد بھائي رسول خدا(ص) سے آپ كى قرابت داري، اسلام ميں آپ كے سابقالاسلام ،اور اس كے مددگار اور آپ كى علمى فضيلت سے ہميں انكار نہيں ليكن آپ ابھى جو ان ہيں اور ابوبكر آپ ہى كے قبيلے كے معمر آدمى ہيں اس بار خلافت كو اٹھانے كيلئے وہ بہتر ہيں آپ كى اگر عمر نے وفا كى تو ان كے بعد خلافت آپ كو پيش كر دى جائي گى ... لہذا آپ اس وقت فتنہ و آشوب بپانہ كيجئے يہ آپ كو بخوبى علم ہے كہ عربوں كے دلوں ميں آپ كى كتنى دشمنى ہے حضرت على (ع) كا تيسرا رد عمل وہ تقرير تھى جو آپ نے مہاجرين و انصار كے سامنے فرمائي اسى تقرير كے دوران آپ نے فرمايا تھا '' اے مہاجرين و انصار خدا پر نظر ركھو اور ميرے بارے ميں تم نے جو پيغمبر اكرم(ص) سے عہد و پيمان كيا تھا اسے فراموش نہ كرو حكومت محمد(ص) يہ كو ان كے گھر سے اپنے گھر مت لے جاؤ ...

تم يہ بات جانتے ہو كہ ہم اہل بيت اس معاملے مےں تم سے زيادہ حقدار ہيں _ كيا تم كسى ايسے شخص كو نہيں چاہتے جسے مفاہيم قرآن، اصول و فروع دين اور سنت پيغمبر اكرم (ص) پر عبور حاصل ہے تاكہ وہ اسلامى معاشرے كا بحسن و خوبى نظم ونسق برقرار كرسكے ... ميں خدائے واحد كو گواہ كركے كہتا ہوں كہ ايسا شخص ہم ميںموجود ہے اور تمہارے درميان نہيں، نفسانى خواہشات كى پيروى مت كرو اور حق سے دور نہ ہوجائو نيز اپنے گذشتہ اعمال كو اپنى بد اعماليوں سے فاسد و كثيف نہ ہونے دو ''

بشير بن سعد نے انصار كى ايك جماعت كے ساتھ كہا : اے ابوالحسن اگر انصار نے آپ كى يہ تقرير ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كرنے سے پہلے سن لى ہوتى تو دہ آدمى بھى ايسے نہ ہوتے جو آپ كے بارے ميں اختلاف كرتے