على (ع) نے كيوں عجلت نہيں كي؟

تاريخ كے اس حصے كا مطالعہ كرنے كے بعد ممكن ہے كہ يہ سوال سامنے آئے كہ اگر حضرت على (ع) بھى دوسروں كى طرح امر خلافت ميں عجلت كرتے اور حضرت عباس و ابوسفيان كى تجويز مان ليتےتو شايد يہ منظر سامنے نہ آيا ہوتا اس بات كى وضاحت كے لئے يہاں اس بات كا واضح كردينا ضرورى ہے كہ آپ كى خلافت كا مسئلہ دو حالتوں سے خالى نہ تھا يا تو رسول اكرم (ص) نے آپ كو خداوند تعالى كے حكم سے اس مقام كے لئے منتخب كرليا تھا ( اس پر شيعہ عقائد كے لوگوں كا اتفاق ہے) ايسى صورت ميں عوام كا بيعت كرنا يا نہ كرنا اس حقيقت كو بدل نہيں سكتا اور اگر بالفرض خلافت كے معاملے ميں امت كو اس كے فيصلے پر آزاد چھوڑديا تھا تو پھر كيوں حضرت على (ع) لوگوں كے حق انتخاب كو سلب كرتے وہ امت كو اس حال پر چھوڑديتے كہ وہ جسے بھى چاہيں اپنا خليفہ مقرر كريں_

اس سے بھى زيادہ اہم بات يہ ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كا جسد مبارك ابھى زمين كے اوپر ہى تھا ، حضرت على (ع) پيغمبر (ص) كے وصى كے لئے ايسى صورت ميں يہ كيسے ممكن تھا كہ وہ جسد اطہر پيغمبر اكرم (ص) كو زمين پر ركھے رہنے ديں اور خود اپنے كام كے چكر ميں نكل جائيں

حضرت على (ع) نے پہلے اپنا فرض ادا كيا پھر لوگوںكے سامنے تشريف لائے  دوسرے بھى يہ بات جانتے تھے كہ اگر ايسے ميں حضرت علي(ع) تشريف لے آتے تو وہ ہرگز اپنے مقصد و ارادے ميں كامياب نہ ہوتے  چنانچہ دوسروں نے امر خلافت كے سلسلے ميں عجلت كى اور حضرت على (ع) كو اس وقت اطلاع دى جب كام تمام ہوچكاتھا