مذكورہ شورى كے بارے ميں حضرت على (ع) كى نظر

جس وقت شورى كے اراكين كا تعين ہوا تو حضرت على (ع) نے ابتدا ہى ميں اس كے فيصلے سے باخبر كرديا تھا اور عباس سے كہا تھا ''عدلت عنا'' يعنى ہمارے خاندان سے خلافت كا رخ موڑ ديا گيا ہے انہوں نے دريافت كيا كہ آپ نے كيسے جانا تو آپ نے فرمايا كيونكہ عثمان كو ميرےمقابل لايا گيا ہے

جب شورى كے نتيجے كا اعلان كيا گيا تو اس وقت بھى آپ نے فرمايا تھا عمر نے اپنى موت كے بعد خلافت كو ايك جماعت ميں محدود كرديا اور مجھے بھى اس جماعت كا ايك ركن قرار ديا ہے بھلا ميرا اس شورى سے كيا تعلق ہے ان ميں سے سب سے پہلے ہى كے مقابلہ ميں ميرے استحقاق ميں كب شك تھا كہ جواب اس قسم كے لوگوں ميں شامل كرليا گيا ہوں؟ وہ پرندہ كى طرح كبھى زمين پر چلتے تھے اور كبھى اڑنے لگتے تھے مجبوراً ميں نے بھى نشيب وفراز ميں ان سے ہم آہنگى كى ان ميں سے ايك (سعد بن ابى وقاص) تو كينہ توزى كى وجہ سے حضرت عثمان كى طرف چلاگيا اور دوسرا (عبدالرحمن بن عوف) دامادى اور بعض ناگفتہ باتوں كى وجہ سے ادھر جھك گيا

حضرت على (ع) نے اپنے اس بيان كے ذريعے اس مجلس مشاورت كے حقيقى چہرے كو بے نقاب كرديا اور يہ بات واضح كردى كہ آپ كا شمار كسى طرح بھى اس شورى كے اراكين ميں نہےں ہے اس كے علاوہ عثمان كے حق ميں رائے دہى ان كے رائے غير جانبدار نہ تھى بلكہ اس ميں كينہ توزى اور قرابت دارى جيسى ذاتى اغراض شامل تھيں اور جس وقت خلافت كيلئے فيصلہ كيا جارہا تھا اس وقت يہ عوامل كار فرما تھے_