حضرت على (ع) كى شركت اور اس كى وجہ

جيسا كہ اس سے قبل اشارہ كياجاچكا ہے كہ عمر نے جس شورى كى تشكيل كى تھى اس كى ہيئت شروع سے ہى يہ بتا رہى تھى كہ اس كے ذريعے حضرت علي(ع) كو اميرالمومنين (ع) منتخب نہيں كياجائے گا اب يہاں يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ جب حضرت على (ع) نے جب پہلے ہى يہ انداز لگاليا تھا تو آپ نے اس شورى ميں شركت ہى كيوں فرمائي؟

اس سوال كا جواب دينے كے لئے ضرورى ہے كہ ان نكات كى جانب توجہ دلائي جائے جن ميں بعض آپ ہى كے اقوال ہيں :1 ابن عباس نے آپ سے كہا تھا كہ اس شورى ميں شركت نہ كيجئے تواس پر آپ نے يہ فرمايا كہ مجھے اختلاف پسند نہيں

 :2 قطب راوندى كے قول كے مطابق ابن عباس كے سوال كے جواب ميں ہى آپ نے يہ فرمايا تھا كہ ميں جانتا تھا كہ شورى كى تشكيل كس نہج پر ہوئي ہے اس كے باعث خلافت ہمارى خاندان سے چلى جائے گى ليكن ميں نے ان كى اس شورى ميں شركت كى جس كى وجہ يہ تھى كہ عمر نے مجھے خلافت كا اہل و شايستہ جانا ليكن اس سے قبل انہوں نے ہى كہا تھاكہ رسول خدا (ص) نے فرمايا ہے كہ نبوت اور امامت ايك گھر ميں جمع نہ ہوں اب ميں اس شورى ميں شامل كرليا گياہوں تو چاہتاہوں لوگوں كے سامنے كہ ان (عمر ) كے فعل كى ان كى بيان كردہ روايت كى مخالفت كو واضح كردوں

مذكورہ شورى ميں حضرت على (ع) كى عدم شركت كے باعث فيصلہ كرنے كا اختيار عبدالرحمن كو ہوتا ايسى صورت ميں اگر حضرت على (ع) مخالفت كرتے تو اس ہدايت كے مطابق جو عمر نے كى تھى تو آپ كو قتل كروايا جاتا اس اعتبار سے صحيح اور منطقى راہ وہى تھى جسے آپ نے پيش نظر ركھا