عثمان كى خلافت

خليفہ دوم كى وفات كے بعد عثمان نے زمام امور اپنے ہاتھوں ميں سنبھالى ، انہوں نے روز اول سے وہى راہ اختيار كى جس كا عمر كو خدشہ تھا_ چنانچہ بتدريج اپنے قرابت داروں( بنى اميہ) كو اہم مناصب پرمقرر كرنا شروع كيا

اپنے ماموں زاد بھائي عبداللہ ابن عامر كو جس كى عمر ابھى پچيس سال ہى كى تھى بصرے كا والى مقرر كرديا اور اپنے ماموں وليد ابن عقبہ جيسے بدكار شخض كو كوفہ كا گورنر مقرر كيا يہ شخص بحالت مستى مسجد ميں داخل ہوا اور فجر كى نماز ميں چار ركعت پڑھادى نماز پڑھانے كے بعد اس نے اپنے مقتديوں سے كہا كہ اگر آپ چاہيں تو ميں مزيد چند ركعت پڑھاسكتاہوںمعاويہ كو عمر نے دمشق اور اردن كا گورنر مقرر كيا تھا ليكن عثمان نے ان ميں حمص ، فلسطين اور جزيرہ كے علاقوں كا بھى اضافہ كرديا اور اس كے لئے ايسے مواقع فراہم كرديئے جس سے اس كے تسلط واقتدار ميں اضافہ ہوسكے

اسى طرح انہوں نے اپنے رضاعى بھائي عبداللہ بن سعد كو مصر كا گورنر مقرر كيا مروان بن حكم كو پيغمبر اكرم (ص) نے شہر بدر كرديا تھا مگر عثمان نے اسے اپنے حواريوں ميں شامل كركے اسے اپنا مشير مقرر كرديا

مختصر يہ كہ ان كى خلافت كے دوران قليل عرصے ميں ہى بصرہ، كوفہ ، شام اور مصر جيسے چار عظےم صوبے جنہيں فوجى اجتماعى اور اقتصادى اعتبار سے خاص اہميت حاصل تھى ، بنى اميہ كے زير تسلط آگئے اور وہ عرب خاندان جو صحابہ رسول (ص) كى نسلوں سے تھے نيز ديگر افراد قبائل حكومت كے عہدوں سے محروم كرديئے گئے

اموى دستے نے بھى اس موقع كو غنيمت جانا اور شروع سے ہى اپنى وضع وحالت كو استحكام دينے سے كوئي دقيقہ فرو گذاشت نہ كيا_

ابوسفيان نے عثمان كے دور خلافت كى ابتدا ميں ہى اپنے قبيلے كے لوگوں سے كہنا شروع كرديا تھا كہ اے بنى اميہ حكومت كو گيند كى مانند ايك ہاتھ سے دوسرے ہاتھ كى جانب اچھالتے رہو ... ميرى ہميشہ يہى آرزو رہى ہے كہ حكومت تمہارے ہى ہاتھوں ميں رہے اور تمہارے بچوں كو ورثے ميں ملے (31) ابوسفيان كى نصےحت كے مطابق بنى اميہ اس پر كاربند ہوگئے كہ امور حكومت ميں داخل ہوكر اپنے ان رسوخ كو وسيع كريں اور خلافت كو سلطنت ميں تبديل كرديں تاكہ اسے اموى خاندان كى ميراث بنانے ميں كامياب ہوسكيں