مسلمانوں كا بيت المال

وہ كثير دولت جو تازہ مفتوحہ علاقوں سے بطور خراج اور مال غنيمت خلافت اسلاميہ كے مركز كىجانب كشاں كشاں چلى آرہى تھى ، ايسا طرہ امتياز بن گئي تھى جس نے خليفہ سوم كى حيثيت كو ديگر خلفاء سے عليحدہ كرديا تھا_ چنانچہ خليفہ نے خود ہى يہ امتياز حاصل كرليا تھا كہ اگر چاہيں تو وہ اس مال و دولت ميں تصرف كرسكتے ہيں_

قرابت دار،ہم قوم افراد ،قريش كے امرا اور بعض اراكين مجلس ومشاورت اس مال و دولت سے بخشش و بخشايش كے ذريعے فيضياب ہورہے تھے_ اسلامى خلافت كى وسيع و عريض سرزمين پر صوبہ دار اور حكام بھى اسى راہ و روش پر عمل كر رہے تھے  چنانچہ مسعودى لكھتا ہے كہ : جس وقت عثمان كا قتل ہوا اس وقت ان كے پاس ايك لاكھ پچاس ہزار سونے كے دينار تھے اور دس لاكھ درہم تھے_ ''وادى القري'' ، ''حنين '' اور ديگر مقامات پر جو باغات تھے ان كى قيمت كا تخمينہ ايك لاكھ سونے كے دينار لگايا گيا تھا _ اونٹوں كے گلے اور گھوڑوں كے غول ان سے عليحدہ تھے   حاكم بصرہ بيت المال سے جو سونے اور چاندى كے سكے نكال كر عثمان كے پاس لايا تھا انہوں نے انہيں كيل سے ناپ ناپ كر پيمانے سے خاندان بنى اميہ كى خواتين اور ان كے بچوں كے درميان تقسيم كئے تھے

عبداللہ بن شرح كو پيغمبر اكرم (ص) نے شہر بدر كرديا تھا _ فتح افريقہ كے بعد جب وہ واپس آيا اور وہاں سے مال غنيمت اپنے ساتھ لايا تو اس كى قيمت پچيس لاكھ بيس ہزار دينار تھى _ عثمان نے يہ سارا مال اسے ہى بخش ديا

ايك روز اس نے حكم ديا كہ بيت المال سے دو لاكھ درہم سفيان اور ايك لاكھ درہم مروان كو عطا كرديئے جائيں  اس كے علاوہ ديگر ايسے بہت سے مواقع پر جن كے ذكر كى يہاں گنجائشے نہيں ، موصوف نے دل كھول كر داد و دہش سے كام ليا