حضرت على (ع) كے پندو نصايح

جس وقت لوگ اور بزرگ صحابى عثمان كى راہ و روش اور ان كے كارندوں كى زيادتيوں سے

تنگ آگئے تو وہ حضرت على (ع) كے پاس پہنچے اور شكايات كے ضمن ميں يہ درخواست كى كہ وہ ان كے نمايندے كى حيثيت سے عثمان كے پاس جائيں اور كہيں كہ وہ لوگوں كو اپنے كارندوں كے شر سے نجات دلائيں _اميرالمومنين حضرت على (ع) عثمان كے پاس تشريف لے گئے اور آپ نے نصيحت فرمائي _ دوران گفتگو ان سے كہاكہ : ... عثمان خدا سے ڈرو اور اپنے اوپر رحم كرو ... خدا كے بہترين بندوں ميں وہ عادل پيشوا ہے جو خود ہدايت يافتہ ہو اور دوسروں كو بھى ہدايت كرے ... مروان سے تم اتنے نہ دبو كہ وہ تمہيں اس پختہ عمر اور پيرانہ سالى ميں جہاں چاہے ليئے پھرے  بعض صحابہ رسول اكرم (ص) نے جب عثمان كى كاركردگى اور ان كے كارندوں كى زيادتيوں پر اعتراض كيا تو عثمان كا عتاب نازل ہوا  پيغمبر اكرم (ص) كے جن بزرگ صحابہ سے انہوں نے ناروا سلوك كيا ان ميں سے تين قابل ذكرہيں_

حضرت ابوذر (ع) نيك صالح بزرگ تھے ان كا شمار پيغمبر اكرم (ص) كے عظےم الشان صحابہ ميں ہوتا تھا _ عثمان نے انہيں شہر بدر كركے ''ربذہ''  چلے جانے كا حكم ديا يہى نہيں بلكہ يہ حكم جارى كرديا كہ رخصت كرنے كى غرض سے ان كے ساتھ كوئي شخص نہ جائے_ چنانچہ جس وقت وہ روانہ ہوئے تو انہيں رخصت كرنے كے لئے حضرت على (ع) آپ كے دو فرزند اور حضرت عقيل و حضرت عمار ياسر كے علاوہ اور كوئي شخص نہ تھا

عمار ياسر اور عبداللہ بن مسعود بزرگ صحابہ رسول(ص) پر بھى وہى حالت گذر گئي جس سے حضرت ابوذر(ع) دوچار ہوئے تھے_ عبداللہ كے بارے ميں ان كے غلاموں كو حكم ديا گيا كہ وہ انہيں خوب زدو كوب كريں _چنانچہ انہوں نے موصوف كو اس برى طرح زمين پر پٹخا اور اتنا مارا كہ ان كى پسلياں ٹوٹ گئيں _ بيت المال سے جو انہيں وظيفہ دياجاتا تھا وہ بھى منقطع كرديا گيا اور لوگوں كو منع كرديا گيا كہ كوئي ان كى عيادت كو نہ جائےحضرت عمار نے جب يہ اعتراض كيا كہ بيت المال كو پانى كى طرح بہايا جارہا ہے اور حكومت كے عہدے نالايق افراد كو ديئے جارہے ہيں تو ان پر بھى خليفہ اور انكے خدمتگاروں كا عتاب نازل ہوا جن كے باعث وہ مرض فتق ميں مبتلا ہوگئے