حضرت على (ع) كى نظر ميں عثمان كا قتل

نہج البلاغہ ميں مجموعى طور پر سولہ مقامات پر عثمان كے بارے ميںبحث ہوئي ہے جن ميںسے زيادہ كا تعلق قتل عثمان سے ہے _ حضرت على (ع) نے اپنے خطبات ميں ايك طرف تو خود كو اس حادثہ قتل سے برى الذمہ قرار ديا ہے اور دوسرى طرف انہوں نے خود كو عثمان كے مددگار ميں شامل نہيں كيا ہے بلكہ جن لوگوں نے ان كے خلاف شورش كى تھى انہيں عثمان كے مددگاروں پر ترجيح دى ہے اس كے ساتھ ہى يہ سانحہ قتل آپ كى نظر ميں مجموعى طور پر اسلامى مصالح و منافع كے مواقع و سازگار نہ تھا_

بظاہر يہ اقوال اور موضوعات مختلف و متضاد نظر آتے ہيں مگر ان ميں اس طرح ہم آہنگى و مطابقت پيدا كى جاسكتى ہے كہ : حضرت على (ع) چاہتے تھے كہ عثمان اپنے طريقہ كار سے دست بردار ہوجائيں اور اسلامى عدل كى صحيح راہ اختيار كرديں اورضرورت پيش آجائے تو انہيں گرفتار بھى كرليں تاكہ ان كى جگہ اہل خليفہ بر سر اقتدار آئے اور وہ ان كے دو ركے بدعنوانيوں كى تفتيش كرے اور اس سے متعلق جو حكم خداوندى ہواسے جارى كرے

اس طرح حضرت على (ع) نے نہ تو عثمان كے قتل سے اپنى رضا مندى كا اظہار كيا ہے اور نہ ہى ان كى شورش كرنے والوں كے ساتھ رويے كى تائيد كى ہے _ حضرت على (ع) كى يہى كوشش تھى كہ خون نہ بہاياجائے اور شورش كرنے والوں كے جو جائز مطالبات ہيں انہيں تسليم كياجائے اور اس طرح عثمان يا تو اپنى راہ و روش پر تجديد نظر كريں يا خلافت سے برطرف ہوجائيں تاكہ يہ كام كسى ايسے شخص كے سپرد كياجاسكے جو اس كا اہل ومستحق ہو

عثمان اور انقلابيوں كے درميان جو تنازع ہوا ا س كے بارے ميں حضرت على (ع) كا فيصلہ يہ تھا كہ عثمان نے ہر چيز كو اپنے اور اپنے عزيز واقارب كے لئے مخصوص كرديا تھا اور جو شيوہ انہوں نے اختيار كيا تھا وہ پسنديدہ نہ تھا اور تم شورش كرنے والوں نے بھى عجلت و بے تابى سے كام ليا جو برى چيز ہے

جس وقت حضرت على (ع) فرد ثالث كى حيثيت سے انقلابيوں كے مطالبات عثمان كو بتا رہے تھے تو آپ نے اس تشويش كا اظہار فرمايا تھا كہ ہوسكتا ہے كہ انہيں مسند خلافت پر قتل كردياجائے اور اگر ايسا ہوا تو مسلمانوں پرعظےم مصيبتوں كے دروازے كھل جائيں گے _ چنانچہ اس ضمن ميں آپ نے عثمان سے كہا كہ ميں تمہيں قسم دلا كر كہتا ہوںكہ ايسا كوئي كام نہ كرنا جس كے باعث تمہارا شمار امت كے مقتول پيشواؤں ميں ہو كيونكہ رسول (ص) اكثر فرياد كرتے تھے كہ اس امت كے ايك پيشوا كا قتل ہوگا اور اس كے بعد كشت وكشتار كے دروازے كھل جائيںگے''

عثمان كے قتل كو بہانہ بناكر طلحہ وزبير نے لوگوں كو حضرت على (ع) كے خلاف مشتعل كرنا چاہا تھا اسى لئے ايك موقعے پر آپ (ع) نے انہيں عثمان كے قتل ميں ملوث قرار ديا تھا اور فرمايا تھا:

عثمان كے خون كا بدلہ لينے كى اس لئے جلدى تھى كہيں ايسا نہ ہو كہ انہيں اس خون كا ذمہ دار قرار دياجائے كيونكہ ان پر الزام آرہا تھا كہ انہيں سب سے زيادہ عثمان كے قتل كئے جانے پر اصرار تھا

حضرت على (ع) نے دو موقعوں پر معاويہ كو سخت قصور وارقرار ديا كيونكہ عثمان كے قتل كو اس نے سازش نيز حضرت علي(ع) كى اسلامى حكومت ميں رخنہ اندازى كى غرض سے بطور آلہ كار استعمال كرنا چاہاتھا _ اس لئے اس قتل پر وہ بہت زيادہ رنج و افسوس ظاہر كر رہا تھا اور اپنے مفاد كى خاطر وہ مظلوم خليفہ كے خون كا قصاص لينے كيلئے لوگوں ميں اشتعال پيدا كر رہا تھا