بيعت كے بعد لوگوں ميں سرور و شادماني

حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے بعد لوگ انتہائي خوش و خرم تھے كيونكہ انہوں نے رسول خدا(ص) كے ہاتھ پر بيعت كى تھى

بيعت كے بعد لوگوں ميں جو باطنى خوشى و مسرت تھى اسے حضرت على (ع) نے اس طرح بيان فرمايا ہے : ميرے ہاتھ پر بيعت كرنے كے بعد لوگوں كى مسرت و شادمانى كا يہ حال تھا كہ بچے تك وجد و سرور ميں آگئے تھے _ ضعيف العمر لرزتے ہوئے پيروں سے چل كر ' بيمار دوسروں كے كاندھوں پر سوار ہو كر ميرے پاس آئے اور جو لوگ معذور تھے ان كى دلوں ميں مجھ تك پہنچنے كى حسرت ہى رہ گئي عام لوگوں كى خوشى و مسرت كے علاوہ بعض بزرگ صحابہ رسول(ص) ايك دوسرے كے بعد عوام ميں تشريف لائے اور انہوں نے بھى تقارير كے ذريعے اپنى دلى مسرت كا اظہار كيا اس ضمن ميں انہوں نے عوام كو دعوت دى كہ وہ عہد و پيمان پر مضبوطى سے قائم رہيں اور نئي حكومت كو تقويت بخشيں جن لوگوں نے اس موقعے پر تقارير كيں ان مےں سے بعض كے نام درج ذيل ہيں _

:1  انصار كے نمائندہ ثابت بن قيس نے كہا : يا اميرالمو منين خدا كى قسم اگرچہ دوسرے لوگوں كو خلافت كے لحاظ سے آپ پر سبقت حاصل ہے ليكن دين ميں وہ آپ پر برترى حاصل نہ كرسكے ... انھيں آپ كى ضرورت تھى ليكن آپ ان سب سے بے نياز رہے ''

2 : خزيمہ بن ثابت نے اس موقعے پر كہا : يا اميرالمومنين ہمارى نظر ميں آپ كے علاوہ كوئي ايسا نہيں جس كے ہاتھوں ميں اپنے معاملات كى لگام دے سكيں ...

ايمان ميں آپ كو سب پر برترى حاصل ہے خدا شناسى مےں آپ عارف كامل ہيں اور رسول خدا(ص) كے مقامات و مراتب كے سب سے زيادہ حق دار آپ ہى ہيں دوسروں ميں جو خصوصيات پائي جاتى ہيں وہ آپ ميں بھى موجود ہيں ليكن جو فضائل و كمالات آپ كى ذات ميں ہيں ان سے وہ محروم ہيں

3 :صعصعہ بن صوحان نے كہا : يا اميرالمو منين مقام خلافت نے آپ كى ذات كے ذريعے بنت و رونق پائي ،خلافت كو آپ كى ضرورت ہے اور آپكو اس كى ضرورت قطعى نہيں