قريش كى وحشت و پريشاني

قريش اور حق سے روگرداں وہ تمام لوگ جنہوں نے عثمان كے عہد ميں حكومت مےں خاص مراعات حاصل كر لى تھيں حضرت على (ع) كے دورخلافت ميں بہت مضطرب و پريشان ہوئے چنانچہ ان كے لئے اس كے سوا كوئي چارہ كار نہ تھا كہ سرتسليم خم كرديں كيونكہ اب رائے عامہ اميرالمومنين حضرت علي(ع) كے ساتھ تھى اور وہ لوگ كسى ايسى راہ پر گامزن نہيں رہ سكتے تھے جو اسلامى معاشرے كے منافى ہو اسى لئے انہوں نے حضرت علي(ع) كے دست مبارك پر بيعت كر لى ليكن ان كے دلوں ميں كدورت ابھى تك باقى تھى جس كى وجہ يہ تھى كہ حضرت علي(ع) كى تلوار نے بہت سے مشركين قريش اور كفار كے سرتن سے جدا كئے تھے

اس كے علاوہ وہ يہ بھى جانتے تھے كہ حضرت على (ع) كى حكمت علمى اس بات كو ہرگز برداشت نہيں كر سكتى كہ بيت المال كو غارت كيا جائے

قريش كے دلوں ميں حضرت على (ع) كے خلاف جو كينہ و دشمنى كے جذبات تھے ان كے بارےميں ابن ابى الحديد لكھتا ہے : اگرچہ پيغمبر اكرم(ص) كى رحلت سے اس وقت تك كافى عرصہ گذر چكا تھا مگر قريش كے دلوں ميں ان (ع) كے خلاف اس قدر بغض و كينہ تھا كہ كسى طرح كم نہيں ہوتا تھا يہى نہيں بلكہ اس كينہ و عداوت كو انہوں نے اپنے بچوں تك كے ذھنوں پر نقش كر ديا