ربذہ ميں قيام

حضرت على (ع) نے ربذہ ميں چند روز قيام فرمايا اس عرصے ميں مدينہ سے كچھ انصار جن ميں خزيمہ بن ثابت اور تقريباً چھ سو طائفہ طى كے منظم سوار اميرالمومنين حضرت على (ع) كے لشكر سے متصل ہوگئے

عثمان بن حنيف بھى دشمنوں كے چنگل سے نجات پانے كے بعد ربذہ ميں حضرت على (ع) سے آن ملے انہوں نے حضرت على (ع) سے ملاقات كرنے كے بعد كہا يا اميرالمومنين (ع) جس روز آپ نے مجھے روانہ كيا تھا اس وقت ميرى داڑھى بہت گھنى تھى ليكن آج ميں آپ كى خدمت ميں ايك بے ريش نوجوان كى صورت ميں حاضر ہوا ہو ... حضرت على (ع) نے انہيں صبر كى تلقين كى اور ان كے لئےدعا فرمائي

اسى طرح اميرالمومنين حضرت على (ع) نے ہاشم مرتال كو خط دے كر حاكم كوفہ كى جانب روانہ كيا تاكہ اس سے پہلے كہ طلحہ اور زبير وہاں پہنچيں وہاں كے گورنر كى عسكرى مدد حاصل كرلى جائے   ليكن موسى اشعرى حاكم كوفہ نے صرف حضرت على (ع) كے نمايندے سے سيدھے منہ بات نہ كى بلكہ حضرت على (ع) كے خط كو بھى انہوں نے غايب كرديا اورہاشم مرتال كو يہ دھمكى دى كہ وہ انہيں قيدى بناليں گے انہوں نے كوفہ كے لوگوں كو بھى سختى سے منع كرديا اور كہا كہ حضرت على (ع) كى مدد نہ كريں  گورنر كى حيثيت سے اعلان كيا كہ اگر جنگ كى نوبت آئي تو پہلے وہ عثمان كے قاتلوں كے خلاف جنگ كريں گے اور اس كے بعد وہ دوسروں كى طرف متوجہ ہوں گے  حضرت على (ع) كے نمايندے نے ان تمام واقعات كى اميرالمومنين (ع) كو خبر كى

يہ خط حضرت على (ع) كو ''ذى قار'' نامى مقام پر موصول ہوا

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے اپنے فرزند عزيز حضرت امام حسن (ع) اور حضرت عمار ياسر كو اپنے پاس بلايا اور ان دونوں حضرات كو اس كام پر مقرر كيا كہ اہل كوفہ كے لئے وہ خط لے كر روانہ ہوں اور وہاں پہنچ كر وہاں كے لوگوں كو مدد كيلئے آمادہ كريں

حضرت على (ع) نے خط ابوموسى كو بھى لكھا اور انہيں ان كے منصب سے معزول كرديا _ اميرالمومنين (ع) نے اس خط ميں لكھا تھا كہ انہوں نے اپنے موقف كا صحيح استعمال نہيں كيا اور اسى بنا پر انہيں سخت تنبيہہ بھى كى اس كے علاوہ حضرت على (ع) نے مالك اشتر كو ان كے پيچھے روانہ كيا

حضرت امام حسن (ع) اور حضرت عمار (ع) نے كوفہ پہنچنے كے بعد حضرت على (ع) كا خط وہاں كے لوگوں كو سنايا اور اس سلسلے ميں تقارير بھى كيں   حضرت على (ع) كى تحرير اور حضرت امام حسن (ع) اور حضرت عمار (ع) كى تقرير كا اثر يہ ہوا كہ اہل كوفہ ان كے گرويدہ ہوگئے اور انہوں نے اميرالمومنين حضرت على (ع) كے ساتھ خلوص نيت اور اظہار محبت كيا اور ان كے فرمان كے آگے سر تسليم خم كرديا

حضرت امام حسن (ع) نے ابوموسى كى معزولى كا بھى اعلان كيا اور ان كى جگہ قرظة بن كعب'' كو گورنر مقرر كيا
اميرالمومنين حضرت على (ع) كے نمايندے كى سعى و كوشش اور بصيرت افروز تقارير كے باعث كچھ لوگوں نے اپنى رضامندى كا اعلان كرديا چنانچہ چند روز بعد تقريباً سات ہزار افراد ''ذى قار'' ميں حضرت على (ع) سے جاملے   حضرت امام حسن (ع) كى كاميابى پر حضرت على (ع) بہت مسرور ہوئے اور انہوں نے اپنے فرزند دلبند سے اظہار تشكر كيا