لشكر كا جاہ وجلال

اميرالمومنين (ع) حضرت على (ع) كا وہ مسلح وعظےم لشكر جو مدينہ اور كوفہ ميں جمع ہوا تھا اور بصرہ كے نواح ميں قيام پذير تھا اس لشكر كے بارے ميں منذر بن جارود نے لكھا ہے كہ ميںشہر بصرہ سے باہر نكل كر آيا تاكہ حضرت على (ع) كے لشكر كا نظارہ كرسكوں

اس وقت وہاں ہزار مسلح سوار موجود تھے اور ابو ايوب انصارى تنو مند گھوڑے پر سوا ران كے پيش پيش چل رہے تھے_ ان كے علاوہ بھى وہاں دوسرے عسكرى دستے تھے جن ميں ہر دستہ ہزار مسلح افراد پر مشتمل تھا اور دستوں كى كمانڈرى خزيمہ بن ثابت ، ابو قتادہ عمار ياسر، قيس بن سعد اور عبداللہ بن عباس جيسے جليل القدر صحابہ رسول (ص) كرتے تھے اور يہ تمام دستے ابو ايوب كى فوج كے پيچھے چل رہے تھے_

انہى جنگجو دستوں ميں ايك دستہ حضرت على (ع) كى زير قيادت ديگر تمام دستوں سے آگے چل رہا تھا _ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے دائيں بائيں حضرت امام حسن (ع) اور حضرت امام حسين (ع) چل رہے تھے اور ان كے آگے حضرت على (ع) تا ديگر فرزند محمد بن حنفيہ پرچم ہاتھ ميں لئے چل رہے تھے  عبداللہ ابن جعفر ،حضرت على (ع) كے پيچھے تھے ان كے علاوہ عقيل كے فرزند اور بنى ہاشم كے نوجوانوں نے حضرت على (ع) كو انگشترى كے نگينہ كى طرح اپنے درميان لے ركھا تھا   كچھ معمر بدرى بزرگ (مہاجر و انصار ) بھى ان ہى دستوں ميں نظر آرہے تھےبصرہ پہنچنے سے قبل حضرت على (ع) نے ''زاويہ'' نامى جگہ پر قيام فرمايا اور يہاں چار ركعت نماز ادا كى نماز سے فارغ ہونے كے بعد آپ نے دوبارہ سجدہ كيا اور اس قدر گريہ و زارى كى كہ آنكھوں سے آنسو جارى ہوگئے پھر دعا كے لئے ہاتھ آسمان كى طرف اٹھائے اور عرض كى ... خداوند تعالى اس جماعت نے ميرے حكم كى نافرمانى كركے مجھ پر ظلم كيا ہے يہ لوگ بيعت سے منحرف ہوگئے ہيں  اے خدا اب تو ہى مسلمانوں كى حفاظت فرما