فيصلہ كن جنگ

سرداران سپاہ كى اشتعال انگيز تقارير پر تيس ہزار سے زيادہ افراد پر مشتمل مسلح لشكر كى تيارى ' بعض سرداران قبائل كے نام تحرير و زبانى پيغام رساني، مختلف شہروں كے لوگوں كى شورش و سركشى ميں شركت ودعوت ، لشكر كشى كے ذريعے بصرہ پر قبضہ ، وہاں كے بعض مسلمانوں كا قتل اور ان كى شكنجہ كشى ايسے قرائن وشواہد ہيں جو اس پر دلالت كرتے ہيں كہ مخالف سرداروں ، گورنروں كا كشت وخون كا مقصد اميرالمومنين حضرت على (ع) كى حكومت كو سرنگوں كرنے كے علاوہ كچھ نہ تھا ان حالات ميں حضرت على (ع) كے ہمدردانہ پند ونصايح اور صلح پسندانہ اقدامات كا ان كے دلوں پر اثر نہ ہونا فطرى تھا اسى لئے انہوں نے پہلے تو حضرت على (ع) كى لشكر كى جانب تير اندازى كى اس كے بعد چند سپاہيوں كو قتل كركے دائيں اور بائيں جانب سے حملہ شروع كرديا

اميرالمومنين (ع) حضرت على (ع) نے پرچمدار لشكر محمد حنفيہ كو حكم ديا كہ دشمن كى فوج كے قلب پر حملہ آور ہوں ليكن مسلسل تير اندازى كے باعث انكى نظروں كے سامنے چونكہ اندھيرا سا چھاگيا تھا اسى لئے حملہ كرنے ميں انہيں تردد ہوا اس پر حضرت على (ع) نے فرمايا كہ پيشقدمى كيوں نہيں كرتے ؟ محمد حنفيہ نے اس كى وجہ بتائي_

اس پر حضرت على (ع) نے پرچم ان كے ہاتھ سے لے ليا اور خود ہى غرائے شير كى مانند دشمن پر حملہ كرديا، حملہ كرنا تھا كہ دشمن كا لشكر اس طرح منتشر ہوگيا گويا تند و تيز ہوا كے جھونكے نے گرد وخاككو ادھر ادھر بكھير ديا ہو  

اس موقع پر ''ازد بنى ناجيہ'' اور'' بنى ضبہ'' جيسے عرب قبائل اونٹ كے گرد جمع ہوگئے جس پر لشكر كا كمانڈر سوار تھا اور بھڑكى ہوئي جنگ ميں غير معمولى فداكارى كا مظاہر كيا

خلاف معمول عائشےہ كے لشكر كے ساتھ پرچم نہ تھا البتہ پرچم كى جگہ لشكر سے آگے آگے اونٹ (جمل) چل رہا تھا اور يہى گويا ان كا پرچم تھا  اور اسى سے ان كے سپاہيوں كى حوصلہ افزائي ہو رہى تھى اور جب تك يہ اونٹ اپنى جگہ قائم رہا دشمن نے خود ميں كسى قسم كى كمزورى يا شكست محسوس نہ كى

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے مالك اشتر كو حكم ديا كہ وہ دشمن كے بائيں بازو پر حملہ آور ہوں اور انہوں نے جسے ہى ميسرہ پر حملہ كيا لشكر دشمن كى صفيں يك لخت منتشر ہوگئيں اور انہوں نے اپنى عافيت راہ فرار ميں سمجھي

اب جو لشكر باقى رہ گيا تھا وہ حسب سابق ''اونٹ'' اوراس كے سوار كا دفاع وتحفظ كر رہا تھا _ فطرى طور پر اميرالمومنين حضرت على (ع) كى سپاہ نے بھى اپنى پورى طاقت اسى حصہ پر لگادى تھى _ چنانچہ اس ''اونٹ'' كے گرد شديد خونى جنگ شروع ہوگئي

سرگردنوں سے جدا ہو كر ، ہاتھ جسموں سے كٹ كٹ كر فضا ميں بكھر رہے تھے نوك شمشير مسلسل دشمن كے شكموں كو چاك كئے جارہى تھيں مگر اس كے باوجود عائشےہ كے سپاہى اس اونٹ ''جمل'' كى حفاظت آہنى فصيل كى مانند كر رہے تھے انہوں نے اس اونٹ كو اپنے حلقہ مےں لے ركھا تھا اور اس كا سختى سے دفاع كيا جارہا تھا_

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے سمجھ ليا كہ جب تك يہ اونٹ اپنے پيروں پر كھڑا رہے گا جنگ كا خاتمہ نہ ہوگا اس پر آپ (ع) نے اپنے لشكر كو مخاطب كرتے ہوئے فرمايا كہ اس اونٹ كى ٹانگيں كاٹ دو كيونكہ جيسے ہى يہ اونٹ زمين پر گرے گا دشمن كا لشكر منتشر ہوجائے گاحضرت على (ع) كے فرمان كے مطابق تلواريں بلند ہوئيں او ہر طرف سے تيروں كى بارش جمل كى جانب ہوگئي يہاں تك كہ تيروں كے پھل اس اونٹ كے پورے بدن ميں اتر گئے_

جن لوگوں نے اونٹ كى مہار اپنے ہاتھوں ميں سنبھال ركھى تھى وہ يكے بعد ديگرے زمين پر گرنے لگے ان ميں سب سے پہلے گرنے والا بصرہ كا مشہور و معروف قاضى ''كعب بن سور'' تھا اس نے قرآن مجيد اپنى گردن ميں حمايل كر ركھا تھا اس كے ايك ہاتھ ميں عصا اور دوسرے ميں اونٹ كى مہار اس كے بعد قريش نے پيش قدمى كى اور انہوں نے بھى مہار كو اپنے ہاتھ ميں تھاما يہاں تك كہ ستر افراد نے يكے بعد ديگرے دفاع كى خاطر جان دے دى ، قريش كے بعد بنى ناجيہ، بنى ضبہ اور ازد قبائل كے لوگوں نے بالترتيب اس كے مہار كو سنبھالا ليكن وہ بھى قتل ہوئے مختصر يہ كہ بقول زبير جس نے بھى اس اونٹ كى مہار كو تھاما وہ فوراً ہى مارا گيا

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے ان گروہوں كے ہمراہ نخعى اور ہمدانى قبائل كے حامى و طرفدار تھے مركزى نقطے كى جانب شدت سے حملہ كركے دشمن كو منتشر و متفرق كرديا اور بجير نخعى سے فرمايا كہ اس وقت يہ اونٹ تمہارے دست اختيار ميں ہے اس كى ٹانگوں كى رگيں كاٹ دو ، بجير نے شمشير سے اس پر حملہ كيا اونٹ زور سے چيخا اور زمين پر گر پڑا جب وہ زمين پر گر گيا تو باقى لشكر بھى فرار ہوگيا_

اميرالمومنين حضرت على (ع) كے سپاہيوں نے آپ (ع) كے حكم سے عائشےہ كے كجاوہ كو ايك طرف منتقل كيا پہلے تو اس اونٹ كو مار كر جلايا اور پھر اس كى راكھ كو فضا ميں منتشر كرديا

حضرت على (ع) نے اپنے اس حكم كے ثبوت نيز اس كى تائيد ميں كتاب خدا سے استشہاد پيش كرتے ہوئے فرمايا كہ اے لوگو يہ اونٹ بنى اسرائيل كے بچھڑے كى طرح منحوس و فتنہ انگيز حيوان تھا اس كے بعد آپ نے اس آيت كى تلاوت كى جو حضرت موسى (ع) نے سامرى سے خطاب كرتے ہوئے پڑھى تھى

اپنے اس خدا كو ديكھو جس كى تم پرستش كرتے ہو كہ ہم اسے كس طرح جلاتے ہيں اور پھر اس كى راكھ كو دريا ميں بہاديں گے اور اس طرح جنگ جمل تمام ہوئي ، حضرت على (ع) كى حكومت كو ابھى چھ ماہ كا عرصہ بھى نہيں گزر ا تھا كہ يہ جنگ آپ پر مسلط كردى گئي اور ماہ جمادى الاخر سنہ 36 ھ ميں '' ناكثين'' كى مكمل شكست پر اس كا مكمل طور پر خاتمہ ہو گيا اور جانبين كا كثير جانى و مالى نقصان ہوا _