عام معافی

دشمن پر غلبہ حاصل كرنے كے بعد حضرت علي(ع) نے حكم ديا كہ جنگ سے قبل جو حكم ديا گيا تھا اسے سپاہيوں كے سامنے دوبارہ پڑھا جائے

اس كے ساتھ ہى اعلان كيا گيا كہ كسى ايسى عورت سے جس كا شوہر جنگ ميں مارا گيا ہے فورا نكاح نہ كيا جائے بلكہ اسے موقع ديا جائے كہ عرصہ عدت كو پورا كرے

عائشہ كے سلسلہ ميں بالخصوص محمد بن ابى بكر كو حكم ديا گيا كہ وہ اپنى بہن كے پاس جائيں اور ان كى دلجوئي كريں اگر ان كو تير لگا ہو يا جسم پر زخم آيا ہو تو اس كا علاج كر ديا جائے محمد كے جانے كے بعد حضرت على (ع) بذات خود عا يشہ كى خدمت ميں تشريف لے گئے اور عصا سے عا يشہ كے كجادہ كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا كہ اے حميرا كيا رسول خدا(ص) نے تمہيں يہى كرنے كا حكم ديا تھا ؟ كيا آنحضرت نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ تم اپنے گھر مےں بيٹھنا خدا كى قسم جو تمہيں گھر سے نكال كر باہر لائے ہيں انہوں نے تمہارے ساتھ انصاف نہيں كيا انہوں نے اپنى خواتين كو پس پردہ بٹھا ديا اور تمہيں وہ ميدان جنگ ميں لے آئے _

اس كے بعد آپ(ع) نے ان كے بھائي كو حكم ديا كہ وہ عا يشہ كو حرث بن ابى طلحہ كى بيٹى صفيہّ كے پاس لے جائےں جہاں چند روز آرام كريں جب حالات معمول پر آگئے تو حضرت علي(ع) نے عبداللہ بن عباس كو اس كام پر مقرر كيا كہ وہ عا يشہ كے پاس جائيں اور انھيں مدينہ واپس چلنے كے لئے آمادہ كريں

عائشہ نے اگرچہ شروع ميں تو چلنے سے انكار كيا مگر جب ابن عباس نے ان سے بار بار كہا اورانھيں يہ بتايا كہ حضرت علي(ع) نے فيصلہ كر ليا ہے كہ آپ كو مدينہ لے جايا جائے تو مجبورا وہ تيار ہو گئيں
اميرالمومنين حضرت على (ع) نے عا يشہ كے سفر كى تيارى شروع كى اور انھيں انكے بھائي عبدالرحمن ' تيس سپاہيوں اور قبيلہ القيس و ہمدان كى بيس عورتوں كى نگرانى ميں مدينہ كى جانب روانہ كى ان سب نے عائشےہ كى انتہائي خدمت كى اور ان كے ساتھ پورے اعزاز و احترام كا سلوك كيا  يہاں يہ بات بھى قابل توجہ و ذكر ہے كہ حضرت علي(ع) نے عائشےہ كى پورى حفاظت اس بنا پر كى كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ انھيں كہيں راستے مےں كوئي گزند پہنچے حضرت علي(ع) كى جانب سے عا يشہ كے تحفظ كا مقصد يہ بھى ہو سكتا ہے كہ زوجہ مطہرہ رسول(ص) كے مرتبہ كا پاس كر كے ان كا مقصد مقام رسالت كا احترام كيا جائے اس كے علاوہ حضرت على (ع) كو يہ خدشہ تھا كہ اگر عائشہ كا قتل ہو گيا تو كہيں ايسا فتنہ بپانہ ہو جائے جو عثمان كے قتل كى وجہ سے رونما ہوا تھا چنانچہ عمر و عاص نے جنگ كے بعد عائشےہ سے كہا تھا كہ : اے كاش تم جنگ ميں قتل كر دى گئي ہوتيں عا يشہ نے اس كا مطلب دريافت كيا تو اس نے كہا كہ اگر تم مارى جاتيں تو جنت ميں جاتيں اور ہم اس مسئلے كو حضرت على (ع) كے خلاف حملہ كرنے كا اہم ترين بہانہ بناليتے