ادارتی کمیٹی

مینجمنٹ(ادارتی کمیٹی) کی رکنیت کی شرائط:۔شق(۱۰)

۱)عراقی اورمادری مدری مسلمان ہونا چاہیے جو شیعہ اثناءعشری اور تابع اہل البیت ؑ ہو اور عمر کے لحاظ سے ۴۰ سال سے کم نہ ہو۔

۲)مخلص،باخبر،بااخلاق ،پاکدامن اور نیک نام ہو ( یعنی لوگوں میں اسکا اجتماعی تصور نیک ہو )

۳)گریجویشن یا حوزہ علمیہ کی طرف سے اس کے معادل ڈگری کاحامل ہو۔

۴)کسی قانونی یا اخلاقی جرم کا مرتکب نہ ہو۔

۵)کسی سیاسی تحریک ،پارٹی ،ونگ،یااجتماع کاحصہ نہ ہو۔

۶)اسکا مقام ولادت اور مسکن نجف اشرف ہونا چاہیے۔

۷)کمیٹی میں رکنیت کی مدت ۳ سال ہے جو قابل تجدید ہے اور اسکا اطلاق تقرری کےلیے کی جانے والی میٹنگ کے دن سے ہو گا۔

شق(۱۱)اجلاس:۔

۱)۔ادارتی کمیٹی کا اجلاس اس کے مرکزی ہال میں منعقد ہوتا ہے جسے حسب ضرورت کسی بھی دوسری جگہ منعقد کیا جا سکتا ہے۔

۲) ارکان کمیٹی کی تقرری کے لیے ان کے انٹرویو کے بعد مدیر کی جانب سے مرکزی اجلاس سات دن کے اندر طلب کیا جا سکتا ہے۔

۳)کمیٹی ایک منطم ٹائم ٹیبل کے مطابق اپنے اجلاس کی تاریخیں معین کرتی ہے جو ایک ماہ میں کم از کم دومرتبہ منعقد ہوتا ہے۔

۴)ہر اجلاس کی کاروائی ایک خاص مسوّدے پر درج کی جاتی ہے جس پر اس میں شریک تمام ارکان اور مدیر دستخط کرتے ہیں اور اس کے ہر صفحہ پر حرم مطھر کی مہر کگائی جا تی ہے ۔

۵)اجلاس میں کسی حوالے سے اختلاف رائے رکھنے والے رکن کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اپنی اختلافی رائے کو خطی شکل میں اجلاس  کی کاروائی میں تحریر کرے۔

۶)کمیٹی کے سیکٹری کی ذمہ داری ہوتی ہےکہ کمیٹی کے رسائل ،فیصلوں کے نفاذ کی رپورٹ اور نتائج سے کمیٹی کو آگاہ رکھے۔

۷) کمیٹی کا قانونی کورم اس کےتین چوتھائی اراکین کی شرکت سے پورا شمار کیا جاتا ہے جن میں حرم کے مدیر عام اور نائب مدیر شامل ہوں اور فیصلے کمیٹی کی اغلب حمایت کو مدنظر رکھ کر لیے جاتے ہیں لیکن اگر کسی فیصلے کے حق او مخالفت میں برابر حمایت کی صور پیش آجائے تو جس طرف مدیر عام ہوں اسے ترجیح دی جاتی ہے۔

۸)بعض اوقات کسی اضطراری درخواست یا طلب کی صورت میں کمیٹی کا اجلاس اپنے مقررہ ضابطے سے ہٹ کراستثنائی صورت میں بھی طلب کیا جاسکتا ہے جس میں فقط اس درخواست کے معین موضوعات پر ہی بحث کی جاتی ہے ۔ایسا اجلاس چند درج ذیل صورتوں میں طلب کیا جا سکتا ہے۔

 ۱)صدرکمیٹی کی درخواست پر۔

۲)ادارتی کمیٹی کے مدیر کی درخواست پر۔

۳) مدیر عام حرم امیر المومنین علیہ السلام یا ان کی عدم موجودگی مین ان کے نائب کی درخواست پر۔

۴)تین ارکان کمیٹی کی مدیر عام کو پیش کی جانے والی درخواست پر۔

۹)اجلاس کی صدارت حرم مطھر کے مدیر عام یا ان کی عدم موجودگی مین ان کے نائب کرتے ہیں۔

شق(۱۲)

کمیٹی کی صلاحیات اور مقاصد:۔

۱)حرم مطھر امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ خاص سیاسی معاملات ،منصوبہ جات اور اداری ،مالی اور ثقافتی برنامجات کی تعین اور تدبیر تاکہ ایک مخصوص نظام کے تحت مطلوبہ اہداف حاصل کے جا سکیں۔

۲) داخلی انتظامات کی بہتری کے لیے بحث اور فیصلہ جات اور حرم کے معاملات اور انتظامات کے متعلق خصوصی معلومات کی فراہمی۔

۳)سالانہ بجٹ ۔سرمایہ کاری اور آڈٹ کے معاملات پر بحث اور میٹنگ۔

۴) حرم مطھر کے اموال کی بہتر صورت میں سرمایہ کاری کی تعلیم اور فیصلہ جات۔

۵)حرم کے شعبہ جات اور کمیٹیوں کے مدیران کی تقرری اور کاکنان سے ملاقاتیں۔

۶) حرم کے شعبہ جات کی تجدید ،ان میں سے تبدیلی ،بندش یا کسی نئے شعبے کا قیام اور ان کے مقاصد اور ذمہ داریوں کا حسب ضرورت تعین ۔

۷)نظام اور قانون کے مطابق حرم مطھر کے کارکنان کی امداد ،پشت پناہی اور ان کے مخصصات کی فراہمی ۔

۸)حرم مطھر سے متعلق بعض ضروری امور کی تکمیل اور ادائیگی میں عراق یا اس سے باہر کے ماہرین اور مشاورین سے مدد کا حصول اور انکی خدمات کے بدلے رائج قوانین کے مطابق مناسب معاوضہ جات کی تعین۔

۹) مصلحت کے مطابق حرم علوی کو پیش کئے جانے والے ہبہ جات ،اوقاف،ہدایا اور دیگر اشیاء کو قبول یا مسترد کرنا۔

۱۰) حرم کے تحت کام کرنے والے تمام شعبہ جات کی نگرانی اور انتظامات کی دیکھ بھال۔

۱۱)نفاذ کمیٹی کے صدر کی تقرری یا معزولی۔

۱۲)حرم مطھر کے کسی شعبے کے صدر یا کارکن کے استعفیٰ ،معزولی ،معافی ،اخراج ، علیحدگی یا خدمات سے منع کرنے جیسے امور کی نگرانی ،

۱۳) قانونی تصرفات کا اجرا ءاور دیگر قانونی معاہدوں اور کاروائیوں کی تمدید اور انہیں حتمی شکل دینا۔

۱۴) ارکان کمیٹی میں ذمہ داریوں کی تقسیم۔

۱۵)نفاذ کمیٹی کے صدر کو ادارتی کمیٹی کی جانب سے مناسب اختیارات کی سپردگی ۔

۱۶)شعبہ جات میں باہمی اور داخلی تنازعات میں فیصلہ کرنا۔

۱۷)یومیہ حسابات ،میزانات اور اخراجات پر نگران کی تقرری جو براہ راست کمیٹی کے تابع ہو۔

۱۸)تمام موارد اور موجودہ معاملات مین مالی ،نقدی یا سرمایہ کارانہ معاملے میں نظام اور شریعت مقدسہ کے احکامات کے مطابق تعامل کرنا۔

۱۹)متعلقہ اداروں سے اجازت کے بعد نظام کے مطابق حرم کے زیر انتظام کسی بھی کمپنی یا کمیٹی کا قیام ۔

۲۰) تعلیمی اور تحقیقی مراکز کا قیام اور اسی طرح دیگر فکری ،ثقافتی اور علمی مراکز ،یونیورسٹیز،کالجز ،سکولز مکتبہ جات اور سینٹررکا قیام اور کتب ،مجلات ،سلسلہ وار جرا ئد ،اخبار اور دیگر صحافتی مواد کی طباعت اور نشر کے ساتھ ساتھ کتب ،عجائبات اور نذورات کی نمائشوں اور حرم کے حوالے سے مکالمات کا انعقاد کرنا۔

۲۱) حرم کی کسی داخلی کمیٹی یا شعبہ کا کسی بھی وقت اور کسی بھی مقصد کے تحت حسب ضرورت اجلاس طلب کرنا۔

۲۲)حرم اور اس کے ماتحت دیگر اوقاف کے حق میں یا بر خلاف دائر کیےجانے والے دعووں کا عدلیہ اور حکومتی یا دیگر غیر حکومتی (طبعی یا معنوی)حکام کے سامنے جواب دینااور اپنا موقف واضح کرنا۔

۲۳)کمیٹی کے کسی ایک رکن ،نفاذ کمیٹی کے کسی ایک فرد یا حرم کے دیگر کارکنان میں کسی ایک فرد یا پورے وفد کا تقرر کرناجو تمام حکومتی اورداخلی حکام کے سامنے اپناموقف واضح کریں۔

۲۴)حرم میں داخلی طور پر ایسے نوٹسز کا اجرا جن میں کارکنان کی شروط ،ان کی تنخواہوں کی تقرری،ان کی ذمہ داریوں کا تعین اور ممنوع اور حرام کاموں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مذاہب سزاؤں کی تفاصیل مذکور ہوں۔

۲۵)آئین میں تبدیلی ،بہتری ،اضافہ یا کسی بھی شق یا فقرے کی کمی کا مکمل اختیار اور ذمہ داری ۔

۲۶)آئین میں مذکورہ کسی بھی ہدف کے بہتر حصول کےلئے ہر قسم کے اقدامات کرنا جن سے شریعت مقدسہ اور قوانین مقررہ کی مخالفت لازم نہ آتی ہو۔

شق (۱۳)

مدیر عام حرم مطھر علوی کی مدیریت کا اختتام۔

کمپنی کے رئیس اور صدر کی صدارت درج ذیل صورتوں میں ختم ہو جاتی ہے۔

۱)آئین کی شق نمبر۹ قانون نمبر ۲ کے تحت مقرر مدت صدارت ختم ہو جائے۔

۲)استعفیٰ جس پر کمیٹی کے اکثر افراد ،مدیر اور مرجع کی موافقت ہو۔

۳) اگر وہ کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے جو شرف کے خلاف ہو عدالت اس کے خلاف حتمی فیصلہ کر دے۔

۴)اگر وہ بغیر کسی شرعی عذر کے لگا تار دو اجلاسوں یا اجتماعی طور پر دو ماہ میں چار اجلاسوں میں شرکت نہ کرے۔

۵)کوئی ایسا مانع یا معذوری درپیش آجائے جو اسے اپنی ذمہ داری اداکرنے سے عاجز کر دے۔

۶)اسکی اہلیت صدارت ختم ہو جائے۔

۷)خدانخواستہ اسکی وفات ہو جائے۔

شق(۱۴)

اگر کسی بھی وجہ سے مدیر عام کی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے یہ منصب خالی ہو جائے تو کمیٹی اپنے اراکین کے زیر نگرانی اپنا کام جاری رکھے گی اور نائب مدیر عہدہ سنبھال لیں گے۔

یہاں تک کہ مرجع کی موافقت کے ساتھ صدر نئے مدیر عام کا تعین کر دے۔

شق (۱۵)

کمیٹی کی رکنیت مندرجہ ذیل صورتوں میں ختم ہو جاتی ہے:۔

۱)دستورکی شق نمبر ۱۵ قانون نمبر۷ کے مطابق مدت رکنیت مکمل ہو جائے۔

۲)مدیر عام کسی کا استعفیٰ قبول کر لیں۔اور صدر اس کی تائید فرمادیں۔

۳)کوئی رکن کے خلاف شرف جرم کا ارتکاب کرے اور عدالت اسکے خلاف قطعی فیصلہ سنا دے۔

۴)اگر رکن کےبغیر کسی شرعی عذر کے دو یا دوماہ کے چار اجلاسوں میں شرکت نہ کرے۔

۵)کمیٹی کے تین چوتھائی اراکین کی جانب سے متفقہ طور پر کسی رکن کو کام کرنے سے روک دیاجائے۔

۶)کوئی ایسا مانع یا عذر پیش آئے جس کے سبب رکن اپنی ذمہ ادا کرنے سے عاجز ہو جائے۔

۷) اسکی اہلیت ختم ہو جائے۔

۸)اسکی وفات ہو جائے۔

شق (۱۶)

ارکان کمیٹی میں سے کسی کا منصب خالی ہونے کے ایک ماہ کے اندر مدیر عام صدر کی حمایت کے ساتھ کسی بھی اہل شخص کو اس منصب پر متعین کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

نفاذکمیٹی:۔

شق(۱۷)

یہ کمیٹی صدر اور مندرجہ ذیل شعبون کے سربراہان پر مشتمل ہوتی ہے:۔

۱)

۲)شعبہ اداری امور۔

۳)شعبہ امور دینیہ۔

۴)شعبہ مالی امور۔

۵)شعبہ تکنیکی و فنی امور۔

۶)شعبہ خدماتی امور۔

۷)شعبہ امور فکری و ثقافتی۔

۸) شعبہ تعلقات عامہ۔

۹)شعبہ تحقیقات و نگران داخلی۔

۱۰)شعبہ سیاحت دینیہ۔

۱۱)شعبہ امور نسواں۔

۱۲)شعبہ حفظ نظام حرم مطھر۔

شق (۱۸)

نفاذ کمیٹی کا صدر مجلس ادارۃ کا رکن ہونا چاہیے۔

شق(۱۹)

نفاذکمیٹی کے تحت کسی بھی شعبے کے مدیر یا صدر کا تعین مجلس ادارۃ کرے گی۔

شق(۲۰)

نفاذ کمیٹی براہ راست ادارتی کمیٹی سے مربوط ہو گی جو کہ حرم کے تمام عمومی امور کے نفاذ کی ذمہ دار ہے۔

شق(۲۱)

ادارتی کمیٹی کو کسی بھی شعبے کی تجدید یا تحلیل کا حق حاصل ہے۔

شق (۲۲)

ہر شعبے کا مدیر ادارتی کمیٹی کی مقرر کردہ شروط اور معیارات کے مطابق متعین کیا جائے گا جس کو اپنے متعلق امور میں مکمل مہارت کے ساتھ ساتھ پاکیزہ اخلاق ،استقامت اور اچھی اور نیک شہرت کا حامل ہو نا چاہئے۔

شق (۲۳)

نفاذ کمیٹی کے ذمے درج ذیل امور ہوتے ہیں:۔

۱)ادارتی کمیٹی کے فیصلوں کا نفاذ اور نگرانی۔

۲)

۳)اپنے زیر انتظام کام کرنے والی تمام کمیٹیوں اور شعبہ جات کے کارکنان کی فعالیت کا جائزہ اور نگرانی۔

۴)اپنے ماتحت شعبہ جات اور کمیٹوں کے فعال اور متمیزکارکنان کی مناسب انعام وکرام سے حوصلہ افزائی۔

۵)نظام اور ادارتی کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق حرم مطھر کی تعمیر و ترقی اور اداری امور کی اپنی تمام ترصلاحیات کے ساتھ انجام دہنی اور نگرانی۔

شق(۲۴)

(ایگزیکٹواتھارٹی)نفاذ کمیٹی کا اجلاس:۔

۱)اجلاس  ادارے کے مرکزی ہال میں منعقد ہوتا ہے جسے حسب ضرورت کمیٹی کی اجازت سے کسی بھی دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔

۲)نفاذ  کمیٹی کے صدر ادارتی کمیٹی کی طرف سے اس کے قیام عمل میں لائے کے سات دن کے اندر اجلاس طلب کرتے ہیں۔

۳)اجلاس کی صدارت کمیٹی کے صدر کرتے ہیں جبکہ ان کی غیر موجودگی میں مدیر عام حرم مطھر صدر اجلاس قرار پاتے ہیں۔

۴)نفاذ کمیٹی اپنے پہلے اجلاس میں ہی ایک منظم جدول کے تحت اپنے آئندہ تمام اجلاسات کا وقت معین کرتی جس میں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ہر ماہ کم از کم دوبارہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو گا جس کی کاروائی ایک مخصوص مسوّدے پر تحریر کر کے تمام اراکین اجلاس کے دستخط لے کر ۴۸ گھنٹے کے اندر ادارتی کمیٹی کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔

۵)اجلاس کا کورم کمیٹی کے تین چوتھائی اراکین کی شمولیت سے مکمل شمار ہو تا ہے۔

۶)کمیٹی اپنے فیصلے و وٹنگ کے ذریعہ طے کرتی ہے اور اگر ووٹنگ برابر ہے تو جس طرف کمیٹی کے صدر ہوں اسے ترجیح دی جاتی ہے۔

تیسری فصل:۔

حرم مطھر کے ذرائع مال /حرم کے مالی وسائل :۔

شق (۲۵)

حرم کے اموال درج ذیل ذرائع سے آتے ہیں۔

۱)پوری دنیا سے محبان امیر المومنین علیہ السلام  کی طرف سے آپکی بارگاہ اقدس میں پیش کئے جانے والے ہبہ جات،عطیات ،نذر ،مساعدات ،اوقاف اور وصیت کردہ اموال اور ان کے علاوہ حرم کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری کے منافع جات۔

۲)دیوان وقف شیعی (محکمۃ اوقاف الشیعہ) کی طرف سے حرم کا مخصوص حصہ ۔

۳) دستور کی شق نمبر ۳۶ احکام کے مطابق حرم کو ملنے والے اموال۔

چوتھی فصل:۔

شق(۲۶)

حتمی شرائط:۔

۱)حرم مطھر علوی کا شعار (من کنت مولاہ فعلی مولاہ) ہو گا۔

شق(۲۷)

کمیٹی کے اراکین میں سے کوئی بھی اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو نائب نہیں بنا سکتا۔

شق(۲۸)

شق(۲۹)

حرم مطھر میں ہنگامی اور خصوصی حالات یا صدر اور جنرل سیکٹری کی اجازت کے بغیر کسی بھی میت کی تدفین ممنوع ہے۔

شق(۳۰)

صدر کمیٹی کی اجازت کے بغیر حرم مطھر کی عمارات میں کسی قسم کی بھی بنیادی تبدیلی ممنوع ہے۔

شق(۳۱)

حرم مطھر کی ادارتی کمیٹی اموال کو مقررہ اہداف سے ہٹ کر کسی بھی جگہ خرچ نہیں کر سکتی۔

شق(۳۲)

حرم مطھر کا مالیاتی سال ہر سال جنوری سے شروع ہوتا ہے اور اس سا ل دسمبر کے آخر میں ختم ہوتا ہے سوائے اس سال کے جس میں شعبہ مالیات کی تاسیس ہوتی کیونکہ اس میں تاریخ تاسیس سے سال کا آغاز ہوا اور دسمبر کے آخر میں اس کی انتہا ہوئی۔

شق(۳۳)

حرم مطھر کو ملنے والی مملوکات ،اموال اور اوقاف مخصوص اداروں کے پاس قاعدہ طور درج کروائے جات ہیں۔

شق(۳۴)

حرم کو اموال وغیرہ ہبہ ،عطیہ یا ہدیہ کرنے والے کسی بھی فرد یا اس کے ورثا کو حرم کے اموال یا دیگر اشیا ءمیں سے اپنا حصہ یا حق مانگنے کی اجازت نہیں۔

شق(۳۵)

حتمی حسابات حرم محکمہ اوقاف الشیعہ اور مالی امور کے دفتر میں پیش کئے جاتے ہیں۔

شق(۳۶)

حرم مطھر کے تلف شدہ ،پرانے پھٹے ہوئے یا باقابل استعمال اموال کو مرجع کی اجازت کے ساتھ کمیٹی اپنے مقرر کردہ معیارات  اور ضوابط اعلانیہ طور پر بیچے یا اصلاح کرے گی اور اس کے نتائج ریونیو کے تحت درج کریگی۔

شق(۳۸)

یہ دستور مجلس اعلی ٰ سے تصدیق کے بعد نافذ العمل ہو گا اور اس کے تمام احکام  و قوانین حرم مطھر کے جملہ ملازمین کے لیے واجب العمل ہونگے۔

شق(۳۹)

تمام اراکین مجلس اعلیٰ اور حرم مطھر کے زیر دست تمام شعبہ جات کے صدور کے لیے کسی بھی ملازمتی فعالیت سے قبل اپنے تمام منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کو ظاہر کرنا ضروری ہے۔

اور اس کا سب ان تمام منفی آثار سے بچنا ہے جو ۲۰۰۵ کے دستور کے آرٹیکل (۱۹)میں پائے جانے والے اجمال کی وجہ سے سامنے آئے اور حرم مطھر کے تقدس اور احترام کو براہ راست خاطر خواہ نقصان پہنچایا ۔اس لئے تمام آثار کے ازالے او ر دیگر ہر حوالے سے حرم مطھر کے حقیقی مقام و منزلت کے اظہار ،جدید تصور ات کے مطابق اداری نظام کے حصول ،تمام تر قوت اور استعدادات کے ساتھ تعمیر و ترقی میں فعالیت اور دائرہ شریعت میں رہتے ہوئے مطلوبہ اہداف کی تکمیل کے لیے یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔

اس دستور کی تصدیق مجلس اعلیٰ کے ۱۲جمادی الاوّل ۱۴۲۷؁ بمطابق ۹/۶/۲۰۰۶؁ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں گی گئی ۔