دو سپاہ كے درميان جنگ و نبرد

حضرت على (ع) نے اگر چہ صلح كى ہر ممكن كوشش كى مگر اس كے باوجود ان ميں سے چار ہزار سے زيادہ خوارج باقى رہ ہى گئے_ وہ عبداللہ بن وہب كے زير فرمان اب بھى اپنے پر انے عقيدے پر پورى طرح قائم تھے اور الرواح الرواح الى الجنة(بڑھو جنت كى طرف) كے نعرے لگاتے ہوئے حضرت على (ع) كے لشكر پر حملہ آور ہوگئے

حضرت على (ع) نے بھى اپنى سپاہ كى صفين آراستہ كيں چنانچہ ميمنہ پر حجر بن عدى اور ميسرہ پر شبث بن ربعى كو متعين كيا_ سوار فوج كى فرماندارى ابو ايوب انصارى اور پيادہ لشكر كى ابوقتادہ كے سپرد كى قيس بن سعد كو مدينہ كے لوگوں كا سردار مقرر كيا ان كى تعداد بھى تقريبا آٹھ سوار افراد پر مشتمل تھى قلب لشكر ميں آپ بذات خود موجود رہے

تيراندازى خوارج كى جانب سے شروع ہوئي چنانچہ جب ايك شخص كو خون آلود حالت ميں آپ(ع) كے سامنے لايا گيا تو آپ (ع) نے فرمايا كہ حملہ كرو كيونكہ اب اس گروہ كا قتل كرنا ہمارے لئے جائز ہے

دونوں لشكر ايك دوسرے پر حملے آور ہوئے شروع ميں اگر چہ لشكر اسلام كے سوار فوج، دشمن كے سنگين حملے كے باعث اپنے مقام سے پيچھے ہٹ گئے اور پورى صف لشكر سے الگ ہوگئے خوارج اس پر تير كى تيزى سے حملے آور ہوئے وہ قلب لشكر پر حملہ كرنے كے ارادے سے آگے بڑھے ہى تھے كہ يكايك جنگ كا نقشہ ہى بدل گيا تير اندازوں كے اس دستے كو جو پہلے سے ہى اس مقام كى پشت پر متعين تھا جہاں سوار فوج كى جگہ مقرر كى گئي تھى انہيں اپنے تيروں كانشانہ بنايا اور اپنى طرف سے غافل و بے خبر پا كر ان پرحملہ كرديا يہ حملہ ايسا اچانك اور سخت تھا كہ ان كے لئے نہ آگے بڑھنا ممكن تھا اور نہ پيچھے ہٹنے كے لئے كوئي چارہ تھا خوارج كا خيال تھا كہ سوراوں كے لشكر نے ان كى طرح سے پشت كرلى ہے ليكن اس نے دائيں اور بائيں بازو كے پرے ساتھ لے كر انھيں اپنے درميان زنبور كى طرف نرغے ميں لے ليا اور دم شمشير و سرنيزے سے ان كى خوب خاطر و تواضع كى _ قلب لشكر اسلام كے درميان محاذ پر متعين دستے كو چونكہ ابھى تك كوئي نقصان نہيں پہنچا تھا وہ بھى ان كى سركوبى كرنے كى غرض سے حملہ آور ہوا سپاہ دشمن كے فرماندار عبداللہ بن وہب كے علاوہ ذوالثديہ ، اخنس طائي ، مالك بن وضَّاح و غيرہ جيسے ديگر فرماندار لشكر، حضرت على (ع) كى شمشير كے باعث ہلاك ہوئے

خوارج چونكہ سخت نرغے ميں آگئے تھے اسى لئے وہ اس ميں برى طرح پھنس گئے اور دو گھنٹے بھى نہيں گذر نے پائے تھے كہ وہ زمين پر اس طرح گرنے لگے جيسے خزاں كے دونوں ميں درختوں سے پتے گرتے ہيں گويا يہ بھى كوئي كن فيكون كى طرح تكوينى حكم تھاجس كے تحت ان سے كہا گيا كہ مرجاؤ اور وہ مرگئے چار ہزار افراد ميں سے صرف نوشخص يعنى شہدائے اسلام كى تعداد كے برابر اپنى جان بچا كر بھاگ گئے اور اس طرح امير المومنين حضرت على (ع) كى پيشيں گوئي صحيح ثابت ہوئي_

جنگ كے بعد

جنگ ختم ہوجانے كے بعد اميرالمومنين حضرت على (ع) نے حكم ديا كہ '' ذوالثديہ''كى تلاش و جستجو كريں(رسول خدا(ص) نے جنگ نہروان ميں مقتولين كى جو خصوصيات بتائيں تھيں وہ اس شخص ميں موجود تھيں حضرت على (ع) نے اس كى جستجو اس لئے كرائي تھى كہ حق كى روشن دليل اور تائيد اميرالمومنين حضرت على (ع) واضح ہوجائے)

سپاہى اس كى لاش تلاش كرنے كے لئے نكلے مگر ناكام واپس آگئے اس كے بعد اميرالمومنين حضرت على (ع) خود اس كى لاش نكالنے كے لئے تشريف لے گئے كچھ دير بعد اس كى لاش ديگر مقتولين كى لاشوں كے نيچے سے نكل آئي اسے ديكھ كر آپ مسرور ہوئے اور فرمايا اللہ اكبر ميں نے پيغمبر(ص) كى كوئي بات كبھى غلط نہ پائي رسول خدا(ص) نے فرمايا تھا كہ اس كاايك ہاتھ چھوٹا ہوگا جس ميں ہڈى نہ ہوگى اس كے ايك طرف پستان جيساگوشت كا گولہ ابھرا ہوا ہوگا جس پر پانچ ياسات بال اگے ہوئے ہوں گے جس وقت اميرالمومنين حضرت على (ع) نے يہ تمام خصوصيات ديكھيں تو آپ فورا سجدے ميں تشريف لے گئے اور خدا كا شكر بجالائے

اس كے بعد آپ(ع) گھوڑے پر سوار ہوئے اور مقولين كى لاشوں كے پاس سے گذرے اور فرمايا افسوس تمہارے اور اس كے حال پر جس نے تمہيں مغرور كيااور اس حال كو پہنچا ديا _دريافت كيا گيا كہ كس شخص نے انھيں مغرور كيا؟ آپ(ع) نے فرمايا شيطان اور نفس امارہ انھيں غرور كى جانب لے گيا آرزوں نے انھيں فريب ديئے نا فرمانياں انھيں حسين و جميل نظر آئيں اور فتح و نصرت كے وعدے نے انھيں اپنا فريفتہ كرليا

حضرت على (ع) نے وہ ہتھيار اور چوپائے جو ميدان جنگ ميں بطور مال غنيمت ہاتھ آئے تھے سپاہ كے درميان تقسيم كرديئے خوارج كے باقى سامان، ان كے كنيز و غلام و غيرہ كو كوفہ واپس آنے كے بعد ان كے وارثوں كے حوالے كرديا