اصل دشمن كى جانب توجہ

اميرالمومنين حضرت على (ع) نے خوارج كى سركوبى كے بعد جد وجہد كے اصل محاذ اور اسلام كے دفاع كى جانب رخ كيا اس جد و جہد كى خصوصيت و اہميت بتانے، معاويہ كے خلاف جہاد مقدس كى لشكر اسلام كو ترغيب دلانے اور عوام كو معاويہ كى حكومت كے عواقب و انجام سے باخبر كرنے كى غرض سے آپ(ع) نے تقرير كى اور فرمايا كہ اے لوگو جب فتنہ و فساد كى لہريں ہر طرف پھيل چكى تھيں اور اس كابحران اپنے انتہائي درجہ كو پہنچ چكا تھا اس وقت كسى ميں اتنى جرات و ہمت نہ تھى كہ ميدان كار زار ميں داخل ہو اس وقت ميں ہى ايسا شخص تھا جس نے اس فتنے كو خاموش كرديا ...ياد ركھو فتنوں ميں سب سے زيادہ بھيانك خطرہ بنى اميہ كے فتنے كا ہے يہ فتنہ سياہى اور اندھيرے كا فتنہ ہے اور جب اس كا سايہ پھيل جائے گا تو اس كى بلا خاص طور پر نيك لوگوں پر نازل ہوگي ... ان كے اذيت ناك مظالم تم پر سالہا سال تك جارى رہيں گے ان پر تمہارافاتح ہونا اتنا ہى اہم ہے جتنا غلاموں كا اپنے مالك پر غالب آنا يا پيروكاروں كا اپنے پيشوا پر غلبہ حاصل كر لينا ... اس وقت قريش يہ چاہيں گے ان كے پاس جو كچھ اس دنيا ميں ہے اسے خرچ كركے بس ايك بار اسے ديكھ ليں اگر چہ وقت چند ہے لمحات پر منحصر ہے بس اتنا ہے جتنا ايك اونٹ كو نحر كرنے ميں صرف ہوتا ہے آج وہ چيز جس كا صرف ايك حصہ ميں ان سے مانگ رہاہوں اور وہ نہ دينے پر بضد ہيں كل اسے مجھے دينے كے لئے اصرار كريں گے اور يہ چاہيں گے كہ ميں اسے قبول كرلوں