جنگ نہروان كے نتائج و عواقب

جنگ نہروان كا خاتمہ اگرچہ خوارج كى سركوبى پر ہوا ليكن اس كے جو نتائج پر آمد ہوئے وہ نہايت مضر اور اندوہناك ثابت ہوئے جن ميں سے بعض كا ذكر ذيل ميں كيا جاتا ہے_

:1 اس جنگ ميں مقتولين كى تعداد چونكہ بہت زيادہ تھى اس لئے سپاہ عراق كے دلوں پر بہت زيادہ خوف و ہراس غالب آگيا اور باہمى اختلاف كى بنا پر وہ دو گروہ ميں تقسيم ہوگئے اس كے علاوہ وہ لوگ جن كے عزيز و اقربا اس جنگ ميں مارے گئے تھے وہ اميرالمومنين حضرت على (ع) سے سخت بدگمان ہوگئے_

2:لشكر اسلام ميں سركشى اور نافرمانى كاجذبہ بہت زيادہ بڑھ گيا چنانچہ نوبت يہاں تك پہنچى كہ سپاہ يہ بہانہ بنا كر كہ جنگ كى كوفت دور كر رہے ہيں حضرت على (ع) كے فرمان بجالانے ميں سستى اور كاہلى سے كام لينے لگے بالخصوص اس وقت جب كہ وہ جنگ سے واپس آكر اپنے خاندان كى گرم آغوش ميں پہنچے اور اہل خاندان كے چہروں پر غم و اندوہ كے آثار ديكھے يہ عامل نيز اس كے ساتھ ہى ديگر عوامل اس امر كا باعث ہوئے كہ انہوں نے ہميشہ كيلئے جنگ كا ارادہ ترك كرديا اور معاويہ كے ساتھ آشتى كرنے كو ان كے ساتھ جنگ كرنے پر ترجيح دينے لگے_

مورخين نے لكھا ہے كہ جب جنگ نہروان ختم ہوگئي تو اميرالمومنين حضرت على (ع) اپنى سپاہ كے سامنے كھڑے ہوئے اور فرمايا: كہ خداوندتعالى نے تمہيں آزمايا اور تم اس كے امتحان ميں پورے اترے اسى لئے اس نے تمہارى مدد كى اب تم جلدى سے معاويہ اور اس كے ظالم و ستمگر ساتھيوں سے جنگ كرنے كے لئے روانہ ہوجاؤ انہوں نے كلام اللہ كو پس پشت ڈال ديا ہے اور نہايت معمولى قيمت پر دشمن سے ساز باز كرلى ہے يہ سن كر ساتھيوں نے كہا كہ اميرالمومنين(ع) ہمارى طاقت اب جواب دے چكى ہے ہمارے زرہ بكتر پارہ پارہ ہوچكے ہيں تلواريں ٹو ٹ چكى ہيں اور نيزوں كى نوكوں ميں خم آگئے ہيں ہميں وطن جانے كى اجازت ديجئے تا كہ وہاں ہم اپنا اسلحہ تيار كر سكيں وہاں رہ كر كچھ وقت خوشى و خرمى ميں بسر كريں اور اپنے ساتھيوں كى تعداد ميں اضافہ كريں ايسى صورت ميںہم دشمن كا بہتر طور پر مقابلہ كرسكيں گے

اميرالمومنين حضرت على (ع) جانتے تھے كہ واپس جانے كا كيا انجام ہوگا ليكن جب آپ(ع) نے اكثريت كو اس نفاق انگيز نظريے كى جانب مائل ديكھا تو مجبورا ًان كے سات اتفاق كيا اور نخيلہ كى جانب واپس آگئے يہاں آپ(ع) نے(سپاہ كو تاكيد كردى كہ وہ اپنى لشكر گاہ(چھاؤني) كو چھوڑ كرنہ جائيں اہل و عيال كى جانب كم توجہ ديں اللہ كے جہاد كيلئے تيارى كرتے رہيں سپاہ ميں سے چند ہى لوگ ايسے تھے جنہوں نے حضرت على (ع) كى ہدايات پر عمل كيا چنانچہ چند روز تك يہاں قيام كرنے كے بعد آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھروں كى جانب واپس جانے لگے جہاں انہوں نے آرام كى زندگى بسر كرنا شروع كردي