جہادكى دعوت

جب حضرت على (ع) كوفہ واپس تشريف لے آئے تو آپ(ع) كوشش كرنے لگے كہ ہر ممكن طريقے سے لوگوں كو معاويہ سے جہاد كرنے كى ترغيب دلائيں ايك موقعے پر تقرير كرتے ہوئے آپ(ع) نے فرمايا كہ اے لوگو اس دشمن كى جانب روانہ ہونے كيلئے تيار ہوجاؤ جس كے ساتھ جنگ كرنا خداوند تعالى كى قربت كا سبب ہے وہ لوگ جو امر حق سے روگرداں ہوچكے ہيںكلام اللہ سے دور ہيں اور دين كے كاموں ميں پيچھے رہ گئے ہيں درحقيقت اندھيرے اور گمراہى ميں ڈوبے ہوئے ہيں ان كے خلاف تم جتنے سپاہى اور گھوڑے فراہم كرسكتے ہو مہيا كر لو اور خداوند تعالى پر بھروسہ كرو_

اميرالمومنين حضرت على (ع) كى تقرير كا لوگوں پر ذرا بھى اثر نہ ہوا اور جنگ پر جانے كے لئے انہوں نے كوئي آمادگى ظاہر نہيں كى حضرت على (ع) نے انھيں چند دنوں كے لئے ان كے حال پر چھوڑديا اس عر صے ميں آپ(ع) نے سرداران قوم كو دعوت دى اور ان كا نظريہ جاننا چاہا بعض نے عذر و بہانہ بنايا(14) كچھ نے رضايت كا اظہار كيا مگر چند لوگ ايسے بھى تھے جنہوں نے اس دعوت كو قبول كيا_

اميرالمومنين حضرت على (ع) دوبارہ عوام كے اجتماع ميں كھڑے ہوئے اور فرمايا كہ اے اللہ كے بندو ميں جب بھى حكم ديتاہوں آخر تم كيوں زمين سے چپك پر بيٹھ جاتے ہو كيا آخرت كى زندگى كے مقابلے اس چند روزہ دنيا كى خوشيوں پر فريفتہ ہو گئے ہو؟ عزت كى بجائے تم نے ذلت و خوارى كو اختيار كر ليا ہے آخر كيا وجہ ہے كہ ميں تمہيں جب بھى جہاد كى دعوت ديتاہوں تم آنكھيں پھيرنے لگتے ہو؟ ايسا معلوم ہوتا ہے كہ تم موت كے كنارے آپہنچے ہو يا تمہارے دل سراسيمہ و پريشان ہيں جو سمجھ نہيں سكتے آنكھيں بند ہيں جو ديكھ نہيں سكتيں شاباش تم پر اور تمہارى دليرى پر فرصت كے لمحات ميں تم گويا جنگل كے شير ہو اور جب تمہيں جنگ كيلئے دعوت دى جائے تو لومڑيوں كى طرح فرار كرنے لگتے ہو اب مجھے تم پر اعتماد نہيں رہا