حضرت مالك كا صوبہ دا مصر كى حيثيت سے تقرر

مالك اشتر ايك بااثر و رسوخ سردار اور اميرالمومنين حضرت على (ع) كے محكم و طاقتور فرماندار نيز آپ(ع) كے سچے حامى و طرفدار تھے عثمان كے قتل كے بعد وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اميرالمومنين حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كي'' بيعت كرتے وقت بہت ہى پريشانى كے عالم ميں كہا تھا كہ ''كيا ان تين افراد كے بعد بھى آپ(ع) زمام حكومت سنبھالنے كيلئے تيارنہيں اس كے اگلے دن مسجد ميں لوگوں كے درميان جو حضرت على (ع) كے دست مبارك پر بيعت كرنے آئے تھے انہوں نے كہا تھا كہ يہ پيغمبروں(ص) كے وصى اور علم انبياء كے وارث اور وہ بزرگ ہستى ہيں جو سخت آزمايشوں سے گذرے ہيں كلام اللہ اور رسول خدا(ص) نے آپ كے رضوان بہشت ہونے كى شہادت دى ہے آپ وہ شخص ہيں جو فضائل كے اعتبار سے كمال كى منزلت پر پہنچ چكے ہيں آپ كى نيك طينتى اور دانشمندى كے بارے ميں ان لوگوں كو بھى شك نہ تھا جو اس دنيا سے گذر چكے ہيں اور جو آئندہ آئيں گے وہ بھى اس پر يقين كريں گے آپ لوگ اٹھيے اورآپ كے دست مبارك پر بيعت كيجئے

اس كے بعد وہ ہرجگہ اور ہر مرحلے پر اپنى لاثانى اور بے نظير بہادرى كے باعث ہميشہ اميرالمومنين حضرت على (ع) كے دوش بدوش رہے ان كے اثر و رسوخ اور سياسى تدبر كااندازہ اس فرمان سے لگايا جاسكتا ہے جو اميرالمومنين حضرت على (ع) نے ان كے نام حكومت مصر تفويض كرتے وقت جارى كيا تھا اس كے علاوہ وہ خطوط جو اميرالمومنين حضرت على (ع) نے ان كے نام تحرير فرمائے تھے نيز وہ مراكز جن كى فرمانروائي انہوں نے قبول كى تھى ان كے حسن تدبر و معاملہ فہمى كے آئينہ دار ہيں

جنگ صفين اور واقعہ حكميت كے بعد سپاہ عراق ميں بتدريج كمزورى اور پراگندگى كے باعث لوگوں كے درميان بالخصوص دارالخلافت سے دور و دراز كے علاقوں ميں استقامت و پايدارى كاوہ جذبہ جس سے خوشى و نشاط ہوتى ہے نيز معاويہ سے جنگ كرنے كاجوش و خروش آہستہ آہستہ سرد ہونے لگا_

اميرالمومنين حضرت على (ع) كو اطلاع ملى كہ معاويہ كاحامى و طرف دار معاويہ بن خديج نامى ايك شخص مصر ميں عثمان كے خون كابدلہ لينے كے لئے اٹھ كھڑا ہوا ہے اس نے وہاں كے امن و امان كو درہم برہم ، صوبہ دار محمد بن ابى بكر كى حيثيت و منزلت كو متزلزل اور وہاں كے لوگوں كا زندہ رہنا  سخت دشوار كر ركھا ہے اميرالمومنين حضرت على (ع) نے فيصلہ كيا كہ صوبہ دار كا تبادلہ كرديا جائے مالك اشتر چونكہ نصبين  ميں مامور تھے اس لئے جنگ صفين كے بعد وہ واپس وہيں چلے گئے تھے حضرت على (ع) نے انھيں بلايا اور مصر سے متعلق مسائل كے بارے ميں انھيں سمجھا كر محمد بن ابى بكر كا جانشين مقرر كرديا  اس ضمن ميں فرمايا كہ تمہارے علاوہ اس جگہ كيلئے كوئي اور اہل و شايستہ نہيں اس لئے اس طرف روانہ ہوجاؤ  اس كے ساتھ ہى آپ (ع) نے وہاں كے لوگوں كے لئے مراسلہ روانہ كيا جس ميں آپ (ع) نے مرقوم فرمايا كہ بندہ خدا على اميرالمومنين(ع) كى جانب سے مسلمانان مصر كو معلوم ہو كہ جب لوگوں نے خطہ ارض پر حكم خدا سے روگردانى كى تو انہوں نے اس كے غضب كو دعوت دى ... ميں ايك ايسے بندہ خدا كو تمہارى طرف روانہ كر رہا ہوں جو خوف و ہراس كے دنوں ميں چين كى نيند نہيں سوتا سخت و بحرانى وقت ميں وہ دشمن سے خوفزدہ نہيں ہوتا اور وہ بد كار لوگوں كے لئے آگ سے زيادہ سوزناك ہے اس كا نام مالك بن حارث ہے