محمد بن ابى بكر كى شہادت

محمد بن ابى بكر كو جب حضرت على (ع) كا خط ملا تو انہوں نے معاويہ اور عمر و عاص كو تند لہجے ميں قطعى جواب ديااس كے ساتھ ہى انہوں نے اپنى سپاہ كو دعوت دى كہ حملہ آوروں سے جنگ و پيكاركريں جن لشكروں نے نبرد آزمائي كا اعلان كياان كى تعداد تقريبا دو ہزار افراد ہوگئي چنانچہ انھيں كنانہ بن بشر كى زير قيادت و فرماندارى دشمن كى جانب روانہ كيا اور خود بھى دو ہزار افراد كو ساتھ ليكر ان كے پيچھے كوچ كيا پہلے قصبے ميں شام كے پيشگام سپاہ نے پے در پے حملوں كے باعث مصر كى مختصر دفاعى قوت كا قطع قمع كرديا عمر و عاص نے معاويہ بن خديج كو پيغام بھيجا اور اس سے مدد طلب كى تھوڑى ديرنہ گذرى تھى كہ معاويہ بن خديج نے ميدان كارزار كو لشكريوں سے بھرديا_

مصريوں كے مخالف اپنى پورى طاقت كے ساتھ كنانہ كے مقابل جمع ہوگئے انہوں نے جب يہ ديكھا كہ دشمن كے ہر طرف سے سخت دباؤ كے باعث وہ اپنے گھوڑے كو حركت نہيں دے سكتے تو وہ چھلانگ لگا كر زمين پر گركئے ان كے ساتھى بھى انہيں ديكھ كرگھوڑوں سے اتر گئے كنانہ جس وقت دشمن كے سپاہيوں كو برى طرح كچل رہے تھے يہ آيت ان كے زبان پر تھي_و ما كان لنفس ان تموت الا باذن اللہ كتبا موجلا چنانچہ آپ اس قدر دشمن سے بر سر پيكار رہے كہ شہيد ہوگئے_

كنانہ بن بشر كى شہادت كے بعد محمد بن ابى بكر كے اطراف سے فرماندارى كا سلسلہ چونكہ ٹوٹ چكا تھا اس لئے جو سپاہ باقى رہ گئي تھى وہ منتشر اور پراگندہ ہوگئي ناچار انہوں نے بھى ايك ويرانے ميں پناہ لى _مصر كے شورش پسندوں كے رہبر ابن خديج نے انكى تلاش شروع كى اور انہيں اس ويرانے ميں چھپا ہوا پايا اور گرفتار كيا پہلے شمشير سے سر كو تن سے جدا كيا اسكے بعد جسم كو مرے ہوئے گدھے كى كھال ميں بھر كر آگ لگادى

جب محمد بن ابى بكر كے قتل كى خبر معاويہ اور عمر عاص كے پاس ملك شام ميں پہونچى تو انہوں نے انتہائي مسرت اور شادمانى كااظہار كياعبداللہ ابن مسيب كا كہنا ہے كہ جس وقت محمدبن ابى بكر كے قتل كئے جانے كى خبر ملك شام ميں پہنچى تو اس موقع پر جسقدر خوشى اور مسرت كا اظہار كياگيا ايسى خوشى و مسرت و شادمانى ميں نے كبھى نہيں ديكھى تھي

ليكن ان كى شہادت كى خبر جب امير المومنين حضرت على (ع) كو ملى تو آپ نے فرمايا كہ : ان كے قتل كئے جانے كا غم و اندوہ اتناہ ہى ہے جتنا معاويہ كو اس كا سرور _جب سے ميں نے ميدان كارزار ميں قدم ركھا مجھے كسى كے قتل كئے جانے كا اتنا صدمہ نہيںہوا جتنا اس كى وجہ سے ہوا ہے وہ ميرے اپنے گھر ميں پل كر جو ان ہوا اور ميں نے اسے اپنى اولاد كى طرح سمجھا وہ ميرا حقيقى خيرخواہ تھا ايسے شخص كى وفات پر جس قدر رنج و غم كياجائے بجا ہے خدا سے دعا ہے كہ وہى اس كى جزا دے