مختصر تعارف كرائيں گے جو ان دستوں كے سرغنہ و سردار تھے

1 نعمان بن بشير

وہ انصار اور طائفہ خزرج ميں سے تھا عثمان كے زمانے ميں جو شورشيں ہوئيں ان ميں اس نے خليفہ وقت كا ساتھ ديا_

عثمان كے قتل كے بعد ان كا خون آلودہ كرتا وہ ملك شام لے كرگيا اور معاويہ كو پيش كيا اور يہيں سے وہ معاويہ كا حامى و طرفدار ہوا معاويہ كى طرف سے كچھ عرصہ حاكم كوفہ بھى رہا اور اس كے بعد اسے '' حمص'' كا حاكم مقرر كيا گيا _

معاويہ نے اسے 39 ھ ميں دوہزار افراد كے ساتھ '' عين التمر'' كى جانب روانہ كيا اميرالمومنين حضرت على (ع) كے فوجى محافظ دستے پر جو تقريبا سو افراد پر مشتمل تھا اس نے حملہ كيا ليكن دلاور مدافعين نے اپنى تلواروں كى نيا ميں توڑ كر پورى پا مردى و جانبازى سے دفاعى مقابلہ كيا اس عرصے ميں تقريبا پچاس افراد ان كى مدد كے لئے وہاں آن پہنچے نعمان كے سپاہيوں كو يہ گمان گذرا كہ مدافعين كے پاس مدد كے لئے جو لشكر پہنچا ہے اس كى تعداد بہت زيادہ ہے چنانچہ راتوں رات وہ اس جگہ سے بھاگ نكلے اور شام كى جانب رخ كيا_

2_ سفيان بن عوف

اسے معاويہ كى طرف سے اس مقصد كے تحت مقرر كيا گيا تھا كہ عراق كے بعض مقامات پر حملہ كريں معاويہ نے رخصت كرتے وقت اسے يہ تاكيد كى تھى كہ :

تمہارے سامنے كوئي بھى ايسا شخص آئے جو تم سے متفق و ہم خيال نہ ہوا سے بے دريغ قتل كردينا تمہارے راستے ميں جو بھى بستياں آئيں انھيں ويران كرتے چلے جانا لوگوں كے مال و متاع كو لوٹ لينا كيونكہ لوٹ مار بھى قتل كرنے كے برابر ہى ہے بلكہ بعض اوقات غارتگرى قتل سے زيادہ جانگداز و مہلك ثابت ہوتى ہے_

چلتے وقت اسے يہ ہدايت بھى كى كہ پہلے شہر '' ہيت''  پر حملہ كرنا اس كے بعدانبار اورمدائن كے شہروں پر قبضہ كرنا سفيان بن عوف چھ ہزار سپاہيوں كو ساتھ لے كر روانہ ہوا جب شہر ہيت ميں اسے كوئي نظر نہ آيا تو اس نے شہر انبار پريورش كى محافظين شہر كو كثير تعداد ميں قتل كرنے كے بعد اس نے شہر ميں كشت و كشتار اور غارتگرى كا بازار گرم كيا اور بہت ساماں جمع كر كے وہ شام كى طرف واپس آگيا_
اميرالمومنين حضرت على (ع) كو جب اس واقعے كى اطلاع ملى تو آپ (ع) نے جہاد كى فضيلت كے بارے ميں مفصل تقرير كى اور بتايا كہ جو لوگ اس اسلامى فرض سے روگردانى كرتے ہيں وہ كيسے ناگوار نتائج سے دوچار ہوتے ہيں اس ضمن ميں آپ (ع) نے فرماياكہ : ميں شب و روز پنہاں و آشكارا تمہيں اس گروہ سے بر سر پيكار ہونے كى دعوت ديتا رہا ميں نے تمہيں يہ ہدايت كى كہ اس سے پہلے وہ تمہارے ساتھ نبرد آزما ہوں تم ہى ان پر وار كردو ... ليكن تم نے سستى سے كام لياور فرض جہاد كو ايك دوسرے پر ٹالتے رہے چنانچہ نوبت يہاں تك آن پہنچى كہ تم پر ہر طرف سے پے در پے حملے كئے جانے لگے تمہيں غارتگرى كا نشانہ بنايا جانے لگا اور اب تمہارى زمين و جائيداد كے مالك دوسرے لوگ ہوئے ہيں يہ شخص جس نے اپنى سپاہ كو ساتھ لے كر شہر انبار پر حملہ كيا '' غامد'' قبيلے كا ہے اس نے فرماندار شہر حسان بن حسان بكرى كو قتل كيا اور تمہارى سپاہ كو اس نے ان كى عسكر گاہوں سے باہر نكل ديا ہے_ مجھے يہ اطلاع ملى ہے كہ ان ميں سے ايك شخص ايك مسلم خاتون اور اس اہل كتاب عورت كے گھر ميں جو مسلمانوں كى زير حمايت زندگى بسر كرتى تھى داخل ہوا اور ان كے زيورات ان كے جسموں پر سے اس نے اتار لئے اس كے بعد بہت سال غنيمت جمع كر كے وہ اور اس كے ساتھى واپس چلے گئے _ ديكھنے كى بات يہ ہے كہ ان غارتگروں ميں سے نہ تو كوئي زخمى ہوا اور نہ ہى كسى كے خون كا قطرہ زمين پر گرا ا س واقعے كے بعد اگر ايك سچا مسلمان غم و افسوس كے باعث مرجائے يا ڈوب مرے تو بجا ہوگا اور وہ قابل سرزنش بھى قرار نہ ديا جائيگا:3 عبداللہ بن مسعدہ

ابتدا ميں وہ حضرت على (ع) كے حامى و طرفداروں ميں سے تھا ليكن دنيا پرستى كے باعث كچھ عرصہ بعد معاويہ كے ساتھ جاملا اور اس كا شمار حضرت على (ع) كے سخت ترين دشمنوں ميں كيا جانے لگا_

معاويہ نے اسے سترہ سو افراد كے ساتھ '' تيمائ'' كى جانب روانہ كيا اور يہ حكم ديا كہ جس بستى ميں سے بھى گذرنا اس سے زكات كا مطالبہ كرنا اور جو شخص ادا كرنے سے منع كرے اسے قتل كرڈالنا _عبداللہ مكہ اور مدينہ كے شہروں سے گذرا جب حضرت على (ع) كو اس كى روانگى كى اطلاع ملى تو آپ(ع) نے مسيب بن نجبہ فزارى كو دو ہزار افراد كے ساتھ ان كا مقابلہ كرنے كے لئے روانہ كيا تيماء ميں دونوں حريف لشكر ايك دوسرے كے مقابل آگئے دونوں كے درميان سخت معركہ ہوا جس كے باعث شامى لشكر كا فرماندار زخمى ہوا اور مسعدہ راتوں رات شام كى جانب بھاگ گيا

4:ضحاك بن قيس

وہ معاويہ كى فوج كا فرماندار تھا وہ كچھ عرصہ تك محافظين شہر دمشق كا صدر امين رہا اور بعد ميں كوفہ كى حكومت بھى اسے تفويض كى گئي اس نے معاويہ كے حكم پر تين ہزار سپاہيوں كو ساتھ ليكر سرزمين '' نعلبيہ''  كى جانب رخ كيا اس كے گرد و نواح كے ان تمام قبائل كو اس نے اپنى غارتگرى كا نشانہ بنايا جو حضرت على (ع) كے مطيع و فرمانبردار تھے اس كے بعد وہ كوفہ كى جانب روانہ ہوا راستے ميں اسے قطقطانہ  نامى علاقے ميں عمربن عميس سے سامنا ہوا وہ زيارت حج بيت اللہ كيلئے تشريف لے جارہے تھے ضحاك بن قيس نے انھيں اور ان كے قافلے كو لوٹ ليا اور انھيں اپنے مقصد كى طرف جانے سے روكا

حضرت على (ع) نے ان كا مقابلہ كرنے كے لئے حجربن عدى كو چار ہزار سپاہيوں كے ہمراہ ان كے راستے پر روانہ كيا حجر كا ضحاك سے ''تدمر'' نامى مقام پر مقابلہ ہوا جس ميں سپاہ كے اُنيس سپاہى مارے گئے اس كے بعد ان كى سپاہ فرار كر كے شام كى جانب چلى گئي_ 5 بسر بن ارطاہ

قبيلہ قريش ميں سے تھا عراق و حجاز كى جانب معاويہ نے جو فرماندار روانہ كيئے تھے ان ميں اس كا شمار خونخوارترين فرماندار كى حيثيت سے ہوتا ہے رخصت كرتے وقت معاويہ نے اس سے كہا تھا كہ مدينہ پہنچنے كيلئے روانہ ہوجاؤ راستے ميں لوگوں كو منتشر و پراگندہ كرتے رہنا سامنے جو بھى آئے اسے خوفزدہ ضرور كرنا جو لوگ تمہارى اطلاعت سے انكار كريں ان كے مال و متاع كو تباہ و غارت كردينا بسربن ارطاة تين ہزار افراد كو ساتھ لے كر مدينہ كى طرف روانہ ہوا وہ جس بستى سے بھى گزر جاتا وہاں كے مويشيوں پر قبضہ كرليتا اور انھيں اپنے لشكريوں كے حوالے كرديتا مدينہ پہنچ كر اس نے تقرير كى جس ميں دل كھول كر مسلمانوں پر سخت نكتہ چينى كى اور جو نہ كہنا تھا وہ تك كہا اس كے ساتھ ہى انھيں مجبور كيا كہ اس كے ہاتھ پر بيعت كريں بہت سے گھروں كو نذر آتش كرنے كے بعد ابوہريرہ كو اپنا جانشين مقرر كيا اور خود مكہ كى جانب روانہ ہوگيا راستے ميں قبيلہ خزاعہ كے بہت سے لوگوں نيز چند ديگر افراد كو قتل كيا اور ان كے مال كو لوٹ كر قبضے ميں كرليا_ مكہ پہنچ كر اس نے ابولہب كى اولاد ميں سے بہت سے لوگوں كو تہ تيغ كر ڈالا اور يہاں سے '' سراة '' كى جانب روانہ ہوا جہاں اس نے حضرت على (ع) كے حامى و طرفداروں كو قتل كر ڈالا '' نجران'' اور يمن ميں اس نے كشت و كشتار كا خوب بازار گرم كيا يہى نہيں بلكہ فرماندار يمن عبيداللہ بن عباس كے دوكم سن بچوں كے سر تك اس نے اپنے ہاتھ سے قلم كئے قتل و غارتگرى اور كشت و كشتار كا بازار گرم كرنے اور تقريبا تيس ہزار كوتہ و تيغ كرنے كے بعد وہ واپس ملك شام پہنچ گيا