نمازِ قصر کي شرائط

 
سوال1: نماز، قصر ہونے سے کیا مراد ہے؟
جواب: نماز، قصر ہونے سے مراد : چار رکعتی نماز کو قصر (یعنی کم)
کرنا ہے۔ اور یہ قصر، سفر میں کچھ مخصوص شرائط کے ساتھ فجر اور مغرب کی نمازوں کے علاوہ(کہ ان پہ کوئی کمی بیشی طاری نہیں ہوتی) دیگر تمام چار رکعتی نمازوں کی آخری دو رکعتوں کو کم کرنے سے واقع ہوتی ہے۔
سوال2: چار رکعتی نماز کب قصر ہوتی ہے؟
جواب: چار رکعتی نماز سفر میں چند شرائط کے ساتھ قصر ہوتی ہے:
پہلی شرط:
شرعی مسافت طے کرنے کا عزم و ارادہ ہو: یوںکہ مکلف کو شرعی مسافت طے کرنے کا یقین ہو(جیسا کہ وہ خود شرعی مسافت طے کرنے کا ارادہ کرے یا اسکے ارادے کے بغیر اس سے شرعی مسافت طے کروائی جائے جیسے وہ قیدی جسے یہ یقین ہو کہ اسے عنقریب شرعی مسافت طے
کرائی جائے گی)۔
سوال3: وہ شرعی مسافت کتنی ہے جس کی وجہ سے نماز قصر ہوتی ہے؟
جواب: شرعی مسافت جسکی وجہ سے نماز قصر ہوتی ہے (44) کلو میٹر ہے (خواہ یکطرفہ ہو یا آنےجانے کی مجموعی مسافت یوں کہ (22) کلو میٹر
جانا اور (22) کلو میٹر واپسی آنا ہو)۔
سوال4: اگر کسی شخص نے (22) کلو میٹر مسافت طے کی ہو اور ایک رات یا بیشتر وہاں گزارے تو آیا اسکا یہ عمل قواطع سفر(یعنی سفر کو منقطع کر دینے والے اسباب اور اس سے مراد انسان کا ایسا عمل جس کی وجہ اس کی قصر نماز پوری ہو جائے جیسے دوران سفر اپنے وطن
سے گزرنا اور وہاں قیام کرنا یا کسی جگہ دس دن اقامت کا قصد کرنا) میں سے
شمار ہوتا ہے؟
جواب: یہ عمل اس وقت تک قواطع سفر میں سے شمار نہیں ہوتا جب تک دنوں کی تعداد شرعی اقامت یعنی دس یا بیشتر دنوں تک نہ پہنچ جائے۔
سوال5: اگر مسافر شرعی مسافت سے کچھ کم مقدار میں سفر کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگرمسافت کم ہوجائے(خواہ مذکورہ مقدار(44 کیلومیٹر) سےمعمولی مقدار میں ہی کم ہو)تو وہ نماز پوری پڑھے گا، اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہو گا جب مسافت کے مذکورہ مقدار تک پہنچنے کے متعلق شک
یا گمان ہو۔
سوال6: جس شخص نے اپنی نماز کو اس مقام پر مکمل ادا کیا ہو جہاں قصر کرنا معیّن ہوتو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: جس شخص نے اپنی نماز کو جان بوجھ کر(عمداً) اس مقام پہ مکمل پرادا کیا ہو جہاں قصر کرنا معیّن ہو تو اس کی نماز باطل ہے جبکہ اس کے علاوہ اس کے علاوہ چند ایسی صورتیں ہیں جہاں اسکی نماز صحیح ہو گی:
1: اسےمعلوم ہی نہ ہو کہ شریعت مقدسہ نے سفر میں مسافر کے لئے نماز قصر قرار دی ہے یا وہ مسافر پہ قصر نماز کے واجب ہونے سے آگاہ ہی نہ ہو اور اس حالت میں(اگرقصر کی جگہ پوری نماز بجا لائے تو)اس کی نماز درست ہے اور دوبارہ ادا کرنا اس پہ واجب نہیں۔
2: قصر کی جگہ پوری نماز ادا کرنے کا سبب یہ ہو کہ کسی خاص مورد میں وہ حکم سے جاہل ہو اگرچہ اسے اجمالی طور پہ معلوم ہو کہ سفر میں مسافر کا وظیفہ قصر ہے جیسے کسی شخص نے جانے اور آنے کی مجموعی شرعی مسافت ملا کر
(44) کلو میٹر ہو جانے پہ نما زقصر ہو جانے سےلاعلمی کی وجہ سے پوری نماز پڑھی ہو (اگرچہ اسے یہ معلوم ہو کہ اگر ایک طرف کی مسافت (44) کلو میٹر
ہو تو نماز قصر ہوتی ہے)تو ایسی صورت میں اگر اسے یہ حکم وقت کے اندر
معلوم ہو تو بنا بر احتیاط واجب نماز دوبارہ پڑھے لیکن اگر وقت ختم ہو جانے کے بعد وہ اس حکم سے آگاہ ہو تو اس پہ قضا واجب نہیں۔
3: حکم کو جاننے کے باوجود یہ(مکمل نماز پڑھنے کا عمل) اس کی حکمِ شرعی کو سمجھ کر صحیح طور پہ بجا لانے میں غلطی یا اس کےاشتباہ کی وجہ سے ہوا ہو، تو اس صورت میں اگر نماز کا وقت باقی ہو تو دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے لیکن اگر وقت گزر جانے کے بعدوہ حقیقت حال سے آگاہ ہو تو قضا واجب نہیں۔
4: وہ اپنے سفر کو بھول جانے کی وجہ سےمکمل نماز پڑھ لے یا مسافر پہ نماز قصر ہونے کے وجوب کو بھول جائے تو وقت کے اندر دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے لیکن اگر وقت گزر جانے کے بعد یاد آئے تو قضا واجب نہیں۔
5: عمل کے دوران بھول جانے کی وجہ سے نماز پوری پڑھ دےجبکہ حکم اور موضوع کوجانتا ہو، تو اس صورت میں اگر وقت باقی ہو تو دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے اور اگر اسے وقت ختم ہوجانے تک یاد نہ آئے تو بنا بر احتیاط واجب قضا ضروری ہے۔
 

سوال7: جس شخص کا وظیفہ پوری نماز پڑھنا ہو وہ اگر قصر پڑھ دے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس کی نماز باطل ہے اور وقت کے اندر دوبارہ پڑھنا یا وقت گزر جانے کی صورت میں قضا واجب ہے اور فرق نہیں ہے چاہے اس نے عمدا قصر پڑھی ہو یا لاعلمی کی وجہ سے یا بھول کر یا غلطی سے۔
سوال8: مسافت شرعی ثابت کرنے کے کون سے طریقے ہیں؟
جواب: مسافت شرعی مندرجہ ذیل چند طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:
1: ذاتی علم: یعنی مکلف بذات خود شرعی مسافت سے آگاہ ہو جیسے کہ
وہ مسافت شرعی کی پوچھ گچھ کر لے اور معلومات اور معرفت کے حساب سےاس پر یقین حاصل کرلے۔
2: شرعی گواہی: یعنی دوعادل گواہوں کے خبر دینے سے شرعی مسافت کا یقین آ جائے جبکہ ایک شخص کی خبر سے اس وقت تک مسافت شرعی ثابت نہیں ہوتی جب تک اس کی خبر کا یقین اور بھروسہ نہ حاصل ہو جائےاگرچہ وہ عادل ہو۔
3: شیاع یا اسی جیسی کوئی دلیل جس سے اطمینان ہو جائے: شیاع کا معنی ہے کہ
لوگوں کی بڑی تعداد شرعی مسافت کی حدود سے آگاہ ہو اور سب کہیں کہ شرعی مسافت ہو چکی ہے اور مکلف کو اس پہ یقین آجائے۔
سوال9: آیا شرعی مسافت جاننے کے لئے پوچھ گچھ وغیرہ کرنا (اگر اس سے حرج لازم نہ آئے تو) واجب ہے؟
جواب: شرعی مسافت جاننے کے لئے پوچھ گچھ کرنا (خواہ حرج لازم آئے یا نہ آئے) واجب نہیں۔
سوال10: آیا شرعی مسافت یا حد ترخص کی تعیین کے لئے شارع عام پہ نصب کلومیٹرز کے ان بورڈز پہ اعتماد کیا جا سکتا ہے جو مختلف علاقوں کی باہمی مسافت کا تعین کرتے ہیں؟
جواب: اگر ان بورڈز سے اطمینان ہو جائے توان پہ اعتماد کیا جا سکتا ہے
وگرنہ نہیں۔
سوال11: اگر کسی شہر کے دو راستے ہوں اور ان میں سے جو لمبا راستہ ہو وہ شرعی مسافت پہ ہو جبکہ قریبی راستہ شرعی مسافت پہ نہ ہو تو آیا مسافر کو دو راستوں میں سے کسی ایک راستے پر چلنے کا اختیار ہے یا قریب
اور مختصر راستے پہ چلنا ضروری ہے؟
جواب: مسافر ان میں سے کسی کو بھی استعمال کرنے کا برابر اختیار ہے
پس اگر وہ لمبا راستہ اختیار کرے تو نماز قصر ہوگی اور اگر مختصر
اورقریبی راستہ اختیار کرے تو نماز پوری پڑھے گا۔

سوال12: شرعی(مسافت جو قصر کا موجب بنتی ہے) كا آغازکہاں سے
شمار کیا جائے گا؟
جواب: شرعی مسافت کا شمار وہاں سے کیا جائے گا جہاں سے کوئی شخص عرف عام میں مسافر شمار کیا جائے اور پس وہ کسی شہر کے محلوں میں سے آخری محلہ ہوسکتا ہے جبکہ وہ گھر جہاں وہ رہتا ہو اسے سفر کی ابتداء شمار نہیں کیا جا سکتا۔
سوال13: مسافرکے لئے نماز کو قصر کرنا کب جائز ہو جاتا ہے؟
جواب: جب وہ حد ترخص تک پہنچ جائے۔
سوال14: حد ترخص سے کیا مراد ہے؟
جواب: وہ جگہ جہاں سے مسافر اس شہر کے لوگوں سے دور ہونے کی وجہ سے انکی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس شہر کے لوگ اسے دکھائی نہ دیں۔اسی طرح نماز و روزہ کے احکام کے لحاظ سے اگر مکلف حد ترخص تک پہنچ جائے اور شرعی مسافت طے کرنے کا عزم و ارادہ رکھتا ہو تو حد ترخص پہ پہنچتے ہی نماز قصر اور روزہ افطار کر سکتا ہے۔
سوال15: آیا نماز کے قصر ہوجانے میں رات سے پہلے ہی سفر کی نیت
کرنا شرط ہے؟
جواب: نماز قصر ہوجانے کے لئے ایسا کرنا شرط نہیں۔

سوال16: اگر مسافر اپنے قصد کردہ سفر کے شرعی مسافت ہونے کا اعتقاد رکھتے ہوئے سفر کرے اور نماز قصر بھی پڑھ لے لیکن بعدازاں انکشاف ہو کہ اسکا قصد کردہ سفر شرعی مسافت پہ مشتمل نہیں تھا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسی صورت میں ضروری ہے کہ وہ دوبارہ پوری نماز پڑھے
(خواہ حقیقتِ حال کا علم دورانِ وقت ہوا ہو یا نماز کا وقت ختم ہو جانے کے
بعد اسے پتہ چلا ہو)۔
سوال17: اگر کوئی شخص یہ خیال کرتے ہوئے پوری نماز پڑھے
کہ اس کی طے کردہ مسافت شرعی مسافت نہیںلیکن بعد ازاں پتہ چلے کہ اسکا طے کردہ سفر شرعی مسافت پہ مشتمل تھا تو اس کا شرعی وظیفہ کیاہے؟
جواب: اس کا شرعی وظیفہ ہے کہ اگر نماز کا وقت باقی ہو تو دوبارہ پڑھے لیکن اگر وقت گزر گیا ہو تو قضا واجب نہیں۔
سوال18: اگر مسافر شرعی مسافت کو طے کرنے میں طولانی وقت صرف کرے، بایں معنی کہ دن میں صرف چند قدم مسافت طے کرے تو اس کا شرعی وظیفہ کیا ہو گا؟
جواب: مسافر کا مسلسل مسافت طے کرنا شرط نہیںاور اسکا سفر کا قصد و ارادہ ہی کافی ہے، پس وہ حد ترخص پہ پہنچنے کے بعد نماز قصر ادا کرے گا، اگرچہ شرعی مسافت ایک دن میں طے نہ کرے، لیکن اگر سیر و سیاحت وغیرہ کے لئے سفر کرے اور سفر کو اتنا طولانی کرے کہ ایک دن میں انتہائی معمولی مسافت طے کرے تو بنا بر احتیاط لازم ضروری ہے کہ قصر و تمام دونوں پڑھے۔
سوال19: وہ شخص جو اپنے گھر سے شرعی مسافت طے کرنے کا قصد کئے بغیر نکلے لیکن اسےمعلوم ہو جائے کہ وہ شرعی مسافت طے کر چکا ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: سوال میں فرض کردہ صورت میں اس کی نماز پوری ہوگی کیونکہ قصر کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ شرعی مسافت طے کرنے کا عزم و ارادہ ہو جبکہ مذکورہ شخص نے شرعی مسافت طے کرنے کا قصد نہیں کیا تھا لیکن واپس آتے ہوئے اگر اسکی مسافت شرعی ہو تو اسکی نماز قصر ہوگی۔
سوال20:کچھ زائرین امام حسین  کی زیارت کے لئے پیدل جاتے
ہیں اور اپنے سفر کو چند دنوں پہ تقسیم کرتے ہیں تو راستے میں انکی نماز
کا کیا حکم ہے؟
جواب: وہ زائرین جو کچھ مسافت طے کرنے کے بعد رات کو اپنے گھر واپس لوٹ آتے ہیں اور پھر دوسرے دن صبح وہیں سے چلنا شروع کرتے ہیں جہاں پہلے دن چھوڑا تھا تو ایسی صورت میں اگر وہ پہلے دن
(22) کلو میٹر مسافت طے کرنے کے بعد اپنے گھر واپس آئیں تو انکی نماز قصر ہوگی {کیونکہ آنے جانے کی مسافت (44) کلو میٹر ہو جاتی ہے} اور اگر اتفاق سے (22) کلو میٹر مسافت طے کرنے سے پہلے ہی واپس اپنے گھر آ جائیں جبکہ نماز قصر پڑھ چکے ہوں تو بنا بر احتیاط لازم اگر نماز کا وقت باقی ہے تو دوبارہ پوری نماز پڑھیں وگرنہ پوری قضا کریں۔
اور اگر (22) کلو میٹر مسافت طے کرنے کا عزم و ارادہ نہ ہو یا (22) کلو میٹر مسافت طے کرنے میں متردد ہوں، جیسے کوئی کہتا ہو کہ: جہاں میں تھک جاؤں گا واپس گھر پلٹ آؤں گا تو اس صورت میں وہ نماز پوری پڑھے گا۔
جبکہ دوسرے اور تیسرے روز اگر پہلے دن کی طے کردہ مسافت اور دوسرے روز جتنی مسافت طے کرنے کی نیت ہو اسکی مجموعی مقدار (22) کلو میٹر ہو تو نماز کے قصر ہونے کے لئے کافی ہے۔
سوال21: اگر کسی شخص کو زبردستی سفر کرایا جائے تو آیا اسکی نماز قصر ہوگی؟
مسئلے کی وضاحت مثال کے ساتھ کیجئے؟
جواب: اس سوال کے جواب میں تفصیل ہے:
ایسا سفر جو بےاختیار کیا جائے جیسے کسی شخص کو کشتی یا ٹرین میں بٹھا دیا جائے تاکہ اسے شرعی مسافت تک پہنچا دیا جائے، اور اسے شرعی مسافت تک پہنچ جانے کا علم ہو تو اس کی نماز قصر ہوگی لیکن اگر کوئی شخص مثلاً نیند یا بے ہوشی کی حالت میں ہو اور کوئی دوسرا شخص اسے سفر کرائے اور جب اسے ہوش آئے تو وہ اپنے آپ کو کسی دوسرے شہر میں پائے تو اسکی نماز قصر نہیں ہوگی اور پوری نماز ہی ادا کرے گا۔
دوسری شرط:
شرعی مسافت طے کرنے کے قصد میں استمرار ہو پس اگر وہ شرعی مسافت طے کرنے کے قصد کو ترک کرے یا متردد ہو جائےتو اسکی نماز پوری ہوگی۔
سوال22: آیا سفر کی نیت یقینی ہونی چاہیے؟
جواب: جی ہاں ضروری ہے کہ نیت یقینی ہو، لہٰذا اگر کوئی اپنے سفر میں متردد ہو یا (22) کلو میٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی ارادہ ترک کر دے تو وہ پوری نماز
پڑھے گا۔
پس اس مقام پر دو صورتیں ہیں:
1: اگر مسافر ۲۲ کلو میٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے سفر کا ارادہ ترک کر دےیا متردد ہوجائے جبکہ وہ اپنی نماز میں ابھی سلام تک نہ پہنچا ہو یعنی دوسری رکعت پڑھ رہا ہو تو وہ قصر نماز سے پوری نماز کی طرف نیت پھیر لے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔
2: اگر مسافر نماز کے بعد ۲۲ کلو میٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے سفر کو ترک کر دےیا متردد ہوجائے، تو بنا بر احتیاط لازم اگر وقت ختم ہو نے سے پہلے ارادہ ترک کیا ہو تو ادا کی گئی نماز کو دوبارہ پورا پڑھےاور اگر وقت ختم ہو جانے کے بعد ارادہ ترک کیا ہوتو قضا پڑھنا واجب ہے۔
سوال23: اگر مسافر (22) کلو میٹرز تک پہنچنے کے بعد سفر کا ارادہ ترک کرے یا متردد ہو جائے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر دس دن قیام سے پہلے واپس آنے کا قصد ہو تو نماز قصر پڑھے گا۔
تیسری شرط:
سفر مباح ہو پس اگر سفر حرام ہو تو نماز قصر نہیں ہوگی چاہے بذات خود سفر حرام ہو جیسے بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر واجبات کی ادائیگی کے علاوہ کوئی سفر کرے یا سفر کا مقصد حرام ہو جیسے کسی نفسِ محترمه کو قتل کرنے، چوری، زنا یا ظالم کی مدد وغیرہ کے لئے سفر کرنا، اور یہی حکم تب بھی ہوگا جب سفر کا مقصد واجب کو ترک کرنا ہو جیسے کوئی مقروض قرض کی ادائیگی سے فرار کرتے ہوئے سفر کرے جبکہ قرض کی ادائیگی اس پر واجب ہو چکی ہو، پس ان تمام صورتوں میں نماز پوری ہوگی اور اگر سفر ایسا ہو کہ دورانِ سفر اتفاقا حرام کام سرزد یا واجب ترک ہوجائے جیسے غیبت، شراب نوشی یا نماز ترک ہو جائے اور اسی جیسا کوئی اور عمل سرزد ہو جائے جبکہ حرام کی انجام دہی یا واجب کا ترک اس کےسفر کا مقصد نہ ہو تو اس سفر میں نماز قصر پڑھنا واجب ہوگی۔
سوال24: آیا شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا سفر کرنا حرام شمار ہوتا ہے؟
جواب: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا سفر کرنا واجب کی ادائیگی کے علاوہ حرام سفرشمار ہوتا ہے پس ایسے سفر میں بیوی پہ نماز پوری پڑھنا واجب ہوگی۔
سوال25: اگر والدین بیٹے کو سفر سے روکیں تو آیا بیٹے کے لئے انکی مخالفت کرنا جائز ہے اور اگر وہ سفر کرتا ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
جواب: اگر والدین بیٹے کو سفر سے روکیں اور بیٹے کے سفر کے نتیجے میں والدین کو اذیت ہو یا بیٹے کو سفر سے روکنا اس کے ساتھ شفقت کی وجہ سے ہو اور سفر میں کوئی شرعی مصلحت بھی نہ ہو جو والدین کو اذیت دینے کی حرمت سے اہم ہو تو بیٹے کے لئے انکی مخالفت جائز نہیں اور اگر سفر کرے تو اس کی نماز پوری ہوگی۔
سوال26:اگر کوئی شخص غصبی گاڑی پہ سفر کرے جبکہ اس کا مقصد مالک سے گاڑی چھین یا چھپا کر لے جانا ہو تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: ضروری ہے کہ ایسا بندہ پوری نماز پڑھے۔
سوال27:اگر باپ بیٹے کو کہے کہ میں جانتا ہوں کہ تیرے اس سفر میں تجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن تیری جدائی اور مجھ سے دوری میرے لئے گراں ہے اور میرے لئے باعث اذیت ہے اور اس وجہ سے تمھیں سفر سے روک رہا ہوں اور سفر نہ کرنے کی صورت میں بیٹے کو کوئی نقصان تو نہ ہولیکن وہ عنقریب اپنی کسی رغبت کے پورے ہونے سے محروم ہو جائے تو اسکے سفرکا کیا حکم ہے؟
جواب: بیٹے کے لئے ایسا سفر جائز نہیں کیونکہ یہ سفر باپ کے لئے باعث اذیت ہے پس اگر وہ سفر کرے تو گناہ گار ہوگا اور اس کی نماز پوری ہوگی۔
سوال28:غیر اسلامی ممالک کی جانب سفر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: غیر اسلامی ممالک کی جانب سفر کرنا چاہے مشرق میں ہو یا مغرب میں، اگر مسلمان کےدین میں کمی کا موجب بنے تو حرام ہے خواہ سفر کی غرض سیر و سیاحت، تجارت، حصول تعلیم، غیر مستقل رہائش، مستقل رہائش یا دیگرکوئی بھی سبب ہو۔
 

سوال29: جیسا کہ وضح ہےکہ کچھ یورپی ممالک کے ائیر پورٹ پر وہاں کی حکومت کی جانب سے سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر مسافروں کو (scanner machine) سے گزارا جاتا ہے اور اس مشین پہ مسافر کے جسم کی مکمل صورتحال سامنے آ جاتی ہے یہاں تک کہ جیسا انکا دعوی ہے کہ شرمگاہ بھی واضح طور پہ ظاہر ہو جاتی ہے تو اس صورت میں ایسے ممالک کیطرف سفر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر ائیر پورٹس پہ ایسی چیکنگ رائج ہو تو (ان ممالک کی طرف)کسی بھی عقلائی مقصد کے لئے سفر(ایسا سفر جس میں کوئی مصلحت موجود ہو) کرنا حرام نہیں جبکہ ائر پورٹس پہ اس قسم کی چیکنگ رائج ہو اور خاص طور پر اس قسم کی چیکنگ کا احتمال ہو۔
سوال30: اگر کوئی شخص شکار کے لئے سفر کرے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس سوال کے جواب میں قدرے تفصیل ہے پس اگر اسکا :
۱:شکار اس کے اپنے یا اہل و عیال کی روز مرہ غذا یا تجارت کے لئے ہو تو اسکی پہ نماز قصر پڑھنا واجب ہے۔لیکن اگر
۲: شکار کھیل کود اور فضول(کھیل تماشہ)ہو (جیسےکہ آجکل لوگ اکثر اسی مقصد کے لئے شکار کرتے ہیں)تو جاتے ہوئے وہ نماز پوری پڑھے گا لیکن واپسی پہ اگر اسکی مسافتِ شرعی پوری اور سفر معصیت پہ مشتمل نہ ہو تو واپسی پہ قصر پڑھے گا۔
سوال31: لہو و لعب کے شکار سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس سے مراد وہ شکار ہے جس کا مقصد خود شکار کےعمل سے لطف اندوز ہونا ہو لیکن اگر سفر لطف اندوز ہونے اور سیر و تفریح کے لئے ہو اور فضول شکار کے لئے نہ ہو اور اسی سفر کے ضمن میں شکار کیا جائے تو یہ سفرفضول شکار کے لئے شمار نہیں ہوگا۔
نوٹ: سفر کا ابتدا سے انتہاء تک مباح ہونا ضروری ہے، پس اگر سفر کا آغاز تو مباح ہو لیکن اسکے دوران مکلف معصیت کا قصد کرلے تو وہ نماز پوری پڑھے گا لیکن جو گذشتہ نمازیں قصر پڑھی ہوں انہیں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں اور اگر سفر میں دوبارہ اباحت(سفر کے مباح ہونے) کا قصد کر لے تو نماز قصر پڑھے گا اگرچہ باقی ماندہ سفر شرعی مسافت کے برابر نہ ہو۔
چوتھی شرط:
مسافر ان افراد میں سے نہ ہو جن کا گھر سفر میں ان کے ساتھ ہی ہوتا ہےیعنی وہ خانہ بدوش نہ ہو: اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی سکونت کی کوئی مستقل جگہ نہ ہو تو وہ نماز پوری پڑھیں گےکیونکہ انکا محلِ سکونت (گھر) جوانکے ساتھ ہےوہ انکے وطن ہی کے مانند ہے۔(لیکن اگر انکی کوئی مستقل رہائش ہو اور سفر محض عارضی ہوتو نماز پوری ہوگی)۔
اگر مسافر کی دو حالتیں ہوں جیسے کچھ ایسے خانہ بدوش جن کا موسم سرما میں سکونت کے لئے ایک خاص ٹھکانا ہوتا ہے اور موسم گرما میں وہ جڑی بوٹیوں اور گھاس وغیرہ کی تلاش میں سفر پہ رہتے ہیں تو ہر حالت میں کا ان کے لئے حکم الگ ہو گا۔پس پہلی حالت میں اگر شرعی مسافت تک سفر کریں تو نماز قصر پڑھیں گے جبکہ دوسری صورت میں نماز پوری پڑھیں گے۔
ہاں اگر اپنے گھر سے کسی اور مقصد کے لئے جیسے حج یا زیارت یا اپنی روز مرہ کی غذا یا جانور وغیرہ کی خریداری کے لئے سفر کریں تو نماز قصر پڑھیں گے اور یہی حکم تب بھی ہوگا جب اپنی سکونت اختیار کرنے یا جڑی بوٹیوں اور پانی کے مقام کو دیکھنے کے لئے سفر کریں، لیکن اگر ان مذکورہ بالا مقاصد کے لئے سفر کریں اور ان کا گھریعنی خیمہ وغیرہ انکے ساتھ ہو تو نماز پوری پڑھیں گے۔جیسا کہ وہ اپنی ضروریاتِ زندگی کا سارا سامان ساتھ لیکر سفر کریں اور جہاں جڑی بوٹیاں اور پانی مل جائے یا سکونت کے لئےمناسب جگہ مل جائے وہیں پڑاؤ کر لیں تو اس صورت میں وہ اپنی نماز پوری پڑھیں گے۔
پانچویں شرط:
مسافر حد ترخّص تک پہنچ جائے جبکہ اس سے پہلے قصر نماز پڑھنا جائز نہیں۔
اورحدِ ترخّص سے مراد: وہ جگہ ہےجہاں مسافر اس شہر کے باشندوں سے دور ہو جانے کی وجہ سے انکی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے اور عام طور پر حد ترخّص کی علامت یہ ہے کہ غالباً شہر کے باشندے اس کی نظروں سے یوں چھپ جائیں کہ وہ انہیں دیکھ نہ سکے۔
اور یہ بات بھی واضح رہے کہ وہ جگہ جو انسان کی جائے رہائش ہو اور وہ جگہ جہاں انسان تیس (30) دن وطن بنانے کےتردد کی حالت میں رہے وطن کے ساتھ ملحق نہیں ہوتیں، اسی وجہ سے مسافر سفرکی ابتداء سے ہی ان دونوں مقامات میں نماز قصر پڑھے گا، اگرچہ احتیاط مستحب ہے کہ شہر اور حد ترخص کی درمیانی مسافت میں قصر اور پوری ہر دو طرح سے نماز ادا کرے۔
سوال32: سفر سے واپسی پر اگر مسافر حد ترخّص تک پہنچ جائے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: واپسی پر حد ترخّص اس طرح شرط نہیں جیسے جاتے ہوئے ہوتی ہے۔ پس مسافر نماز تب تک قصر پڑھے گا جب تک اپنے شہر میں داخل نہ ہو جائے اگرچہ احتیاط کی رعایت کرنا بہتر ہے اور وہ یوں کہ شہر میں داخل ہونے تک نماز کی ادائیگی میں تاخیر کرے یا واپسی میں حد ترخص تک پہنچ جانے کے بعد اگر نماز پڑھنا چاہے تو قصر اور تمام دونوں طرح سے پڑھے۔
سوال33: اگر مسافر کو حد ترخّص تک پہنچنےمیں شک ہو تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسی صورت میں اسکی شرعی ذمہ داری یہ ہے کہ نہ ہونے پر بنا رکھے(یعنی یہ سمجھے کہ حد ترخص تک نہیں پہنچا)
اور اس وجہ سے نماز پوری پڑھے۔
سوال34: اس مسافر کی نماز کا کیا حکم ہے جس کا خیال ہو کہ حد ترخص تک پہنچ گیا ہے اور قصر نماز پڑھ لے لیکن بعد ازاں علم ہو کہ ابھی حد ترخص نہیں آئی؟
جواب: اس کی نماز باطل ہے، اور اگر نماز کا وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ دوبارہ پڑھے اور اگر وقت ختم ہو گیا ہو تو قضا کرنا واجب ہے۔
چھٹی شرط:
مسافر، ایسی مسافت شرعیہ تک جو نماز کے قصر ہو جانے کا سبب بنتی ہو کثیر السفر نہ ہو، وگرنہ نماز پوری پڑھے گا۔
جبکہ تین موارد میں انسان کثیر السفر بن جاتا ہے:
۱۔ اس شخص کا پیشہ سفر ہو۔ جیسے ڈرائیور، ملاح اور ان دونوں کے معاونین وغیرہ۔
۲۔ اس شخص کا سفر اسکے پیشے اور ملازمت وغیرہ کے لئے بطور مقدمہ اور تمہید کے ہو، جیسے کوئی شخص ایک جگہ مقیم ہو اورمثلاً ہر روز کسی دوسری جگہ سفر کرتا ہو، جیسے ڈاکٹر روز اپنے کلینک جائے یا تاجر یا استاد جو کسی دوسرے شہر کام سے جاتے ہوں اور انہی جیسے دیگر افراد۔
۳۔ مکلف کسی اور مقصد کے لئے بار بار سفر کرے جیسے کوئی سیر وتفریح، علاج معالجے یا زیارت وغیرہ کے لئے روزانہ سفر کرے۔
پس ان تینوں اقسام کے افراد اپنے سفر میں نماز پوری پڑھیں گے بشرطیکہ عرف عام میں ان پہ کثیر السفر کا عنوان صادق آئے۔
سوال35:مسافر ایسا کثیر السفر کیسے بنتا ہے کہ پھر جہاں بھی سفر کرے اس پہ پوری نماز پڑھنا واجب ہو؟
جواب: وہ شخص جو شہر سے باہر اپنے پیشے اور ملازمت کے لئے بطور مقدمہ بار بار سفر کرتا ہے یا کسی اور وجہ سے بار بار سفر کرتا ہو تو وہ مندرجہ ذیل صورتوں میں کثیر السفر قرار پائے گا:
۱:جب وہ ہر ماہ دس دنوں میں دس بار سے کم سفر نہ کرے
۲۔ وہ ہر ماہ دو یا تین سفر کرے لیکن دس دن سے کم سفر میں نہ رہے
بشرطیکہ اسکا اس طریقے (مذکورہ بالا دونوں صورتیں) سے مثلاً ایک سال
میں چھے ماہ یا دو سالوں میں تین تین ماہ یا بیشتر سفر کرنے
کا عزم و ارادہ ہو۔ اوراگر مثلاً ہر ماہ چار بار سفر کرے یا ہر
ماہ سات یا اس سے کمتر سفر کرے تو نماز قصر ہوگی، اور اگر ہر
ماہ آٹھ بار یا نو بار سفر کرے یا ہر ماہ آٹھ دن یا نو دن سفر میں
رہے تو بنا بر احتیاط لازم قصر اور پوری دونوں پڑھے۔
سوال36: وہ شخص جس کا پیشہ سفر ہو جیسے ڈرائیور:
ا:بعض اوقات وہ شرعی مسافت سے کم تر سفر کرتا ہے جیسے کوئی شہر کے اندر ہی ٹیکسی چلاتا ہو اور دوسرے شہر کی طرف ڈرائیونگ نہ کرتا ہو
ب: اور بعض اوقات اسکی ڈرائیونگ کا کام شرعی مسافت سے زیادہ ہوتا ہے جیسے کوئی ایک شہر سے دوسرے شہر تک ٹیکسی چلاتا ہو، جہاں شرعی مسافت پوری ہوتی ہو
تو ان دونوں قسم کے ڈرائیور حضرات کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:
۱۔ پہلی قسم کا ڈرائیور جو شہر کے اندر ہی ٹیکسی چلاتا ہو، شہر کے اندر اسکی نماز پوری ہوگی اور اگر اتفاقاً شہر سے باہر کا سفر ہوجائے تو وہاں اسکی نماز قصر ہوگی اگرچہ وہ اپنے کاروبار میں ہو۔
ب:دوسری قسم کا ڈرائیور جو شہر سے باہر ٹیکسی چلاتا ہو اسکی نماز ہر جگہ پوری ہوگی، جب اس پہ ڈرائیور یا اس ہی کی مثل کوئی عنوان صادق آجائے، اور جب اس پر کثیر السفر کا عنوان صادق آجائے تو وہ اپنے تمام سفروں میں نماز پوری پڑھے گا، اگرچہ اپنے پیشے کے علاوہ کسی اور کام جیسے علاج، زیارت یا انہی جیسے کسی کام کے لئے سفر کرے۔
سوال37:آیا ڈرائیور کا تین بار سفر کرنا ضروری ہے تاکہ اس پہ ڈرائیور کا عنوان صادق آ سکے؟
جواب: اس شرط کی ضرورت نہیں، بلکہ جب بھی اس پہ ڈرائیور کا عنوان صادق آجائے گا وہ نماز پوری پڑھے گا، لیکن اگر اس پہ ڈرائیور کا عنوان صادق آنا بار بار سفر کرنے پہ موقوف ہو تو پھر اس وقت (ڈرائیور کا عنوان صادق آنےسے)پہلے نماز قصر پڑھے گا۔
سوال38:وہ شخص جس کا پیشہ سفر ہو جیسے ڈرائیور اور ملاح، اگر ان دونوں کا سفر نہ تو کاروبار کے متعلقات میں سے ہو اور نہ ہی پیشے میں سے ہو، جیسے اگر سفر حج یا زیارت کے لئے جائیں تو ان کی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
جواب: اس سوال کے جواب میں قدرے تفصیل ہے، پس اگر:
۱:اگر ان پہ کثیر السفر کا عنوان صادق نہ آئے تو ان دونوں کی نماز قصر ہوگی جیسے ان دونوں کے علاوہ مسافروں کی ہوتی ہے اور
۲:اگر ان پر کثیر السفر کا عنوان صادق آئے تو انکی نماز پوری ہوگی اگرچہ انکا سفر اپنے پیشے کے متعلق نہ بھی ہو۔
سوال39:اگر کوئی شخص بار بار اپنے کاروبار کے علاوہ کسی اور غرض سے سفر کرے جیسے کوئی روزانہ سیر و تفریح، علاج یا زیارت وغیرہ کے لئے سفر کرے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کثرتِ سفریعنی وہ ہر ماہ میں دس بار سفر کرے یا دس دن سفر پہ رہے اور اسی ترتیب سے اسکا سال میں چھے ماہ یا دو سال میں تین تین ماہ سفر پہ رہنا متحقق ہو جائے تو اس پر پوری نماز پڑھنا واجب ہے۔
سوال40: کثرتِ سفر سے کیا مراد ہے؟
جواب: وہ شخص جو شہر سے باہر اپنے پیشے اور ملازمت کے لئے بطور مقدمہ یا کسی اور وجہ سے بار بار سفر کرتا ہواگر مندرجہ ذیل تفصیل کے مطابق سفر کرے تو کثرت ِسفر متحقق ہو جائے گا:
۱۔ وہ ہر ماہ دس دنوں میں دس بار سے کم سفر نہ کرے۔
۲۔ یا ہر ماہ دو یا تین سفر کرے لیکن دس دن سے کم سفر میں نہ رہے، بشرطیکہ ان دونوں مذکورہ بالا صورتوں میں ایک سال میں چھ ماہ یا دو سالوں میں تین تین ماہ یا بیشتر سفر کرنے کا عزم و ارادہ ہو۔
۳۔ اگر مثلاً ہر ماہ چار بار سفر کرے یا ہر ماہ سات یا اس سے کمتر سفر کرے تو اسکی نماز قصر ہوگی اور اگر ہر ماہ آٹھ بار یا نو بار سفر کرے یا ہر ماہ آٹھ دن یا نو دن سفر میں رہے تو بنا بر احتیاط لازم قصر اور پوری دونوں پڑھے۔
سوال41: وہ شخص جو سال کے کچھ ماہ سفر کو اپنا پیشہ قرار دے جیسا کہ
ا۔ وہ شخص جو فقط موسمِ حج میں مکہ مکرمہ اور جدّہ کے درمیان کرائے
پرگاڑی چلائے
۲:فقط موسم گرما میں سبزی وغيره لانے کے لئے سفر کرے
تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: مذکورہ مدت میں وہ نماز پوری پڑھے گا لیکن اگر اتفاق سے ان مقامات کی طرف سفر کرے جہاں وہ کام کرتا ہو یا ان مقامات کے علاوہ کہیں اور سفر کرے تو اس پر قصر پڑھنا واجب ہے۔
سوال42: وہ قافلہ سالار جو ہر سال موسمِ حج میں مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں اور سال کے باقی ایام اپنے ملک میں مقیم رہتے ہیں انکی
نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: وہ قافلہ سالار جو ہر سال موسمِ حج میں مکہ مکرمہ کا سفر کرتے ہیں اور سال کے باقی ایام اپنے ملک میں مقیم رہتے ہیں اگر ان کا سفر لمبے دورانیے جیسے تین ماہ وغیرہ تک طول پکڑ جائے تو انکی نماز پوری ہوگی لیکن اگر انکا سفر مختصر دورانیے پہ مشتمل ہو جیسے تین ہفتے تو انکی نماز قصر ہوگی اور اگر تین ماہ اور تین ہفتوں کی
درمیانی مدت تک ان کا سفر طولانی ہو تو بنا بر احتیاط لازم وہ نماز
قصر اور پوری دونوں پڑھیں۔
سوال42:ڈرائیور کے علاوہ وہ افراد جو اپنی ملازمت یا کسی اور وجہ سے بار بار سفر کرتے ہیں کن صورتوں میں کثیر السفر قرار پائیں گے؟
جواب: مسافر کے حق میں ذیل میں سے پہلی پانچ صورتوں میں
کثرت السفر ثابت ہوتا ہے:
پہلی صورت:ہر روز سفر کرے اور واپس اپنے گھر لوٹ آئے۔
دوسری صورت: ایک دن اپنے گھر رہے اور دوسرے دن سفر کرے۔
تیسری صورت: دو دن گھر میں رہے اور دو دن سفر کرے۔
چوتھی صورت: تین دن گھر میں رہے اور تین دن سفر کرے۔
پانچویں صورت: چار دن گھرمیں رہے اور تین دن سفر کرے۔
چھٹی صورت: پانچ دن گھر میں رہے اور دوران ہفتہ دو دن سفر کرے،
تو بنا بر احتیاطِ واجب ضروری ہے کہ قصر اور پوری دونوں نمازیں پڑھے۔
ساتویں صورت: ایک ہفتے میں یا دو ہفتوں کے دوران ایک بار سفر کرے تو اسکی نماز قصر ہوگی کیونکہ اس پر عرف میں کثیر السفر کا عنوان صادق نہیں آتا۔
نوٹ۔ محترم قارئین کرام کی خدمت میں ان کے استفادے کے لئے جدول نمبر(۱) پیش خدمت ہے جو کثیر السفر کی اُن صورتوں کو واضح کر رہا ہے جو مسافر کو دوران سفر پیش آتی ہیں۔یہ جدول آیت اللہ العظمی سید علي الحسيني السيستاني دام ظله کے دفتر سے صادر ہوا ہے:
سوال43: گزشتہ جدول میں مذکور صورتیں جس شخص پہ صادق نہ آئیںجبکہ وہ دس یا بیشتر دن سفر میں گزارے تو آیا اسکی نماز پوری ہوگی؟
جواب: جی ہاں، اگر اس نے طے کیا ہو کہ ایک ماہ میں دس دن سے کم سفر نہیں کرے گا، اگرچہ دو یا تین سفر ہی کیوں نہ کرے، جبکہ اس کا ارادہ ہو کہ ایک سال میں چھے ماہ یا دو سالوں میں تین تین ماہ یا بیشتر مدت سفر جاری رکھے گا تو یہ کثیر السفر کہلائے گا۔
سوال44: ایک شخص اپنے وطن سے نکلتا ہے اور چند ماہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتا ہے اورلیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ان میں کچھ جگہوں پر اسکی نماز پوری ہوگی کیونکہ وہ کچھ جگہوں پہ مثلاً دس دن قیام کا ارادہ رکھتا ہو تو آیا ایسا شخص کثیر السفر شمار ہوگا یا دو سالوں میں تین تین ماہ یا ایک سال میں چھے ماہ مکمل ہونے سے پہلے کسی جگہ دس دن قیام کی نیت کثیر السفر کے عنوان صادق آنے سے مانع ہوگی کیونکہ دس دن کی اقامت کی نیت سفرِ شرعی کے لئے مانع ہے؟
جواب: وہ جگہ جہاں انسان دس دن قیام کی نیت کرتا ہے وہ وہاں مسافر ہوتا ہے لیکن اس کا حکم تمام والا ہوتاہے یعنی نماز روزے کے لحاظ سے اس کا حکم یہ ہے کہ پوری نماز پڑھے گا اور روزہ بھی رکھے گا پس اسکے کثیر السفر قرار پانے یا نہ پانے میں اسکے یہ سفر شمار ہوں گے۔
ساتویں شرط:
مسافر کو یہ یقین ہو کہ دوران سفر کسی ایسی جگہ سے نہیں گزرے گا جس کی وجہ سے اس کی نماز قصر کی بجائے پوری ہوجائے گی۔
ذیل میں اسکی تین صورتوں كا بیان ہے:
پہلی صورت
۱۔ وطن: اگر مسافر اپنے وطن سے گزرے اور وہاں قیام کرے تو تب تک اسکی نماز پوری ہوگی جب تک کوئی نیا سفر نہ کرے۔
سوال45: وطن سے کیا مراد ہے؟
جواب: وطن سے مراد مندرجہ ذیل تین جگہوں میں سے ایک ہے:
۱: انسان کا وہ حقیقی ٹھکانا جسکی طرف وہ منسوب ہو۔پس اسکے والدین کی رہائش گاہ اور عام طور پر اس شخص کی جائے ولادت اسکا وطن کہلاتی ہے۔
۲:وہ جگہ جسے انسان ہمیشہ کے لئے اپنا مسکن قرار دے اس معنی میں کہ وہ اپنی باقی زندگی وہیں گزارنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
۳۔ وہ جگہ جسے انسان ایک طویل عرصے تک اپنا مسکن قرار دے اس معنی میں کہ اس جگہ وہ مسافر شمار نہ ہو اور عرف عام اس جگہ کو اس کے لئے مسکن شمار کرے۔
نوٹ: دوسری اور تیسری قسم کے وطن میں فرق یہ ہے کہ دوسری قسم کے وطن میں اس نے اپنی باقی ماندہ زندگی وہیں گذارنے کا ارادہ کیا ہوتا ہے جبکہ تیسری قسم کے وطن میں اس نے ایک لمبے عرصے تک وہاں رہنے کا ارادہ کیا ہوتا ہے۔
سوال46: آپ نے وطن کی اقسام میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وہ جگہ
جہاں انسان نے طویل عرصے کے لئے رہائش کا ارادہ کیا ہو وہ اسکا وطن ہے تو آیا اس کی کوئی مدت بھی ہے کہ کتنا عرصہ رہنے کے بعد وہ جگہ اس کا وطن قرار پائے گی؟
جواب: ظاہرا ڈیڑھ سال رہنا کافی ہے بشرطیکہ وہاں ہر ہفتے میں
پانچ دن سے کم نہ رہے۔
نوٹ: محترم قارئین کرام کی خدمت میں ہم آگے جدول نمبر(۲) پیش کر رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کن صورتوں میں تیسری قسم کی جگہ انسان کے لئے وطن قرار پاتی ہے اور کن میںنہیں۔جبکہ یہ جدول آیت اللہ العظمی سید علي الحسيني السيستاني دام ظله کے دفتر سے صادر کردہ ہے:
 
 
 
 
 
 
 
جدول2
 
 

سوال47: آیا ایک شخص کے ایک سے زیادہ وطن ہو سکتے ہیں؟
جواب: ممکن ہے کہ انسان اپنے لئے ایک سے زیادہ وطن قرار دے اس معنی میں کہ مختلف جگہوں کو اپنی مستقل رہائشیں قرار دے مثال کے طور پر موسم گرما میں چار ماہ ایک جگہ اور موسم سرما میں چار ماہ دوسری جگہ اور سال کی باقی ماندہ مدت کسی تیسری جگہ رہے تو وہ شخص تینوں جگہ نماز پوری پڑھے گا۔
سوال48:اگر کوئی شخص اپنے وطن سے گزرے لیکن وہاں قیام نہ کرے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر قیام کے بغیر فقط اپنے وطن سے گزرے تو یہاں وطن کے اسکے سفر کومنقطع کرنے میں اشکال ہے، یعنی بنا بر احتیاط واجب ضروری ہے کہ وہ وطن سے گزرنے کے بعد تب تک نماز قصر اور پوری دونوں طرح سے پڑھے جب تک وہاں سے آگے شرعی مسافت کا قصد نہ ہو خواہ آنے جانےکی مجموعی مسافت شرعی مسافت کے برابر ہو (پس اگر وطن سے آگے شرعی مسافت نہیں تو وہ نمازیں قصر اور تمام ہر دو طرح سے پڑھے گا)۔
سوال49:اگر مسافر دوران سفر فقط پانچ منٹ کے لئے اپنے یا اپنے کسی دوست کے گھر رکے تو آیا اسکی نماز کے پورے ہونے کے لئے اتنی مدت کافی ہے یا عرف عام میں قیام کا صادق آنا ضروری ہے؟
جواب: ایسی صورت میں اسکے رکنے پہ قیام صادق آنا ضروری ہے۔
سوال50:ایسا طالب علم جو یونیورسٹی جاتا ہو اور چار سال تک اس کی تعلیم جاری رہے اور اسی دوران گرمیوں کی چھٹیاں آتی ہوں جو تقریبا تین ماہ
تک جاری رہتی ہوں تو:
 ۱:اس مدت میں دورانِ تعلیم اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اسکی نماز پوری ہوگی۔
۲:چھٹیوں کے دوران اگر وہ امتحانی نتائج وصول کرنے یا ویسے ہی یونیورسٹی جائے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اسکی نماز پوری ہو گی۔
۳:وہ طالب علم جو کسی انسٹیٹیوٹ میں تعلیم حاصل کرے اور اسکی تعلیم دو سال تک جاری رہے تو وہاں اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اسکی نماز پوری ہو گی، کیونکہ دو سالوں کے دوران وہ جگہ اس کا وطن بن جاتی ہے اور ممکن ہے کہ گزشتہ جدول نمبر (۱) کی پہلی صورت اسے شامل ہو۔
سوال51:اگر کوئی شخص اپنے وطن کو اس نیت سے چھوڑے کہ
دوبارہ اس میں سکونت اختیار نہیں کرے گا(یعنی سکونت اختیار کرنے سے روگردانی کرلے)تو آیا وطن کا حکم اس سے ختم ہو جائے گا؟
جواب: اگر کوئی شخص سکونت اختیار کرنے سے مکمل طور پر روگردانی کی نیت سے وطن سے نکلے تو اس سے وطن کا حکم زائل ہو جائے گا اس معنی میں کہ اسے یہ اطمینان ہو کہ دوبارہ اس جگہ سکونت کے لیے نہیں آئے گا، لیکن اگر اس جگہ دوبارہ سکونت اختیار کرنے کا معقول احتمال ہو تو وطن کا حکم باقی رہے گا، پس اگر وہ اپنے عزیز و اقارب کی زیارت وغیرہ کے قصد سے اس شہر میں آئے تو نماز پوری پڑھے گا اور اس حکم میں فرق نہیں کہ وہ وطن اسکی جائے ولادت یا اسکا اختیار کردہ وطن ہو۔
سوال52:بیوی جو شوہر کی ہمراہ ہوتی ہے اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اسکا حکم وطن سے روگردانی کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ تبدیل ہوگا، پس اگر وہ اپنے وطن سے روگردانی کرے تو جب وہ اس جگہ (وطن کی جانب) جائے تواس کی نماز قصر ہوگی۔
سوال53: وطن سے روگردانی کرنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: اپنے وطن سے روگردانی (جو اس جگہ کو وطن کے حکم سے نکال دیتی ہے) کا مطلب یہ ہے کہ مکلف جب وطن سے نکلے تو پلٹ کر اس میں سکونت اختیار کرنے کی کوئی نیت نہ رکھتا ہو۔
سوال54: اگر کوئی شخص کسی ایسی خاتون سے شادی کرے جس کا گھر شوہر کے گھر سے شرعی مسافت(44 کلو میٹر) پر واقع ہو جو قصر کا موجب ہو تو:
ا۔ وہ خاتون جب اپنے والدین کے گھر ملاقات کے لئے جائے اور
نماز کا وقت آ جائے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
جواب: شادی کے وقت اگر وہ اپنے والدین کے شہر سےاس نیت اور اطمئنان کیساتھ نکلے کہ دوبارہ سکونت کے لئے والدین کے شہر نہیں
آئے گی تو ایسی صورت میں جب والدین کے ساتھ ملاقات وغیرہ کے لیے انکے شہر آئے تو اسکی نماز قصر ہوگی بشرطیکہ دس دن اقامت وغیرہ
کی نیت نہ ہو۔
ب۔ اگر اس خاتون کی نیت ہو کہ بچے کی ولادت کے وقت وہ اپنے والدین کے گھر آئے گی جسکا دورانیہ (40) دن تک پہنچ جاتا ہے تو والدین کے گھر اسکی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
جواب: اگر والدین کے شہر سے مکمل طور پر روگردانی متحقق ہو جائے تو اسکی نماز قصر ہوگی مگر یہ کہ اگر اس کی نیت ایک ہی جگہ دس دن رکنے کی ہو تو اس لحاظ سے اسکی نماز پوری پڑھے گی۔
دوسری صورت
دس دن ایک ہی جگہ اقامت کا قصد ہو:
پس اس قصد سے سفر کا حکم (یعنی حكم قصر)ختم ہو جاتا ہےاور مسافر نے جہاں دس دن اقامت کا قصد کیا ہو وہاں نماز پوری پڑھنا واجب ہوتا ہے۔
 سوال55: آیا مذکورہ بالا دو اسباب کے علاوہ بھی کوئی ایسا عمل ہے جس سے سفر کا حکم ختم ہو جائے اور انسان کی نماز پوری ہو جائے؟
جواب: جی ہاں، دس دن کی اقامت ایک ایسا عمل ہے جس سے مسافر کی نماز پوری ہو جاتی ہے، پس مسافر نے اگر دس دن ایک مخصوص جگہ دس دن رکنے کا قصد کیا ہو یا دس دن ایک جگہ رکنے کا علم ہو(اگرچہ وہاں رکنا اضطراری ہی کیوں نہ ہو) تو وہ نماز پوری پڑھے گا اور روزہ رکھنا بھی اس پہ واجب ہو گا۔
سوال56: دس دن کب سے شمار کئے جائیں گے؟
جواب: جب مسافر کسی ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں اس نے دس دن قیام کی نیت کی ہو اور اسے وہاں اتنی مدت قیام کا اطمینان ہو تو اسی وقت سے دس دن کو شمار کیا جائے گا۔
سوال57: ان دس دنوں کا شمار اوقات شب و روز میں سے کس وقت شروع ہو گا؟
جواب: طلوع فجر سے دن کا شمار کیا جائے گا۔
سوال58: آیا دو جگہوں(جیسے نجف و کوفہ) کے مابین قیام کا قصد بھی مکلف کو مسافر کے حکم سے خارج کر دیتا ہے؟
جواب: دس دن ایک ہی جگہ رکنا شرط ہے پس اگر کوئی نجف اشرف اور کوفہ دونوں شہروں میں دس دن قیام کا قصد کرے تو اسکی نماز قصر ہوگی، البتہ اس شہر کی حدود سے نہ نکلنے کا قصد کرنا شرط نہیں، بلکہ اگر وہ دس دن شہر کے متعلقہ علاقوں میں جانے کا قصد کرے جیسے اس شہر کے باغات، کھیت، قبرستان اور ندی نالے وغیرہ جہاں اس شہر کے باشندے اس شہر کا باسی ہونے کے اعتبار سے عام طور پر جاتے ہوں تو تو اتنی مقدار تک شہر سے نکلنے کا قصد مکلف کے دس دن قیام سے مانع نہیں۔
سوال59: اگر کوئی نجف اشرف میں دس دن قیام کا قصد کرے اور حد ترخّص یا اس سے زیادہ لیکن مسافت شرعی سے کم تک نکلنے کا قصد رکھتا ہو جیسے کوئی نجف اشرف میں قیام کا قصد کرے جبکہ مسجد کوفہ یا سہلہ کی جانب نکلنے کا قصد ہو تو آیا اتنی مقدار میں نکلناقیام کے قصد سے مانع ہے؟
جواب: مذکورہ مقدار تک نکلنا قصدِ قیام سے مانع نہیں بشرطیکہ پورا دن دن یا اس کے لگ بھگ وقت کے لئے نہ نکلا جائے جیسا کہ اگر مکلف زوال کے بعد نکلے اور اور مغرب سے ایک گھنٹہ بعد تک واپس آ جائے تو یہ اسکے قصدِ قیام میں خلل نہیں ڈالتا، لیکن مکلف کو چاہیئے کہ اپنی قیام گاہ(نجف)سے یوں بار بار نہ نکلے کہ دو یا اسے زیادہ جگہوں کی اسکی قیام گاہ شمار کیا جانے لگے۔
سوال60: اگر دس دن قیام کی مدت (دس دن) ختم ہو جائے اور اسی جگہ مزید رہنے کا ارادہ ہو تو آیا وہاں قیام کی دوبارہ نیت ضروری ہے؟
جواب: مدت قیام پوری ہونے کے بعد دوبارہ قیام(دس دن)کی نیت کرنا ضروری نہیں اور مکلف جب تک اس جگہ سے سفر نہیں کرتا وہاں پوری نماز ہی پڑھے گا۔
سوال61: اگر زوال کے وقت مسافر ایک مخصوص جگہ تک پہنچ جائے اور وہیں قیام کی نیت کرلے تو اسکے وہاں دس دن قیام کا شمار کب سے ہو گا؟
جواب: جس دن وہاں قیام کی نیت کرے اس آدھے دن کو کسی اور دن کے ساتھ ملا کر ایک دن شمار کیا جائے گاجیسا کہ اگر کسی شخص نے یکم محرم الحرام زوال کے وقت کسی جگہ دس دن قیام کی نیت کی ہو تو گیارہ محرم الحرام زوال تک پورے دس دن مکمل ہوں گے اس صورت میں اس پر پوری نماز پڑھنا واجب ہو گا۔
سوال62: اگر کوئی مسافر قصر کی نیت سے نماز شروع کرے لیکن دورانِ نماز دس دن قیام کا قصد کر لے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہو گا؟
جواب: اس پہ لازم ہے کہ نماز کو پورا (چار رکعت)مکمل کرے۔
سوال63: جس شخص نے دس دن قیام کی نیت کر کے اپنی مسئلے(کہ دس دن کے قصد سے نماز پوری ہو جاتی ہے) سے نا آگاہی کے سبب قصر نماز پڑھ لی ہو اسکا وظیفہ شرعی کیا ہے؟
جواب: بنا بر احتیاط واجب اس پہ دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے۔
سوال64:جس شخص نے دس دن قیام کی نیت کی ہو اور پوری نماز پڑھنے کی نیت سے نماز شروع کرنے کے بعد دوران نماز قیام کی نیت بدل لے تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:اسکی دو صورتیں ہیں :
1:اگر تیسری رکعت کے رکوع میں داخل ہونے سے پہلے قیام کی نیت بدل لے تو ضروری ہے کہ (بیٹھ جائے اور) نماز کو قصر کی شکل میں مکمل کرے۔
2: اور اگر تیسری رکعت کے رکوع کے بعد قیام کی نیت ختم ہو جائے تو بنا بر احتیاط لازم اسکی نماز باطل ہے اور اس پہ نماز کو ابتداء سےپڑھنا واجب ہے۔
سوال65:نماز ظہر کو قصر ادا کرنے کے بعد دس دن قیام کی نیت کرلینے والے مسافر کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس نے جونماز ادا کی تھی وہ درست ہے لیکن نماز عصر کو پورا
(چار رکعات) پڑھے گا۔
سوال66: اگر کسی نے ایک شہر میں دس دن قیام کی نیت کی ہو لیکن بعد ازاں اپنی نیت بدل لے تو اس کا شرعی وظیفہ کیا ہو گا؟
جواب:اس مسئلے کی چند صورتیں ہیں:
پہلی صورت: اگر وہ چار رکعتی پنجگانہ نمازوں میں سے کوئی ایک ادا پوری نماز پڑھنے کے بعد قیام کی نیت بدل لے(یعنی چار رکعتی نمازجیسے ظہر)تو جب تک وہ اس شہر میں رہے گا پوری نماز پڑھے گا۔
دوسری صورت: اگر وہ چار رکعتی ادا پنجگانہ پوری نماز کی مکمل ادائیگی سے پہلے نیت بدل لے(یعنی چار رکعتی نمازجیسےظہر) تو اس پہ قصر نماز پڑھنا واجب ہے۔
تیسری صورت: چار رکعتی پنجگانہ ادا اور پوری نماز کے دوران دس دن قیام کی نیت ختم ہوجائے تو:
1:اگر تیسری رکعت کے رکوع میں داخل ہونے سے پہلے قصر نماز کی طرف پلٹ جانے کی نیت کرے تو(بیٹھ جائے اور) نماز قصر مکمل کرے اوراحوط
اولٰی یہ ہے کہ بعدازاں دوبارہ نماز پڑھے۔
2: اگر تیسری رکعت کے رکوع کے بعد دس دن قیام کی نیت ختم ہو جائے تو بنا بر احتیاطِ لازم اسکی نماز باطل ہے اور اس پہ نئے سرے سے قصر نماز پڑھنا لازم ہے۔
سوال67:اگر کوئی شخص کسی شہر میں دس دن قیام کی نیت کرے اور پھر دس دن رکے یا چار رکعتی نماز پوری پڑھ لے اورپھر مسافت شرعی سے کم تر مسافت تک نکلنے کا ارادہ کرے تو اس میں چند صورتیں ہیں:
پہلی صورت: اگر واپسی پر دس دن قیام کا قصد رکھتا ہو تو اسکی نماز کا
کیا حکم ہے؟
جواب: جانے آنے کے دوران اور جس جگہ جانے کا قصد رکھتا ہے وہاں پوری نماز پڑھنا واجب ہے۔
دوسری صورت: واپسی پر دس دن سے کم رہنے کا قصد ہو تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: جانے، آنے کے دوران اور جس جگہ جانے کا قصد رکھتا ہو وہاں پوری نماز پڑھنا ضروری ہے۔
تیسری صورت: واپسی کا قصد ہی نہ رکھتا ہو بلکہ جس جگہ جانے کا ارادہ ہو وہیں سے آگے سفر کی نیت ہو تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: جس شہر میں اقامت کی تھی وہاں سے نکلتے ہی قصر نماز پڑھنا
واجب ہوگی۔
چوتھی صورت: جس جگہ جانے کا قصد رکھتا ہے وہاں سے آگے سفر کی نیت ہو لیکن واپسی پر وہ جگہ راستے میں آئے جہاں اس نے دس دن اقامت کی نیت کی تھی؟
جواب: جاتے ہوئے، جس جگہ جا رہا ہے وہاں اوراسکی قیام گاہ میں اس کے لئے قصر نماز پڑھنا واجب ہے۔
پانچویں صورت: واپسی اور سفر کو بھول جائے یا اسکی واپسی یقینی نہ ہواورمعلوم نہ ہو کہ جس جگہ جا رہا ہے وہاں سے آگے سفر کرے گا یا اپنی حالیہ قیام گاہ پہ واپس آئے گا یا اگربالفرض واپس آتا بھی ہے تو معلوم نہیں کہ وہاں دس دن رکے گا یا نہیں تو اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: ایسا شخص جب تک کوئی نیا سفر نہ کرے اس وقت تک پوری
نماز پڑھے گا۔
تیسری صورت
تیس دن ایک ہی جگہ حالتِ تذبذب میں قیام:
سوال68: تذبذب کی حالت میں قیام کا کیا مطلب ہے؟
جواب: مسافر کا ایک ہی جگہ تیس دن تک یوں رہنا کہ جب ایک شہر میں داخل ہو تو اس کا خیال ہو کہ وہ دس دن نہیں رکے گا یا اس حوالے سے تردد میں ہو اور اسی تذبذب کی حالت میں تیس دن تک وہاں رکے تو تیس دن وہاں رکنے کے بعد اس کے لئے پوری نماز پڑھنا ضروری ہے۔
سوال69: ایسا مسافر جو کسی جگہ تیس دن تک تذبذب کی حالت میں رہے تیس دن مکمل ہونے سے پہلے اسکی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: تیس دن مکمل ہونے تک اس پہ قصر نماز پڑھنا واجب ہے۔
سوال70:ایسا مسافر جو تذبذب کی حالت میں تیس دن ایک جگہ رہے آیا اس کے لئےتیس دن ایک ہی جگہ رہنا ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں اس کے لیے تیس دن ایک ہی جگہ رہنا شرط ہے اورکئی جگہوں پر تیس دن رہنا کافی نہیں، پس اگر مسافر دو شہروں نجف اور کوفہ میں تیس دن رہے تو اس پہ پوری نماز پڑھنے کا حکم مترتب نہیں ہوگا۔
سوال71: وہ شخص جو کسی جگہ تیس دن تذبذب کی حالت میں رہے آیا اس کے لیے حد ترخص یا اس سے زائد لیکن شرعی مسافت سے کم فاصلے تک نکلنا جائز ہے؟(جیسے کہ کوئی نجف اشرف میں تیس دن تک تذبذب کی حالت رہے جبکہ مسجد کوفہ یا سہلہ تک نکلنے کا قصد بھی ہو تو آیا تب بھی تیس دن کے بعد اسکی نماز پوری ہو جائے گی؟
جواب: تیس دن کے دوران مذکورہ مسافت تک نکلنا اس شرط پہ درست ہے کہ پورا دن یا اس کے لگ بھگ وقت کے لئے نہ نکلے جیسا کوئی شخص زوال کے بعد نکلے اور مغرب سے ایک گھنٹہ بعد واپس آنے کا قصد رکھتا ہو تو حرج نہیں۔لیکن بار بار مذکورہ مسافت تک نہیں جانا چاہیئے تاکہ اس پہ ایک سے زائد جگہ مقیم ہونا صادق نہ آئے۔
سوال72: جس شخص نے نجف اشرف میں دس دن قیام کا قصد کیا ہو، اور اس نے حد ترخّص تک جانےیا اس سے زائد لیکن مسافتِ شرعی سے کم سفر کا ارادہ کیا ہو جیسے اس نے نجف اشرف کا قصد کیا ہو ساتھ ہی مسجد کوفہ یا سہلہ کی جانب جانے کا بھی قصد کیا ہو، تو آیا یہ اسکےقیام کے قصد کو متاثر کریگا؟
جواب: یہ عمل قیام کے قصد کو تب تک نقصان نہیں پہنچاتا جب تک باہر جانے کا وقت پورے دن یا اس کے لگ بھگ وقت پر محیط نہ ہوجائے پس اگر زوال کے بعد باہر نکلے اور مغرب سے ایک گھنٹہ بعد واپس آجائے تو اسکے قیام کے قصد میں خلل واقع نہیں ہوتا بشرطیکہ اس عمل میںاتنی تکرار نہ ہو کہ ایک جگہ سے زائد جگہوں پر قیام صادق آئے۔
سوال73:اگر مسافر ایک جگہ انتیس دن تذبذب کی حالت میں رہے اور پھر دوسری جگہ منتقل ہو جائے اور وہاں بھی انتیس دن تذبذب کی حالت میں رہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: مذکورہ تمام دنوں میں وہ نماز قصر پڑھے گا یہاں تک کہ ایک جگہ دس دن کی اقامت کی نیت کرے یا ایک ہی جگہ تیس دن متذبذب رہے یا اس پر کثیر السفر کا عنوان صادق آئے۔