مقاماتِ تخيير

(وہ مقامات جہاں مسافر کو نماز قصر اور تمام پڑھنے میں اختیار ہے)
سوال74:کن مقامات پہ مسافر کو نماز قصر اور پوری پڑھنے میں اختیار ہے؟
جواب: مسافر کو چار مقامات پہ قصر اور پوری نماز پڑھنے میں اختیار ہے :
1۔ مکّہ مکرّمہ۔
2۔ مدینہ منوّرہ۔
3۔ کوفہ
4۔ حرم امام حسین 
سوال75: آیا تین شہروں (مکّہ مکرّمہ، مدینہ منوّرہ، کوفہ) میں تخییر کا حکم فقط ان شہروں کی مساجد (مسجد الحرام، مسجد نبوي، مسجد كوفہ) تک ہی محدود ہے یا یہ حکم پورے شہر کو شامل ہے؟
جواب: تخییر کا حکم مذکورہ پورے شہروں میں ثابت ہے اگرچہ
احتیاط مستحب ہے کہ فقط مذکورہ مساجد ہی میں تخییر کو استعمال کیا جائے۔
سوال76:آیا مسافر کو امام حسین  کے پورے حرم میں نماز پوری یا قصر پڑھنے کا اختیار ہے؟
جواب: قبرِ أمام حسین  کی چاروں طرف پچیس ہاتھ (11.5میٹر) تک اختیار ہے اور بعض رواق (ایوان)بھی اس حدود میں داخل ہو جاتے ہیں البتہ پچھلی طرف واقع مسجد کا کچھ حصہ اس حدود سے خارج ہوجاتا ہے۔
سوال77: اگر مذکورہ چار مقامات میں سے کسی مقام پر مسافر نماز ادا نہ کر سکے تو قضا قصر یا تمام کس صورت میں بجا لائے گا؟
جواب: مقاماتِ تخییر میں مسافر سے جو نمازیں رہ جائیں بنا بر احتیاط لازم انکی قضا قصر پڑھے گا اگرچہ انہی مقامات میں انجام دے۔
سوال78: اگر مسافر دورانِ سفر اپنی گذشتہ نمازوں کی قضا بجا لانا
چاہے تو آیا ان مقامات میں اسے ان قضا نمازوں کو بھی پورا
یا قصر پڑھنے کا اختیارہے؟
جواب: تخییر کا حکم فقط پنجگانہ(ادا)نمازوں کے ساتھ خاص ہے اور قضا کو شامل نہیں۔
سوال79: اگر مذکورہ چار مقامات پہ مسافر نے قصر کی نیت سے نماز شروع کی ہو تو آیا دوران نماز پوری نماز پڑھنے کی نیت کر سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں مذکورہ چار مقامات پہ دورانِ نماز قصر سے بدل کر پوری نماز کی نیت کرنا جائز ہے اسی طرح اسکے برعکس پوری نماز پڑھنے کی نیت سے قصر کی طرف بھی عدول کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ اس اس مقام سے تجاوز نہ کر چکا ہو جہاں سے نیت کو پھیرا جا سکے یعنی تیسری رکعت کے رکوع سے پہلے نیت تبدیل کر سکتا ہےا س کے بعد نہیں۔
سوال80: وہ مقامات جہاں مسافر کو نماز پوری اور قصر پڑھنے کا اختیار ہے آیا وہاں روزہ رکھنا درست ہے؟
جواب: یہ تخییر فقط نماز کے ساتھ خاص ہے روزے کو شامل نہیں لہذا افطار کرنا ضروري ہے، اور اس شخص سے روزہ درست نہیں ہوگا۔