سفر ميں روزے کا حکم

سوال81: آیا سفر میں واجب روزہ درست ہے؟ 
جواب: ایسا سفر جس میں نماز، قصر ہو جاتی ہو اور مسافر کو مسئلے کا علم بھی ہو (کہ سفر میں روزہ درست نہیں) اس میں واجب روزہ رکھنا درست نہیں۔ لیکن تین موارد میں حالت سفر میں روزہ رکھا جاسکتا ہے: 
1:تین دن کے روزے اور یہ ان دس روزوں میں سے ہیں جو حج تمتع کے حیوان کے بدلے اس شخص کو رکھنے ہوتے ہیں جو حیوان(کے بندوبست) سے عاجز ہوجائے (تو وہ دس میں سے تین روزےسفر میں اور باقی سات اپنے وطن پہنچ کر رکھتا ہے)۔
2:اٹھارہ دن(کفارے)کے روزے۔ پس وہ شخص جو غروب سے پہلے عمداً عرفات سے کوچ کرے تو اس کا کفارہ بدنہ (اونٹ یا گائے) ہے(اور اگر کوئی اسکی استطاعت نہ رکھتا ہو) تو اس کے بدلے اٹھارہ دن روزے رکھے گا۔ 
3: نذر(منت) کا روزہ جسے پورا کرنا خاص طور پر سفر میں مشروط ہو یا کسی معین دن نذر کا روزہ (چاہے سفر ہیں ہو یا سفریا حضر(حالتِ سفر میں نہ ہونا) میں)۔
سوال82: آیا سفر میں مستحب روزہ رکھنا درست ہے؟ 
جواب: اگر مکلف زوال کے بعد سفر کرے تو اسکا روزہ درست ہے، لیکن اگر زوال سے پہلے سفر کرے تو اسکا روزہ درست نہیں۔البتہ مدینہ منوّرہ میں حاجت کے تین روزے رکھنے پہ خاص دلیل وارد ہوئی ہے اور بنا بر احتیاط لازم یہ تین دن بدھ، جمعرات اور جمعہ لگاتار ہونے چاہئیں۔
سوال83: وہ شخص جو زوال کے بعد مثال کے طور پر امام حسین 
کی زیارت کے لئے سفر کا ارادہ رکھتا ہو آیا اس پہ ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھنا واجب ہے؟ 
جواب: بنا بر احتیاط لازم اس پہ روزہ رکھنا واجب ہے۔ 
سوال84: اگر مسافر اپنے شہر واپس لوٹنے کا ارادہ رکھتا ہو تو آیا حالتِ سفر میں اسکا روزہ درست ہے؟
جواب: اس کا روزہ درست نہیں، لیکن امساک کرنا(مبطلات روزہ سے اجتناب کرنا) جائز ہے، پس اگر زوال سے پہلے اپنے شہر میں داخل ہو جائے تو بنا بر احتیاط واجب اس دن کا روزے کی نیت کرے گا اور وہ روزہ کافی ہوگا، اور اگر زوال کے بعد اپنے شہر میں داخل ہو تو روزے کی نیت کرنا واجب نہیں اور اگر روزہ رکھے گا تو بنا بر احتیاط لازم یہ روزہ اسکے واجب روزے سے کفایت نہیں کرے گا۔ 
سوال85: جو شخص اپنے پیشے کی وجہ سے ہمیشہ سفر میں رہتا ہو اس کے روزے کا کیا حکم ہے اور کثیر السفر کا ضابطہ کیا ہے؟ 
جواب: اگر وہ شخص کثیر السفر ہو تو سفر میں اس پہ روزہ رکھنا واجب ہے اور وہ اپنے تمام سفروں میں نماز پوری پڑھے گا اور وہ شخص جو اپنے پیشے کے لئے بطور مقدمہ یا کسی اور وجہ سے بار بار اتنا سفر کرتا ہو کہ ہر ماہ کم از کم دس دنوں میں دس بار سفر کرے یا ہر ماہ کم از کم دس دن سفر میں رہے چاہے سفر دو یا تین بار ہی کرے بشرطیکہ ان دونوں صورتوں میں ایک سال میں چھ ماہ یا دو سالوں میں تین تین ماہ یا بیشتر سفر کرنے کا عزم و ارادہ رکھتا ہو تو یہ شخص کثیر السفر شمار ہوگا پس ایسا شخص جہاں بھی سفر کرے گا نماز بھی پوری پڑھے گا اور روزہ بھی رکھے گا لیکن ابتدائے سفر کے پہلے دو ہفتوں میں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ نماز قصر اور پوری دونوں پڑھے اور روزہ بھی رکھے اور قضا بھی کرے۔ 
اور اگر ہر ماہ چار بار سفر کرے یا ہر ماہ سات یا اس سے کمتر سفر کرے تو اسکی نماز قصر ہوگی اور اگر ہر ماہ آٹھ بار یا نو بار سفر کرے یا ہر ماہ آٹھ دن یا نو دن سفر میں رہے تو بنا بر احتیاط لازم قصر اور پوری دونوں پڑھے۔
سوال86: ماہ مبارک رمضان کے علاوہ اگر کوئی شخص زوال سے پہلے اپنے وطن واپس پہنچ جائے تو آیا اس کے لئے جائز ہے کہ اس دن قضا کے روزے کی نیت کرے؟
جواب: اگر اس نےمبطلاتِ روزہ میں سے کسی چیز کاارتکاب نہ کیا ہو تو جائز ہے۔
سوال87: آیا میرے لئے درست ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے کی نذر(منت) کروں تاکہ مستحب روزے کا ثواب حاصل کر سکوں جبکہ میرے ذمہ ماہ مبارک رمضان کے قضا روزے بھی باقی ہوں؟
جواب: اس میں اشکال ہے (یعنی بنا بر احتیاط واجب روزہ درست نہیں)
مگر یہ کہ نذر کا روزہ معین نہ ہو یا نذر کا روزہ معین ہو اور قضا روزے کو نذر کے معین روزے سے پہلے بجا لانا ممکن ہو اور فعلاً وہ بجا بھی لائے۔
سوال88: آپ نے سفر میں نذر کا روزہ جائز قرار دیا ہے پس اگر مکلف کے ذمے ماہ مبارک رمضان کی قضا نہ ہو تو آیا سفر سے پہلے یا بعد میں نذر کرنے سے مذکورہ حکم میں کوئی فرق آئے گا؟ 
جواب: حکم میں کوئی فرق نہیں۔لیکن اگر مکلف نے دن کے وقت اسی
روز کے روزے کی نذر کی ہو تو اس میں اشکال ہے (یعنی بنا بر احتیاط
واجب اسکا روزہ درست نہیں)۔
سوال89: آیا ماہِ مبارک رمضان میں اختیاراً بغیر کسی کام یا بیماری وغیرہ کے روزے سے جان چھڑانے کے لئے سفر کرنا جائز ہے؟ 
جواب: جی ہاں اختیاراً روزے سے فرار کے لئےسفرجائز لیکن مکروہ ہے، سوائے حج، عمرہ، جہاد فی سبیل اللہ، کسی مال کو ضائع ہونے سے بچانے یاکسی انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ماہ مبارک رمضان میں سفر کرنا مکروہ نہیں۔ 
سوال90: آیا مسافر کا کھانے پینے سے پیٹ بھرنا اور سفر میں دن میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟ 
جواب: جائز لیکن مکروہ ہے اور احتیاط مستحب ہے کہ ایسا(خصوصاً ہمبستری) نہ کی جائے۔ 
سوال91: اگر میں اپنے شہر کے علاوہ کسی اور جگہ سفر میں ہوں اور وہاں میں نے دس دن قیام کی نیت کی ہو اور میں نے عید کے دن روزہ نہ رکھنے کا اردہ کیا ہو تو آیا میں اس شہر میں رویتِ ہلال پہ اعتماد کروں جہاں میں نے قیام کیا ہویا اپنے اصلی شہر میں رویتِ ہلال پہ اعتماد کروں گا؟
جواب: اگر کسی شہر(یا ملک) میں رویتِ ہلال ثابت ہو جائے تو وہ شہر جو افق میں اس کے ساتھ متحد ہوں ان میں بھی رویتِ ہلال ثابت ہو جائے گی اس معنی میں کہ اگر بادل، پہاڑ وغیرہ مانع نہ ہوں تو پہلے شہر میں موجودہ رویتِ ہلال دوسرے شہر میں رویت ہلال کا لازمہ ہو۔
اور خود انسان کو رؤیت کا علم ہو، تواتر وغیرہ، ایک ایسا گروہ جنکی بات سے چاند کے ثبوت کا اطمینان ہو جائے ان کے کہنے یا ماہِ شعبان کے پورے تیس دن گزر جانے سے ماہ مبارک کا چاند ثابت ہو جاتا ہے اسی طرح اگر ماہِ مبارک رمضان کے تیس دن گزر جائیں تو شوال کا چاند ثابت ہو جاتا ہے، اور دوعادل مَردوں کی گواہی سے بھی چاند ثابت ہو جاتا ہے جبکہ خواتین اور ایک عادل مرد کی گواہی (اگرچہ قسم ہی اٹھائیں)قابلِ قبول نہیں۔اسی طرح نجومیوں کی پیش گوئی، مغرب کے بعد دیر سے چاند کا غروب ہونے (کہ اس بات پر دلالت کرے کہ گزشتہ رات کا چاند ہے)، ایسے دو عادل مردوں کی گواہی جنہوں نے چاند نہ دیکھا ہو یا زوال سے پہلے چاند دیکھا ہو(کہ دن کی رویت گزشتہ ماہ کے چاند کی شمار ہو) یا چاند کے گرد حلقہ ہونے 
(کہ گذشتہ رات کے چاند پر دلیل بن سکے)سے رؤیتِ ہلال ثابت نہیں ہوتی۔
جبکہ اس حاكم کے حکم سے چاند کا ثبوت محلِ اشکال بلکہ ممنوع ہے جس کی خطا اور اسکی خطا کی دلیل معلوم نہ ہو، ہاں اگر حاکم کا حکم یا اس کے نزدیک چاند کا ثبوت مکلف کے لئے باعث اطمینان ہو کہ اس شہر میں چاند ثابت ہو گیا ہے تو اس پر اعتماد کیا جائے گا۔