مستحبات و مکروہاتِ سفر

مستحبات و مکروہاتِ سفر:
سوال99: مسافر کے لئے فریضہ نماز کے بعد کون سا خاص ذکر پڑھنا
مستحب ہے؟ 
جواب: مسافر کے لئے مستحب ہے کہ ہر قصر نماز کے بعد تیس بار تسبیحات اربعہ پڑھے (سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله والله اكبر)
ترجمہ:(اللہ ہر عیب و نقص سے پاک ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ بزرگ تر ہے) 
سوال100: سفر کے آداب اور مکروہات کیا ہیں؟ 
جواب: فقہاء کرام نے سفر کے متعدد آداب اور مکروہات کا ذکر کیا ہے جن میں ہم فقط چند کا ذکر کرتے ہیں:
1: استخارہ کرنا: اسکی بہت زیادہ تاکید وارد ہوئی ہے اور اس سے مراد اللہ تعالٰی سے خیر طلب کرنا ہے پس اگر وہ سفر کرنے، سفر کا راستہ اختیار کرنے یا کسی بھی دیگر وجہ سے متردد ہو تو خدا وند متعال سے خیر اور بھلائی طلب کرے کیونکہ سفر اور ہر اہم کام کے لئے استخارہ کی ہدایت کی گئی ہے بالخصوص جب انسان کسی معاملے میں حیران و پریشان ہو اور صلاح و مشورہ کے بعد بھی کسی نتیجے تک نہ پہنچ پائے۔
2: مہینے اور ہفتے کے مخصوص دن جنہیں سفر کے لئے پسندیدہ قرار دیا گیاہے انہیں اختیار کرے، پس ایام ہفتہ میں سے پہلے روز ہفتہ پھر منگل اور جمعرات کا دن اختیار کرے کیونکہ ان دنوں کا ذکر سنت شریفہ سے مروی ہے۔
حضرت امام صادق  سے روایت ہے کہ:جو شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ ہفتے کا دن اختیار کرے کیونکہ ہفتے کے روز اگر کوئی پتھر بھی پہاڑ سے گرے تو اللہ تعالٰی اسے اپنی جگہ پر لوٹائے گا۔
ائمہ اہل بیت  سے مروی ہے کہ ہفتے کا روز ہمارے، اور اتوار کا روز بنو امیہ کے لئے ہے
نبی اکرم سے روایت ہے : اے پروردگار ہفتے اور جمعرات کے روز صبح کے وقت کو میری امت کے لئے بابرکت بنا.
اور روز جمعہ نماز جمعہ اور اتوار کے روز حتى الامكان سفر سے پرہیز کرے کیونکہ روایت ہے کہ اتوار کا دن تلوار کی دھار کی طرح ہے (لہذا اس سے بچو) اور سوموار کے دن بھی سفر سے اجتناب کریں کیونکہ یہ دن بنو امیہ کے لئے ہے اور اسی طرح بدھ کے روز بھی سفر نہ کریں کیونکہ یہ بنو عباس کا دن ہے اور خاص طور پر قمری مہینے کے آخری بدھ کو سفر نہ کریں کیونکہ یہ ہمیشہ منحوس دن ہے اور اگر سوموار کے دن سفر کرنا چاہیں تو اس دن صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ دهر یعنی سورہ انسان (هل أتى على الإنسان ....) پڑھیں، کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالٰی اسے اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ 
اور جس مہینے چاند برج عقرب یا حالت محاق میں ہو اس ماہ سفر کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ حضرت امام صادق  سے روایت ہے کہ: جو شخص قمر در عقرب میں سفر یا شادی کرے گا وہ بھلائی اور خیر نہیں دیکھے گا
3: آغاز سفر میں صدقہ دینے کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور صدقہ دیتے وقت یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: 
دعا (اللّهُمَّ إِنِّي اشْتَرَيْتُ بِهِذِهِ الصَّدَقَةِ سَلامَتِي وَسَلامَةَ سَفَرِي، اللّهُمَّ احْفَظْنِي، وَاحْفَظْ ما مَعِي، وَسَلِّمْنِي، وَسَلِّمْ ما مَعِي، وَبَلِّغْنِي، وَبَلِّغْ ما مَعِي بِبَلاغِكَ الَحَسَن الجَمِيلِ).
اے اللہ ! میں اس صدقے کے عوض میں اپنے سفر میں سلامتی کو خریدتا ہوں
اے اللہ ! میری اور میرے ساتھ ہر چیز کی حفاظت فرما، اور مجھے اور میرے پاس ہر چیز کو سلامتی عطا فرما اور اپنے خاص لطف و کرم سے ہمیں اپنی منزل مقصود تک پہنچا
4: سفر پر نکلتے وقت وصیت کرے بالخصوص واجب حقوق کی (اگر اس کے ذمے ہوں)تو انکی وصیت کر کے نکلے۔ 
5: اہل و عیال کو الوداع کہے۔ یعنی انہیں اللہ کے سپرد کرے اور ان پر اللہ تعالٰی کو ولی مقرر کرے لیکن وصیت کرنے سے پہلے دو یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے (اللّهُمَّ إنّي أستَودِعُكَ نَفسي وأهلي ومالي وذرِّيّتي، ودُنياي وآخِرَتي، وأمانَتي وخَاتمة عَمَلي) .
اے اللہ ! میں اپنی جان، اہل و عیال، مال، دنیا و آخرت، امانت اور اپنے عمل کا (اچھا) انجام تیری ذات کے حوالے کرتا ہوں۔
حضرت امام صادق  سے روایت ہے کہ اپنے اہل و عیال پر اللہ تعالٰی کو ولی مقرر کرنے کا اس سے افضل طریقہ کوئی نہیں اور جو شخص اس طرح دعا کرے گا اللہ تعالٰی اس کی دعا قبول کرے گا
6: برادران ایمانی کو سفر پہ جانے کی اطلاع دے۔ 
رسول خداﷺ سے مروی ہے کہ مسلمان پر لازم ہے کہ جب سفر کرنا چاہے تو اپنے (دینی) بھائیوں کو اطلاع دے اور اس کے (دینی) بھائیوں پر لازم ہے کہ جب وہ سفر سے واپس آئے تو اس کے پاس
(ملاقات کے لئے) آئیں۔
7: اپنے گھر کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر قرآنی سورتیں، آیات اور منقولہ دعائیں پڑھے اور اور مندرجہ ذیل حالات میں اللہ تعالٰی کا ذکر، تسمیہ(بسم اللہ پڑھنا)، تحمید(الحمد لله کہنا) اور شکر الہی بجا لائے:
1: سوار ہوتے وقت
2: سواری پر براجمان ہوتے ہوئے
3: منزل کے قریب پہنچتے وقت
4: سواری سے اترتے وقت 
اس کے علاوہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انتقال کے وقت بھی ذکر خدا میں مشغول رہے۔

حضرت امام صادق  سے مروی ہے کہ حضرت رسول خدا ﷺجب سواری سے اترتے تو تسبیح خدا کرتے اور جب سوار ہوتے تو تکبیر کہتے تھے۔
حضرت رسول خداﷺسے مروی ہے کہ جو آدمی سواری پر سوار ہوتے وقت (بسم الله الرحمن الرحيم) پڑھے تو اس کے پیچھے ایک فرشتہ لگ جاتا ہے
جو اس کے اترنے تک اس کی حفاظت کرتا ہے اور اگر سوار ہوتے وقت (بسم الله الرحمن الرحيم) نہ پڑھے تو اس کے پیچھے ایک شیطان لگ جاتا ہے جو اسے کہتا ہےکہ: گانا گا پس اگر وہ کہے کہ میں تو نہیں گا سکتا تو پھر شیطان اسے کہتا ہے کہ کم از کم اس کی تمنا تو کر
(اے کاش کہ میں گا سکتا) چنانچہ وہ اترنے تک یہ خواہش کرتا رہتا ہے۔
اسی طرح مستحب ہے کہ انسان سفر پر نکلتے وقت، گھر سے نکلتے ہوئے اور سواری پر سوار ہوتے وقت سلامتی کے لئے درج ذیل سورتیں اور آیات پڑھے بلکہ ہر حال میں یہ مستحب ہیں:
آیت الکرسی، سورہ فلق، سورہ الناس، سورہ توحید، سورہ فاتحہ، سورہ اعراف کی آیت نمبر 54 (إِنَّ رَبَّكُمْ الله الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ الله رَبُّ الْعَالَمِينَ)اور تسمیہ پڑھے۔
ترجمه: تمہارا رب یقینا وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا، وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا با برکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔
امام موسی کاظم  سے روایت ہے : کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتے وقت اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر اور جدھر جانا ہے ادھر کا رخ کرکے اپنے آگے اور دائیں بائیں سورہ الحمد، تین بار معوذتین، 
سورہ توحید اور تین بار آیت الکرسی پڑھے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے
(اللّهُمَّ احْفَظْنِي وَاحْفَظْ مَا مَعِيَ وَبلِّغْنِي وَبَلِّغْ مَا مَعِيَ بِبَلاغِكَ الحَسَنِ الجَمِيل) يُحْفَظُ وَيُبَلَّغُ وَيُسَلَّمُ، هُوَ وَمَا مَعَهُ.
اے اللہ ! میری اور جو کچھ میرے ساتھ ہے اس کی حفاظت فرما اور مجھے اور میرے ساتھ جو کچھ ہے اسے منزل مقصود تک پہنچا تو یقینا وہ اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوگا وہ حفظ و امان اور سلامتی کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچے گا۔ 
حضرت امام رضا  سے مروی ہے کہ سفر و حضر میں جب بھی گھر سے نکلنے لگو تو یہ کہو (بسم الله، وبالله، توكلت على الله، ماشاء الله، لا حول ولاقوة الا بالله)
اللہ کے نام سے (آغاز سفر کرتا ہوں)، میں اللہ پہ ایمان لایا ہوں اور اسی پہ توکل کیا ہے وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا قوت و طاقت صرف اللہ کی طرف سے ہے (جب شیطان اس سے آمنا سامنا کرتے ہیں تو فرشتے انہیں دھتکار کر کہتے ہیں بھلا تم اس پہ کیسے قابو پا سکتے ہو جبکہ اس نے خدا کا نام لے لیا ہے اس پہ ایمان ظاہر کیا ہے اور اسی پر توکل اور اعتماد کیا ہے
حضرت امام صادق  جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے (سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين) پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو)ہمارے تابع بنایا جب کہ ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے پھر سات بار (سبحان الله), سات بار(الحمد لله) اور سات بار (لا إله إلّا الله) پڑھتے تھے۔
حضرت امام زین العابدین  سے روایت ہے اگر کوئی شخص پیدل چل کر حج پر جائے اور سورہ قدر کی تلاوت کرے تو اسے چلنے کی تکلیف کا احساس نہیں ہو گا اور فرمایا جو شخص سوار ہوتے وقت سورہ قدر پڑھے گا وہ صحیح و سالم اور بخششِ گناہ کے ساتھ اترے گا اور سورہ قدر کی تلاوت کرنے والا سواری کے جانور کے لیے لوہے سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے.
 حضرت امام محمد باقر  سے مروی ہے اگر کوئی چیز قضا و قدر سے بچ کر آگے نکل سکتی تو میں ضرور کہتا کہ گھر سے نکلتے وقت سورہ قدر پڑھنے والا صحیح سالم واپس لوٹے گا.


حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی  کو وصیت میں فرمایا یاعلی جب کسی شہر یا بستی میں جانا چاہو تو جب اس پر نگاہ پڑے تو یہ دعا پڑھو.
(اللَّهُمَّ إنِّي أسْألُكَ خَيْرَهَا وَأعُوذُ بكَ مِنْ شَرِّهَا، اللَّهُمَّ حَبِبْنَا إلى أهْلِهَا وَحَبِّبْ صَالِـحِي أَهْلِهَا إليْنَا)
اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اے اللہ اس شہر کے مکینوں کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کر دے اور اس کے نیک لوگوں کو ہمارا محبوب بنا۔
حضرت رسول خدا سے منقول ہے:
یا علیؑ جب کسی منزل پر قیام کرو تو یہ دعا پڑھو: (اللّهمّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلاً مُبارَكاً، وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ. تُرْزَقُ خَيْرَهُ، وَيُدْفَعُ عَنْكَ شَرُّهُ).
اے پروردگار مجھے مبارک جگہ پر اتار بے شک تو ہی بابرکت مقام پر اتارنے والا ہے یہ دعا پڑھنے سے اس مقام کی خیر و خوبی تمہیں نصیب ہو گی اور اس کا شرو ضرر تم سے دور ہو گا
مسافر کے لئے بہتر ہے کہ بکثرت خدا کو یاد کرے اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرے اور حفظ و امان سے متعلق آیات اور دعاؤں کو پڑھے جیسے آیت مبارکہ
(كَلاَّ إِنَّ مَعِي رَبِّي سَيَهْدِينِ)
ترجمہ: حضرت موسیؑ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار یقینا میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ دکھائے گا۔
اور آیت مجیدہ (إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا)
ترجمہ:جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ رنج نہ کر یقینا اللہ ہمارے
ساتھ ہے۔ 
اور کلمات فرج (لا إله إلا الله الحليم الكريم، لا إله إلا الله
العليّ العظيم)
اور اس مضمون کی دیگر آیات اور دعائیں پڑھے۔ 
حضرت رسول خدا ﷺسے مروی ہے کہ :جو شخص سفر میں اپنے بستر پر لیٹتے وقت تسبیح زہرا ءؑ اور آیت الکرسی پڑھے گا وہ صبح تک ہر شر و ضرر سے محفوظ رہے گا۔
8: مسافر کے لئے مستحب ہے کہ ہر بیماری سے شفا یابی اور ہر خوف سے بچنے کے لئے تربت امام حسین  (خاک شفا) اپنے ہمراہ رکھے۔
اسی طرح اس کے لئےیہ بھی مستحب ہے کہ اس کے پاس زرد عقیق کی انگوٹھی ہونی چاہیے جس کی ایک طرف (ما شاء الله لا قوة الا بالله استغفر الله) لکھا ہو اور دوسری طرف (محمدﷺ و علیؑ) نقش ہو۔
اور ایک فیروزہ کی انگوٹھی بھی ہو جس کی ایک جانب (الله المَلِك)
کو اور دوسری جانب (المُلْك لله الواحد القهَّار) لکھا ہو۔
9: قافلے کے ساتھ سفر کرے کیوں کیونکہ تنہا سفر کرنے کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے۔ رسول خدا  نے حضرت علی  کو وصیت میں ارشاد فرمایا یا علیؑ !سفر میں تنہا نہ نکلو کیونکہ اکیلے کے ساتھ دوسرا شیطان ہوتا
ہے جبکہ دو آدمیوں سے وہ(شیطان)نسبتاً زیادہ دور ہوتا ہے.
ایک اور حدیث میں ہےکہ رسول خدا  نے تین قسم کے آدمیوں پر لعنت کی ہے:ایک وہ جو تنہا کھانا کھائے دوسرا وہ جو گھر میں تنہا سوئے اورتیسرا وہ جو سہ راہ میں تنہا سوار ہوکر سفر کرے۔ 
رسول اکرم  سے حدیث ہے اللہ تعالی کو ساتھیوں میں چار ساتھی زیادہ عزیز ہیں اور جب بھی کوئی جماعت سات کے عدد سے بڑھ جائے تو ان کے درمیان اختلاف اور کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔
حضرت امام صادق  نے ایک حدیث میں فرمایا جو شخص تنہا سفر پہ نکلے وہ یہ دعا پڑھے :(ما شاء الله لا حول ولا قوة إلا بالله)۔
اسی طرح مستحب ہے کہ سفر میں اس شخص کی رفاقت(ہمراہی) اختیار کرے جو زادِسفر خرچ کرنے میں اس کی مانند ہو اور ایسے شخص کو ہمسفر بنانا مکروہ ہے جو اس سلسلے میں اسے اونچا یا نیچا ہو۔
مسافر کے لئے ایسے شخص کی رفاقت مستحب ہے جو اس کے لئے باعثِ زینت ہو اور اس شخص کی صحبت اختیار نہ کرے جو اس سے زینت حاصل کرے۔
اسی طرح مسافر کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاون کرنا, ان کی خدمت کرنا, ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور ان کے پیچھے چلنا مستحب ہے۔
10:مسافر کے لئے مستحب ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں عمدہ و اعلٰی دسترخوان (کھانا) لیکر جائے خاص طور پر جب حج کا سفر ہو۔
حضرت امام صادق  نے فرمایا:سفر میں زادِ سفر زیادہ اور اچھی قسم کا لے جانا اور اسے اپنے ساتھیوں پر خرچ کرنا آدمی کی شرافت اور مروت کی علامت ہے۔
لیکن سید الشہداء حضرت امام حسین  کی زیارت پر جاتے ہوئے عمدہ کھانوں کا انتظام نہ کرے۔ 
من لا یحضرہ الفقیہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی روایت ہے کہ: آپؑ نے اپنے بعض اصحاب سے پوچھا کہ:آیا تم سید الشہداءؑ کی قبر اقدس کی زیارت کے لئے جاتے ہو؟ 
انہوں نے کہا: جی ہاں 
تو آپؑ نے پوچھا :آیا تم اپنے ہمراہ (دسترخوان) کا انتظام کر کے جاتے ہو؟
انہوں نے کہا: جی ہاں 
تو آپؑ نے فرمایا اپنے آباؤاجداد کی قبور پر جاتے وقت تو تم ایسا اہتمام
نہیں کرتے۔
صحابی پوچھتا ہے : پھر مولاؑ ہم سفر کے دوران کیا کھائیں؟
تو آپؑ نے فرمایا: دودھ کے ساتھ روٹی کھالیا کرو۔ 
بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حکم کربلاء مقدسہ کے قریبی علاقوں کے ساتھ خاص ہے جیسے حله, نجف اشرف اور بغداد وغيره جبکہ کربلا سے دور دراز علاقوں کے مکینوں کے لئے یہ حکم نہیں اور بالخصوص ایسے شخص کےلئے نہیں جو عراق میں موجود تمام ائمہؑ کی زیارت کا قصد رکھتا ہو۔
11: مسافر کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئے۔حضرت امام باقر  سے روایت ہے کہ:اگر بیت اللہ کی جانب سفر کرنے والے میں درج ذیل تین خصلتیںہوں تو اسکا خداوندعالم کے نزدیک کوئی مقام و رتبہ نہیں:
 اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے برتاؤ کرنے والا نہ ہو۔
 غصے پہ قابو رکھنے والا نہ ہو۔
 خدا کی نافرمانی سے ڈرنے والا نہ ہو۔
حضرت امام رضا  سے روایت ہے کہ:زادِ سفر کو خرچ کرنا، اچھے اخلاق سے پیش آنا اور خدا کو ناراض نہ کرنے والی چیزوں میں مزاح کرنا سفر میں مروت شمار ہوتی ہے۔ساتھیوں سے اختلاف کم کرنا اور ان سے جدائی کے بعد ان کے خلاف باتوں کو ترک کرنا بھی مروت میں سے ہے
حضرت امام صادق  نے فرمایا کہ:یہ محبت نہیں کہ:آدمی سفر میں جو اچھائی یا برائی دیکھے اس کے بارے باتیں کرے ۔
حضرت امام صادق  نے فرمایا کہ:اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی عادت پیدا کرو اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو، 
غصے کو پی جاؤ ,عفودرگزر کو وتیرہ (شیوہ) بنا لو اور سخاوت پر کاربند رہو۔
12: مسافر کیلئے ضرورت کی چیزوں کو ہمراہ لے جانا مستحب ہے جیسے اسلحہ، دوائیں اور دیگر ضرورت کا سازوسامان جیسا کہ حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے کو وصیت میں ایسا کرنے کا کہا ہے اور مسافر کے لئے مستحب ہے کہ اس وصیت میں ذکر ارشادات و ہدایات پر عمل کرے۔
13:اگر کوئی شخص سفر میں بیمار ہوجائے تو اس کے رفیقوں کے لیے تین دن تک اس کے پاس کام کرنا مستحب ہے۔حضرت رسول خدا ﷺ سے حدیث ہے کہ:جب تم سفر میں ہو اور تم میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو اس کے پاس تین دن تک کام کرو۔
حضرت امام صادقؑ نے فرمایا مسافر کا اپنے ساتھیوں پر یہ حق ہے کہ جب ان میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو وہ تین دن تک اس کے پاس کام کریں۔
14:راستوں پر اور وادیوں میں آخرِشب کو سونا مکروہ ہے اسی طرح پیشگی اطلاع کے بغیر مسافر کے لئے اچانک رات کے وقت اپنے اہل و عیال کے پاس آنا مکروہ ہے۔ جبکہ مقصد پورا ہونے کے بعد مسافر کے لئے جلدی اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آنا اور ان کے لیے ہدیہ اور تحفہ لانا مستحب ہے۔
حضرت امام صادق  سے مروی ہے کہ:جب تم میں سے کوئی سفر سے واپس آنے لگے تو حسبِ توفیق اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ تحفه ضرور لائے اگرچہ وہ پتھر ہی ہو۔