پيدل چلنے والے مسافروں کے لئے ہدايات

پیدل چلنے والے مسافروں کے لئے ہدایات:
غیر آباد اور ویران جگہ پر رات بسر کرنے والے کیلئے درج ذیل آیت مبارکہ کا پڑھنا مستحب ہے: 
(إِنَّ رَبَّكُمْ الله الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ الله رَبُّ الْعَالَمِينَ)
ترجمه: تمہارا رب یقینا وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا، وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا با برکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔
اسی طرح چلنے میں تیزرفتاری سے کام لینا مستحب ہے۔
حضرت امام صادق  سے روایت ہے کہ:چلو اور تیز چلو یہ تمہارے لئے آسائش کا باعث ہے۔
آپ سے ہی روایت ہے کہ: کچھ پیادہ لوگوں نے رسول خداﷺ کی خدمت میں تھکاوٹ کی شکایت کی تو رسول خدا نے ان سے فرمایا تیزروی کو اختیار کرو چناچہ انہوں نے ایسا کیا تو ان کی تھکاوٹ دور ہوگئی۔
حضرت امام زین العابدین  سے روایت ہے کہ:چلنے کی تکلیف سے بچنے کے لئے سورہ قدر پڑھو۔
حضرت رسول خداﷺسے روایت ہے کہ:مسافر کا زاد ِسفر حُدی خوانی(اونٹوں کو ہکانے کا گیت) اور شعر خوانی ہے جب تک اس میں جفا نہ ہو۔
 ایک نسخہ میں ہے کہ:جب تک اس میں خنا (فحش گوئی) نہ ہو۔ 
قیام کرنے کے لئے زمین کے ایسے ٹکڑے کا انتخاب کرے جو رنگ میں اچھا ہو، اس کی مٹی نرم اور اس میں آب و گیاہ بکثرت ہوں۔
یہ وہ نصیحتیں اور ہدایات تھیں جو مسافر کے ساتھ خاص ہیں جبکہ ہم اب مسافر کے اہل و عیال اور اس کے رشتہ داروں سے متعلق مستحب چیزوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی رعایت کرنا بہتر ہے :
مسافر کے اہل و عیال اور رشتہ داروں کے لئے مستحب ہے کہ وہ مسافر کو اچھے طریقے سے رخصت کریں، اس کی ہر ممکن مدد کریں، اس کے لئے آسانی اور سلامتی کی دعا کریں اور وداع کے وقت اس کی حاجات پوری کریں۔ 
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:جو شخص مسافر مومن کی مدد کرے گا اللہ تعالی اس سے تہتر قسم کے رنج و کرب کو دور کرے گا اور دنیا و آخرت میں اسے ہر دکھ اور پریشانی سے پناہ دے گا اور اس کے (قیامت کے) دن اسے رنج و غم سے نجات دے گا جس دن (خوف کے سبب) لوگوں کی سانسیں حلق میں اٹکی ہوں گی
حضرت رسول خدا ﷺ جب مومنین کرام کو الوداع کرتے تو دعا دیتے ہوئے فرماتے تھے: 
خدا تمہیں زادِ تقوی عطا فرمائے، ہر کارِ خیر کی ہدایت فرمائے، تمہاری ہر حاجت بر لائے، تمہارے دین و دنیا کو سلامت رکھے اور تمہیں صحیح و سالم واپس لوٹائے۔
ایک اور حدیث میں امام باقر ؑسے یوں وارد ہوا ہے کہ:حضرتؑ جب کسی مسافر کو الوداع کرتے تو اس کا ہاتھ تھام کر فرماتے: خدا تمهارے کے لئے صحبت کو اچھا کرے, تیری مکمل مدد فرمائے, سخت کو آسان بنائے, دور کو نزدیک کرے ,هرمهم کی کفایت کرے, خدا تیرے دین و امانت اور خاتمہ عمل کی حفاظت فرمائے اور ہر بھلائی کی جانب رہنمائی فرمائے۔
تجھ پہ تقویٰ خداوندی لازم ہے.
بہتر ہے کہ مسافر کے کان میں یہ پڑھا جائے:
(إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ إنْ شَاءَ الله)
اور اس کی روانگی کے بعد اذان واقامت پڑھی جائے جیسا کہ اس پر عمل کرنا مشہور ہے۔اسی طرح بہتر ہے کہ مسافر کے اہل وعیال کے حق میں کوتاہی نہ کی جائے، ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور خاص طور پر حج کے مسافر کے اہل وعیال کے بارے میں حضرت امام محمد باقر 
سے روایت ہے کہ:جو شخص حج پر جاتے ہوئے کسی شخص کو اپنے اہل
و عیال اور مال میں جانشین چھوڑ جائے تو(گویا) اس نے(بذاتِ خود)
حجرِ اسود کو بوسہ دیا ہے ۔
حج اور عمرہ کرکے واپس آنے والے کی عزت وتکریم کرنا مستحب ہے۔
حضرت امام محمد باقر سے مروی ہے کہ:حج و عمرہ کرنے والے کی تعظیم و تکریم کرنا تم پر واجب ہے (یعنی سنت مؤکدہ ہے)۔
اسی طرح حضرت امام زین العابدین  نے فرمایا:اے حج نہ کرنے والو: حاجیوں کو خوش آمدید کہو، ان سے مصافحہ کرو اور ان کی تعظیم کرو کیونکہ ایسا کرنا تم پر واجب ہے(یعنی سنتِ مؤکدہ ہے) ایسا کرنے سے تم ان کے ساتھ اجر و ثواب میں شریک ہوجاو گے۔
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے حج و عمره کر کے واپس آنے والے کو یوں دعا دیتے تھے :خدا تیرا عمل قبول کرے، تیرے اخراجات کا خدا تجھے بدل د ے اور تیرے گناہ معاف کرے۔