حضرت لقمان کي اپنے بيٹے کو وصيت

حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو وصیت:
تبرکاً سفروحضر کے اخلاقیات پہ مشتمل اس مفید روایت کو کتاب کے آخر میں ذکر کرنا بہتر ہے کہ:
حضرت امام صادق  سے روایت ہے کہ:حضرت لقمان ؑنے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹا !جب کسی قوم کے ہمراہ سفر کرو تو اپنے اور ان کے معاملات میں ان سے بکثرت مشورہ کرو اور ان کے روبرو بکثرت مسکراتے رہو اور اپنی ذات کو ان پر خرچ کرنے میں جودوسخا کا مظہر بنا دو، جب وہ تمہیں بلائیں تو لبیک کہو اور اگر تم سے مدد مانگیں تو ان کی امداد کرو، 
طویل خاموشی کو عمل میں لاؤ، بکثرت نماز پڑھو، سواری پانی اور مال میں سے جو کچھ تمہارے پاس ہو اسے خرچ کرنے میں سخاوت سے کام لو، جب تم سے وہ کسی حق بات میں گواہی طلب کریں تو ان کے حق میں گواہی دو اور جب تم سے مشورہ کریں تو حتی امکان ان کو صحیح رائے دو اور پھر کسی امر میں اس وقت تک پختہ عزم نہ کرو جب تک اس کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور و فکر نہ کر لو۔
کسی طلب کردہ مشورے میں اس وقت تک جواب نہ دو جب تک اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے اور نماز پڑھتے وقت اپنی عقل و فکر سے اچھی طرح غور و فکر نہ کر لو کیونکہ جب کوئی شخص مشورہ طلب کرنے والے کو خالص نصیحت نہ کرے تو خدا اس سے اس کی رائے سلب کرلیتا ہے اور امانت (عقل) اس سے چھین لیتا ہے۔
اور جب اپنے ساتھیوں کو چلتا ہوا دیکھو تو ان کے ساتھ چلو اور جب ان کو کام میں مشغول دیکھو تو ان کا ہاتھ بٹاؤ، جب وہ صدقہ و قرض دیں تو تم بھی دو، جو شخص سن و سال میں تم سے بڑا ہو اس کی بات سنو اور جب تمہیں کسی بات کا حکم دیں یا تم سے کچھ طلب کریں تو ہاں کرو اور انہیں انکار مت کرنا کیونکہ انکارکر نا بے بسی اور بدبختی ہے (صاحب فضل اور مروت لوگ اگر کسی کام پر قادر ہوں تو اسے فورا انجام دیتے ہیں اور اگر اس کام سے عاجز ہوں تو بھی
کہتے ہیں کہ ان شاء اللہ آ جائے گا)
اور جب رستے کے بارے متعین ہو تو رک جاؤ اور جب کسی مسئلے میں شک ہو تو سنبھل جاؤ اور ایک دوسرے سے مشورہ کرو، جب کوئی اکیلا شخص دیکھو تو اس سے اپنا رستہ نہ پوچھو اور نہ ہی اس سے مشورہ مانگو کیونکہ جنگل میں اکیلا شخص مشکوک ہوتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ چوروں کا جاسوس یا شیطان ہو جس نے تمھیں سرگرداں کیا ہو۔
اور دواشخاص سے بھی ڈرو مگر یہ کہ تم وہ (سچائی کی آثار)دیکھ لو جو میں دیکھ رہا ہوں کیونکہ عقلمند جب اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھتا ہے تو وہ حق کو
(باطل سے) تمیز کر لیتا ہے اور حاضر وہ کچھ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا۔
اے بیٹا !جب نماز کا وقت داخل ہوجائے تو اسے کسی چیز کی خاطر مؤخر نہ کرو اور نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہو جاؤ کیونکہ یہ ایک قرض ہے
اور نماز بھی باجماعت پڑھوخواہ حالتِ جنگ میں ہو۔
اور اپنی سواری پر مت سوؤ کیونکہ اس سے اس کی پیٹھ پر جلدی زخم ہو جاتا ہے اور (ویسے بھی)یہ داناؤں کا چلن نہیں ہے مگر یہ کہ تمہارے محمل میں اس قدر وسعت ہو کہ تم اپنے جوڑوں کو (ڈھیلا)چھوڑسکوں (یعنی آرام سے لیٹ سکو)۔
اور جب منزل کے قریب پہنچو تو اپنی سواری سے اتر جاؤ اور اپنی غذا کا انتظام کرنے سے پہلے اپنی سواری کے چارے کا بندوبست کرو کہ وہ تمہاری جان کی طرح ہے۔
اور جب کہیں رکنا چاہو تو ایسی جگہ اترو جس کا رنگ سب سے بہتر، جس کی مٹی سب سے نرم اور گھاس سب سے زیادہ ہو۔
اور جب قیام کر لو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھو اور قضاءِ حاجت کے لئے دور جاؤ اور جب وہاں سے کوچ کا ارادہ کرلو تو دو رکعت نماز پڑھو اور پھر اس زمین سے الوداع کرو۔
اور اس زمین اور اس کے رہنے والوں پہ سلام کرو کیونکہ زمین کے ہر ٹکڑے پر فرشتے آباد ہیں
اور اگر ممکن ہو تو جب بھی کھانا کھاؤ تو پہلے اس سے کچھ صدقہ دو اور جب تک سواری پر سوار ہو، جس قدر ممکن ہو قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہو اور جب تک کام کرتے رہو خدا کی تسبیح میں مشغول رہو اور کام سے فارغ ہونے کے بعددعا و پکار میں مصروف رہو۔ 
اسی طرح رات کے ابتدائی حصے میں چلنے سے اجتناب کرو اور رات کے آخری حصے میں سفر کرو اور خبردار چلتے وقت آواز زیادہ اونچی نہ کرنا۔
جبکہ تم پہ رات کے آخری حصے میں آرام و سکون کے لئے رکنا لازم ہے۔
اور آدھی رات کے بعد آخر شب تک سفر کرنا ضروری ہے۔
اے بیٹا !جب سفر کرو تو اپنی تلوار، موزے، پگڑی، خیمہ، مشکیزہ اور سوئی دھاگا ساتھ لے جاؤ اور اس قدر دوائیں ہمراہ لے جاؤ کہ ان سے تم اور تمہارے ساتھی فائدہ اٹھائیں اور خدا کی نافرمانی کے علاوہ ہر بات میں اپنے ہمراہوں کے ساتھ رہو۔