پهلا باب

پہلا باب

دین کے بارے میں

 

سوال نمبر :1۔ دین کسے کہتے ہیں ۔

جواب:دین چند چیزوں کا مجموعہ ہے اس میں کچھ عقائد ہوتے ہیں او رکچھ تعلیمات و احکام ہوتے ہیں  اورجو آدمی کسی دین کے عقائد پر ایمان لے آتا ہے اور اسکی تعلیمات پر عمل کرتا ہے وہ اس دین کا پیروکار کہلاتا  ہے۔

سوال نمبر:2۔ انسانی زندگی میں دین کیا کردار ادا کرتا ہے ؟

جواب: جب انسان اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اسے اس بات کا شعور حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ کئی دوسری موجودات سے رابطہ رکھتا ہے ۔ایک طرف اس کا اپنے خالق سے رابطہ ہے  تو دوسری طرف اس کا اپنی ہی نوع کے دیگر افراد سے واسطہ  کیونکہ اس کی طبیعت ہی ایسی ہے کہ وہ تنہا زندگی بسر نہیں کر سکتا اور اسی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں سے مختلف طرح  کے واسطے اور روابط رکھتا ہے  مثلا حاکم و محکوم ہونا، باپ اور اولاد ہونا، کوئی دوسرا رشتہ یا پھر اموال وغیرہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ شریک ہونا اور لین دین کرنا۔

جبکہ تیسری طرف کائنات کی دوسری مخلوقات جیسے حیوانات ،نباتات اور جمادات سے بھی اس کا واسطہ رہتا ہے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان ایک ایسے قانون کی حاجت محسوس کرتا ہے جو اس کے تمام روابط اور معاملات کو منظم کرے اور جس کی روشنی میں چلتے ہوئے وہ ان تمام رشتوں کو بخوبی نبھا سکے ۔دین اس جامع اور مکمل الہی قانون کا نام ہے جو انسان کی اس حاجت کو پورا کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے کہ کیسےاپنے خالق اور رب کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ،کس طرح سے دوسرے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے، ایک انسان کا دوسرے انسان پر کیا حق ہے اور اسی طرح سے کائنات کی دوسری جاندار یا بے جان مخلوقات کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا ہے۔

سوال نمبر :3۔ہم کس دین کو مانتے ہیں۔

جواب : ہم دین ِاسلام کو مانتے ہیں۔

سوال نمبر :4۔ اسلام کا معنی کیا ہے؟

جواب: اسلام تسلیم کرنے سے لیا گیا ہے یعنی اس دین اسلام میں جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے (جن کی تفصیل آگے آرہی ہے) انسان ان  پر ایمان لانے کے بعد اس کے احکام اور تعلیمات پر عمل کر نے کے لیئے اپنے آپ کو پیش کر دے۔

سوال نمبر5:ہم نے تمام ادیان میں سے دین اسلام کو کیوں اختیار کیا ؟

جواب: اس لیے کہ اس زمانے میں یہی مذہب حق ہے

سوال نمبر6؛ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ اسلام ہی دینِ حق ہے؟

جواب: اس دین میں موجود تعلیمات اس کے حق ہونے کی دلیل ہیں کیونکہ تنہا یہ وہ دین ہے جسکی تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں ۔اس دین سے بہتر کسی اور دین کے احکام نہیں ہیں اسی لیے تو خود ادیان کو بھیجنے والی ذات نے بس دین اسلام ہی کو قبول فرمایا۔ارشاد ہوا

’’اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ ‘‘ (اٰ ل عمران ۱۹)

’’بے شک اللہ کا دین تو اسلام ہے‘‘

’’ھُوَسَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ‘‘(الحج ۷۸)

اس (ابراہیم ) نے پہلے سے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔

البتہ دوسری شریعتیں جیسے شریعت موسیٰ علیہ السلام اور شریعت عیسیٰ علیہ السلام ہے اپنے اپنے  زمانے کے لیے تھیں لیکن شریعت محمدی ؐنے  تمام سابقہ شریعتوں  کو  ختم کر دیا ہے ۔

سوال نمبر7۔کیا گزشتہ انبیاء کی نبوت و شریعت پر ایمان رکھنا ضروری ہے؟

جواب: صرف اتنا اعتقاد کافی ہے کہ وہ سب اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے اوران کی شریعت انہیں کے زمانے کے لیے تھی البتہ آخری نبیؐ کی شریعت قیامت تک کے لیے ہے۔جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔

’قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْـبَاطِ وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ۝۱۳۶‘‘( البقرۃ)

’’ ( مسلمانو !) کہو: ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا اور جو موسیٰ و عیسیٰ کو دیا گیا اور جو انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا (ان سب پر ایمان لائے)ہم ان میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں۔‘‘

سوال نمبر 8:دین اسلام میں وہ کونسی چیزیں ہیں جن پر ایمان رکھنا ضروری ہے ؟

جواب:پانچ چیزیں ایسی ہیں جن پر ایمان لانے سے انسان دین اسلام کی رو سے ایمان کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔

۱:توحید    ۲:عدل    ۳:نبوت ۴:امامت    ۵:قیامت۔

انہیں اصول دین اور اصول مذہب کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر9: انہیں اصول دین کہنے کی وجہ کیا ہے؟

جواب:اصل کا معنی جڑ  اور بنیاد ہے اور اس کے مقابل فرع ہے جس کا معنی شاخ ہے  چونکہ دین اسلام کی بنیاد یہی عقائد ہیں اس لیے انہیں اصول دین کہتے ہیں اور احکام جیسے نماز ،روزہ  وغیرہ انہیں فروع دین کہتے ہیں۔

سوال نمبر10:جو انسان اصول  دین میں سے صرف تین اصول  1:توحید 2:نبوت اور 3: قیامت کا عقیدہ رکھتا ہو تو اس کا حکم کیا ہے۔

جواب : ایسا انسان مسلمان تو کہلاتا ہے کیونکہ عقیدہ عدل اور عقیدہ امامت اصول مذہب میں سے ہیں یعنی ان کا انکار کرنے والا مذہب شیعہ سے خارج ہوجاتا ہے اور یہ اصول دین میں سے نہیں ہیں کیونکہ اصول دین میں سے صرف وہ چیزیں ہیں جن کے انکار سے انسان دین اسلام سے خارج ہو کر کافر ہوجاتا ہے۔لہذا جو اصول دین کا عقیدہ رکھتا ہے لیکن اصول مذہب کو نہیں مانتا تو وہ مسلمان تو کہلاتا ہے لیکن مؤمن نہیں ہو سکتا جبکہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار صرف ایمان پر ہے۔ارشاد خداوندی ہوتا ہے

’ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا، قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ، ‘‘ ( الحجرات ۱۴)

’’اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے (اے رسولؐ) کہدیں کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ تم یوں کہو کہ ہم اسلام لائے اور ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا‘‘[1]

سوال نمبر 11: ہمیں اصول دین اور فروع دین کیسے معلوم ہو سکتے ہیں؟

جواب:  اصول دین  میں  ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے ہر عقیدہ کو اختیار کرے اور اس میں قرآن مجید کی آیات ، معصوم ؑ کی

احادیث اور علماء کرام کے کلام سے رہنمائی  حاصل کی جاتی ہے۔ارشاد ہوتا ہے۔

’’ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَكُم ان کنتم صادقین‘‘ ( الانبیاء ۲۴)

’’ (اے رسول ؐ) کہہ دیں کہ اگر تم سچے ہوتو دلیل لے آؤ ‘‘

لہذا کوئی بھی عقیدہ رکھنے کے لیے یقینی دلیل کی ضرورت ہے۔جبکہ فروع دین میں عقل کی مداخلت صرف اتنی ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن مجید اور حدیث معصوم ؑ سے حکم نکالا جاتا ہے اور جو انسان اس با ت کی قدرت رکھتا ہے کہ ہر شرعی حکم کو  قرآن و حدیث  سے سمجھ  سکے  اسے مجتہد کہا جاتاہے۔

سوال نمبر 12:  مجتہد بننا تو بہت مشکل کام ہے کیونکہ اس کے لیے پورے قرآن کا احاطہ کرنے اور احادیث کی ساری کتابیں سمجھنے کےساتھ ساتھ دوسرے عقلی علوم اور ادب عربی کےعلوم پر دسترس حاصل کرنی پڑتی ہے اور یہ کام ہر کسی کے بس کانہیں ہے  پھر اس صورت میں عام لوگ کیا کریں؟[2]

جواب: جس آدمی میں مجتہد بننے کی صلاحیت نہیں ہے  وہ ایسے مجتہد کی رائے پر عمل کرے جس میں وہ شرطیں موجود ہوں جو فقہ کی کتابوں میں ذکر ہوئی ہیں اور احکام کو اس طریقہ سے لینے کو تقلید کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر 13:اگر انسان عقیدہ میں  پابند ہو اور عمل میں بھی حکم شرعی کا پابند ہو تو کیا یہ انسان کی آزادی سے ٹکراتا نہیں ہے؟

جواب: دین صرف ایسی آزادی سے روکتا ہے جس میں اپنا یا دوسروں کا دنیا یا آخرت کا نقصان ہو حقیقت میں تمام احکام شرعیہ ایسے قوانین ہیں جو انسان کی بہتری کے لیے ہیں اور دین اسلام نے ہر اس کام کو ضروری گردانا ہے  جس میں انسان کا فائدہ ہے اور ہر اس کا م سے روکا ہے جس میں انسان یا اسلامی معاشرے کا نقصان ہے لہذا ایسی پابندی ضروری ہے جس طرح ہم بچے کو بعض کاموں سے روک لیتے ہیں کیونکہ وہ پابندی اس کے حق میں ہوتی ہے اور اسے اس کام کی آزادی دینا اس کے لیے خطرے کا سبب بنتی ہے۔

یہی مصلحت اسلام کے پیش نظر معقول ہے جس کا مطلب  ہرگز یہ نہیں ہے کہ دین کے ذریعے انسان کی آزادی سلب کی جا رہی ہےبلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کو حقیقی آزادی دین ہی سکھاتا ہے دنیا کی محبت کی زنجیروں سے آزاد کرواتا ہے  اورطاغوتی طاقتوں کی غلامی سے آزادی دلاکر خدا  وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دیتا ہے ۔ اور صحیح معنوں میں یہی انسان  آزاد ہے۔

 


[1] یہاں پر مناسب ہےکہ استاد صاحب بچوں کے لیے شیعہ اور دوسرے مذاہب کے درمیان عقائدی فرق کو بیان کر دے۔

[2] بچوں کو کسی مجتہدکی زندگی کے بارے میں بتایا جائے کہ اس نے زندگی کا اتنا عرصہ تعلیم حاصل کرنے میں صرف کیا اور کتنے علوم حاصل کرنے کے بعد مجتہد بنا۔