دوسرا باب

 

توحید

 

سوال نمبر1: اصول دین میں سب سے پہلی اصل توحید ہے سوال یہ ہے کہ توحید پر عقیدہ رکھنا اور اس کی معر فت حاصل کرنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب:اگر یہ معرفت حاصل نہ کی جائے تو خطرہ ہے کہ انسان آخرت میں عذاب کا مستحق ہو جائے اور انسانی عقل کہتی  ہے کہ اگر کہیں خطرہ ہو تو ضروری ہے کہ اس خطرہ کو ٹالا جائے مثلا اگر انسان کسی راستے پر جا رہا ہو اور بتایا جائے کہ یہ راستہ خطرناک ہے اور وہ دوسرے راستے سے بھی جا سکتا ہو تو ہر عقلمند کی عقل یہی کہے گی کہ اس شخص کے لیے راستہ بدلنا ضروری ہے اسی طرح جب توحید کی معرفت حاصل کیے بغیر آخرت والے خطرے سے نہیں بچا جا سکتا تو ضروری ہے  کہ یہ معرفت حاصل کی جائے۔[1] اور اسی طرح انسانی عقل کہتی ہے کہ جو ذات تجھے خلق کرنے والی ہے اور جس نے تجھے ہر قسم کی نعمت دے کر احسان کیا ہے تجھ پر اس کا شکریہ واجب ہے اور جب کسی کا شکریہ ادا کرنا واجب ہو تو اس کی معرفت حاصل کرنا واجب ہو جاتی ہے کیونکہ معرفت ہو گی تواس کی شان کے مطابق شکریہ ادا کر سکے گااور اگر معرفت نہ ہوگی تو اس کی شان کے مطابق شکریہ ادا نہیں کر سکے گا لہذا مناسب طریقے سے شکریہ ادا کرنے کے لیے بھی معرفت کا حاصل کرنا واجب ہے۔

سوال نمبر2: توحید سے کیا مراد ہے؟

جواب: توحید یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ ہمارا اور اس کائنات کا کوئی خالق موجود ہے اور وہ ایک ہے نہ ذات میں اس جیسا کوئی ہے او  ر نہ اس جیسے کسی کے اوصاف ہیں اور نہ اس کے کاموں میں کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق ہے۔

سوال نمبر 3: کیا دلیل ہے کہ کائنات کا کوئی خالق  ہے؟

جواب:خود کائنات کا وجود سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس کا کو ئی خالق ہے کیونکہ اتنی بڑی کائنات اتنے بہترین نظام اور ترتیب کے ساتھ اپنے آپ کبھی بھی وجود میں نہیں آسکتی جیسا کہ قدموں کے نشان راستہ سے گزرنے والے کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اسی طرح یہ کائنات خالق کے وجود کی گواہ ہے[2]۔ہزاروں سال سے انسان اس کی حقیقتوں کا انکشاف کرنے میں لگا ہوا ہے  اورابھی تک اسکے بے شمار رازوں میں سے ایک انتہائی معمولی مقدار میں اسکے راز فاش کر سکا ہے[3]۔

اور یہ صرف اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے بلکہ وہ خالق کوئی ایسی ہستی ہے جس کے علم و قدرت کی کوئی حد نہیں ہے اور حکیم ایسا ہے کہ کوئی کام حکمت کے بغیر انجام نہیں دیتا ۔چاہے زمین  ہو یا آسمان ، سورج،چاند،ستارے ہوں یا دریا  اور پہاڑ یہ سب بے زبان ہونے کے باوجود اپنے بنانے والے کے وجود کی گواہی دے رہے ہیں۔ارشاد ہوا ہے۔

’’ اَفِي اللہِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ‘‘(ابراہیم۱۰)

’’کیا اللہ کے بارے میں شک کیا جا سکتا ہے  جوکہ آسمانوں اور زمین (جیسی مخلوقات ) کو عدم سے وجود عطا کرنے والاہے‘‘

سوال نمبر4: یہ کیوں ضروری ہے کہ وہ خالق صرف ایک ہی ذات ہو دو کیوں نہیں ؟

جواب: ۱:اس لیے  کہ وہ ذات ایسی ذات ہے کہ اس جیسی دوسری ذات کا ہونا ممکن نہیں ،کیونکہ اس ذات کی کوئی حد نہیں ہے اور جس ذات کی کوئی حد نہ ہو اس جیسا دوسرا تصور نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دوسرا فرض کرنے سے پہلی ذات کا محدود ہو نا لازم آتا ہے۔

۲:اگر کوئی دوسرا خدا بھی ہوتا تو  ایک کچھ کرنا چاہتا اور دوسراکچھ اور اس طرح سے دنیا کی کوئی چیز خلق نہ ہو سکتی اسی لیے ارشاد ہوا۔

’لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا ‘‘  (الانبیاء ۲۲)

’’ اگر زمین و آسمان میں دو خدا ہوتے تو یہ تباہ ہوجاتے‘‘

۳:اگر کوئی دوسرا خدا بھی ہوتا تو وہ بھی کبھی کسی نبی کو اپنا نمائندہ بنا  کر بھیجتا یا کوئی آسمانی کتاب نازل کرتا جب کہ ایسا نہیں ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ سب کے سب انبیاء اور تمام آسمانی کتابوں کے ذریعے  صرف ایک خدا کی طرف دعوت دی گئی ہے ۔

سوال نمبر ۵: اس خالق کائنا ت کے اوصاف کیا ہیں؟

جواب: ہر وہ صفت جس میں کمال ہو وہ اس کے لیے ثابت ہے اور انہیں صفات ثبوتیہ کہا جاتا ہے اور ہر وہ صفت جس میں نقص  اور عیب ہو وہ اس سے پاک ہے انہیں صفات سلبیہ کہا جاتا ہے۔

سوال نمبر6:صفات ثبوتیہ کہ جنہیں صفات جمال بھی کہا جاتا ہے وہ کون کونسی ہیں؟

جواب: ویسے تو یہ صفات بہت ساری ہیں مگر عام طور پر صرف چند ایک کو ذکر کیا جاتا ہےجو اہم ہیں اور وہ درج ذیل ہیں

  1. قدیم(وہ ازلی وابدی  اور سرمدی ہے)

یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہ اس کی کوئی ابتداء ہے او نہ انتہاء کیونکہ جس ذات کی ابتداء یا انتہاء ہو وہ ناقص اور محتاج ہوتی ہے او وہ مخلوق ہو تی ہے خالق نہیں ہو سکتی۔ارشاد ہوا۔

’’ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ‘‘ (الحدید ۳)’’ وہی سب سے پہلے اور سب سے آخر ہے‘‘

  1. قادر ہے

 یہ اتنی بڑی کائنات جسمیں ہزاروں قسم کی  مخلوق ہےاس بات کی دلیل ہے کہ وہ خالق ذات ایسی قادر مطلق ہے جسکی قدرت کی کو ئی حد نہیں ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔کوئی طاقت اسے کسی کام سے روک نہیں سکتی۔اس کے لیے پہاڑ اور چیو نٹی کا پیدا کرنا برابر ہے۔وہ صرف ارادہ کرتا ہے تو چیز ہو جاتی ہے۔اور اگر اسے ایسا قادر نہ مانا جائےتو وہ  عاجز ہوگا اور عاجز ہو نا مخلوق کی صفت ہے نہ کہ خالق کی ۔ارشاد ہوتا ہے۔

’’ اِنّ اللہَ علٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر  ‘‘ ( البقرۃ ۲۰)

’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے‘‘

  1. حی ہے:

یعنی وہ ایسا زندہ ہے جس کے لیے موت نہیں ہے اس نے اپنی مخلوقات کو زندگی عطاء کرکے اس بات کا  ثبوت دیا ہے کہ وہ خود ہمیشہ کے لیے زندہ ہے  اور زندہ رہے گاکیونکہ جو زندہ ہوتا ہے اور مرجائے  وہ محتاج اور مخلوق ہے خالق نہیں۔ ارشاد ہوتاہے۔

’’ وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ  ‘‘ (الفرقان  ۵۸)

’’اس ذات پر بھروسہ کرو جو ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں آسکتی۔‘‘

بلکہ اسے تو نیند تک بلکہ اونگھ تک نہیں آتی وہ ان نقائص سے بلندوبالا ہے  ۔ ارشاد  رب العزت  ہے ’’ لَا تَاْخُذُہ، سِـنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ‘‘ (البقرۃ ۲۵۵)

’’نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ  ہی نیند‘‘

  1. عالم ہے:

یعنی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔کائنات کاذرہ ذرہ اس کے غیر محدود علم کی گواہی دے رہا ہے کیونکہ اگر وہ عالم نہ ہو تا تو ایسی عجائب بھری عظیم کائنات کوخلق نہ کر سکتا۔ہر چیز کا اسے علم ہے چاہے وہ گزر چکی ہو یا اس وقت موجود ہویا آنے والے زمانے میں پائی جائے گی حتی کے دلوں کے راز اور آنکھوں کے اشارےتک کو جانتا ہے۔ارشاد ہوتاہے۔

’’اِنَّ اللہَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، اِنَّہ عَلِـيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‘‘ (الفاطر ۳۸)

’’بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کا عالم ہے بے شک وہ سینے میں موجود رازوں سے باخبر ہے۔‘‘

اور وہ یہ سب کچھ دیکھتا ہے بغیر آنکھوں کے اور سنتا ہے بغیر کانوں کے کیونکہ کانوں یا آنکھوں کا محتاج ہونا  مخلوق کی صفت ہے ۔

  1. متکلم ہے:

یعنی وہ جس چیز میں چاہے آواز پیدا کرکے کلام کر سکتا ہے جیسا کہ موسی علیہ السلام کے لیے درخت سے آواز پیدا کی ۔

  1. صادق ہے:

یعنی وہ جو بات کرتا ہے سچ ہوتی ہے کیونکہ جھوٹ بولنا قبیح اور عیب ہے اور وہ ہر عیب سے پاک ہے ارشاد ہوتاہے

’’ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِيْثًا ‘‘   (النساء ۸۷)

اور کون  ہے جو بات میں اللہ تعالی سے بڑھ کر سچا ہو۔‘‘

اور جھوٹ وہ بولتا ہے جو لالچی ، کمزور اور عاجز ہوتا ہےجبکہ وہ ذات تمام عیبوں سے پاک ہے۔

(۷)    غنی ہے:

یعنی وہ کسی کا محتا ج نہیں ہے ہر ایک سےبے نیاز ہے اور ہر چیز  اس کی محتا ج ہےارشاد ہوتا ہے۔

’’ يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللہِ وَاللہُ ھُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ ‘‘  (فاطر۱۵)

اے لوگو تم اللہ تعالی کے محتاج ہو او رصرف اور صرف اللہ کی ذات غنی (محتاج نہیں) ہے قابل حمد ہے۔

سوال نمبر ۷: خالق کی ان صفات اور غیراللہ کی صفات میں کیا فرق ہے؟

جواب: ان دونوں کی صفات میں دو اہم فرق یہ ہیں۔

  1. اس کا علم ،قدرت اور حیات  یہ تمام صفات ثبوتیہ اسکی عین ذات ہیں اس سے جد انہیں ہیں یعنی ذات خدا اور علم خدا  دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک حقیقت ہیں اسی طرح سے حیات اور قدرت ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی یہ صفات ان کی ذات پر زائد ہیں یعنی ذات الگ ہے اور صفت الگ کیونکہ علم یا قدرت ان کی ذات کا عین نہیں ہیں۔
  2. اور دوسرا فرق یہ ہے اس کی صفات بھی اس کی ذات کی طرح  غیر محدود ہیں جبکہ اس کے علاوہ ہر کسی کی صفات کی کوئی نہ کوئی حد ہے۔

سوال نمبر۸: وہ کون سی صفات ہیں جو صفات سلبیہ  کہلاتی ہیں؟

جواب:ہر وہ صفت جسمیں نقص اور عیب ہو وہ ذات اس سے پاک ہے اور ایسی صفات کو صفات سلبیہ کہا جاتاہے یہ ویسے تو بہت زیادہ ہیں مگر ہم ان میں سے چند  ایک کو ذکر کرتے ہیں جنہیں اہمیت کی وجہ سے عام طور پر ذکر کیا جاتا ہے

۱: وہ شریک نہیں رکھتا۔      ۲:وہ مرئی نہیں ہے۔         ۳:وہ مکان نہیں رکھتا۔       ۴: وہ محل حوادث نہیں ہے۔  ۵: وہ حلول نہیں کرتا۔۶:وہ مرکب نہیں ہے ۔ ۷: وہ محتاج نہیں ہے۔

سوال نمبر ۹: اس سے کیا مراد ہے کہ وہ شریک نہیں رکھتا۔؟

جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ مندرجہ ذیل امور میں اس کا کوئی  شریک نہیں ہے۔

۱: ذات میں کوئی اس کا  شریک نہیں ہے کیونکہ کوئی دوسرا  اس  کے جیسی ذات

نہیں رکھتا وہ بے مثل و بے نظیر ہے۔جس کی ذات کی کوئی حد نہیں ہے کسی سے ملکر نہیں بنا ۔ارشاد ہوتا ہے۔

’’قل ھو اللہ احد‘‘

(اے رسول ﷺ)کہہ دیجیے وہ اللہ ایک ہے ۔ ’’ولم یکن لہ کفوا احد‘‘ ’’اوراس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ ‘‘

یہ عقیدہ رکھنا توحید ذاتی کہلاتا ہے اور نہ رکھنا شرک  درذات کہلاتا ہے۔

۲ : صفات میں اس  کاکوئی شریک نہیں ہے یعنی اس جیسی صفات کا کوئی اور مالک نہیں ہے جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے۔اس بات پر عقیدہ رکھنا توحید صفاتی کہلاتا ہے۔

۳: افعال میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اس کے دومعنی ہیں ۔ پہلا معنی یہ ہے کائنات میں کوئی فعل و حرکت اور کوئی تأثیر اور اثر اس کی مشیئت و ارادے اور اس کے اذن کے بغیر نہیں ہو سکتا  حتی کہ درخت کا ایک پتا بھی اس وقت تک حرکت نہیں کر سکتا جب تک اس ذات کا  اذن نہ ہو جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اس دنیا میں کوئی چیز ایسی ہے جو اذن خدا کے بغیر حرکت کر سکتی ہے یا کوئی تأثیر دکھا سکتی ہے تو یہ توحید افعالی کے منافی ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے جو کام ہیں انہیں کوئی اور انجام نہیں دے سکتا بلکہ وہ اپنے کاموں میں کسی وزیر یا مشیر کا محتاج بھی نہیں ہے جیسے خلق کرنا،موت دینا ،رزق دینا ، اولاد  دینا ،پانی برسانا،صحت دینا ،بیماری دینا ،ہواؤں کا چلانا ،سورج ،چاند ،ستاروں اور سمندروں کا نظام چلانا ،ابنیاء اور آسمانی کتابوں کا بھیجنا وغیرہ یہ سب اسی ذات کے کام ہیں۔ارشاد ہوتاہے۔

اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ۰ۭ ہَلْ مِنْ شُرَكَاۗىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ۰ۭ سُبْحٰنَہ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ‘‘ ( الروم 40)

’’ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا جنہیں تم نے شریک قرار دے رکھا ہے کیا ان میں سے کوئی تھوڑا سا کام بھی کر سکتا ہے وہ ذات ان کے شرک سے بلند وبالا  اور پاکیزہ ہے ‘‘

حضرت ابراہیم ؑ نے جب اپنی مشرک قوم کے جھوٹے خداؤں  کا انکار کیا تو ان کے سامنے اپنے عقیدہ توحید کا ان لفظوں میں اعلان کیا۔

’’ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَہُوَيَہْدِيْنِ وَالَّذِيْ ھُوَيُطْعِمُنِيْ وَيَسْقِيْن ِوَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَيَشْفِيْنِ وَالَّذِيْ يُمِيْـتُـنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ وَالَّذِيْٓ اَطْمَــعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْۗــــــَٔــتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ ‘‘ (الشعراء ۷۸ تا ۸۲)

’’سوائے عالمین کے پروردگار کے جس نے مجھے خلق کیا ہے پس وہی میری ہدایت کرتاہے اور وہی مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے اور وہی مجھے موت دے گا او ر پھر زندہ کرے گا اور جس سے میں آرزو  رکھتا ہوں کہ روز جزا میری خطاؤں سے در گزر کرے  گا۔‘‘

اس بات کا عقیدہ رکھنا توحید افعالی کہلاتا ہے اور اس سے انکار کرنا شرک در افعال   کہلاتا ہے

۴ : عبادت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس لیے کہ اس کے علاوہ کوئی بھی اس لائق نہیں ہے کہ اسکی عبادت کی جائے۔ارشاد ہوتا ہے ۔

’’ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہ ‘‘ ( الاعراف 59)

’’اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کوئی تمہارا معبود نہیں ہے‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت کا معنی یہ ہے کہ انسان کسی ذات کے سامنے بالکل جھک جائے اور انتہائی درجے  کی عاجزی اختیار کر لے یہ اعتقاد رکھتے ہوئے کہ اس ذات کے ہاتھ میں میرا اختیاراو ر انجام ہے اور وہی میر ے تما م امور کا مالک اور رب ہے اور جب عبادت کی حقیقت یہ ہے تو انسانی عقل کا فیصلہ بھی یہی ہونا چاہیے کہ عبادت  کرنے میں اس ہستی کا انتخاب کرے جس کے ہاتھ  میں انسان کے ہر قسم کا نفع و نقصان ہے نہ کہ اس کا جس کے سامنے سر جھکانے  سے کوئی فائدہ نہیں ۔ارشاد ہوتا ہے ۔

’’ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ‘‘ (المائدۃ۷۶)

’’(اے رسول ﷺ ) کہہ دو کہ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کے مالک ہیں اور نہ نفع کے ۔‘‘

اس عقیدہ کو توحید عبادی کہا جاتا ہے اور جو کسی اور کی عبادت بھی کرتا ہے تو وہ شرک در عبادت ہے ۔تمام انبیاء کی سب سے پہلی دعوت توحید در عبادت تھی لوگوں سے  یہی کہتے تھے کہو ’’ لا الہ الّا اللہ ‘‘ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔

5: رب اور حاکم ہونے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تمام عالمین کا تنہا وہی رب ہے۔یعنی جس کے ہاتھ میں تمام مخلوقات کا نظام اور اختیار ہے نفع اور نقصان ہے پالنے والا ہے اور سب اس کے علاوہ مربوب  ہیں۔ارشاد ہوتا ہے ۔

’’ قُلْ اَغَيْرَ اللہِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّھُوَرَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ‘‘ (الانعام ۱۶۴)

’’ کہہ دے کہ کیا میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو رب ڈھونڈوں جبکہ وہی ہر چیز کا رب ہے‘‘ اور فرمایا

’’ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ , سَيَقُوْلُوْنَ لِلہِ‘‘ (المؤمنون ۸۶,۸۷)

’’ان (کفار) سے پوچھو کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ ہے‘‘

تو جب تنہا وہی رب ہے  تو پھر حکم بھی صرف اور صرف اسی کا چلے گا اور  اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی اور کے حکم کو تسلیم کرنا شرک ہوگاارشاد ہوتا ہے۔

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْكٰفِرُوْنَ ‘‘ (المائدۃ ۴۴)

’’ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق حکم نہ لگائیں وہ کافر ہیں ‘‘

۶: ولایت اور محبت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ایک موحّد حقیقی وہی ہوتا ہے جو قریبی ترین دوستی اور شدید ترین محبت صرف اللہ تعالی سے کرتا ہے حتی کہ وہ انبیاء اور آئمۃ ھدیٰ  علیھم السلام یا والدین اور مؤمنین سے بھی محبت اس لیے کرتا ہےکہ یہ محبتیں خالق کی محبت میں ضم ہو جاتی ہیں اللہ کی محبت کے مقابل میں نہیں ہیں بلکہ ان کی محبت دل میں بسا کر خالق کی محبت تک پہنچنا چاہتا ہے۔ ارشاد ہوا۔

’’ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلہِ ‘‘ (البقرۃ۱۶۵)

’’ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی شدید ترین محبت  اللہ تعالیٰ سے خاص ہے۔‘‘[4]

سوال نمبر 9: کیا اولیاء خدا جیسے انبیاء اور آئمۃ علیھم السلام ہیں ان سے مدد مانگناتوحید افعالی کے منافی ہے یعنی شرک ہے ؟

جواب: اگر کوئی اس لیے مدد مانگتا ہے کیونکہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ ہر قسم کا نفع اور نقصان ان کے ہاتھ میں ہے تمام اختیارات کے یہ مالک ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سب کچھ ان کے حوالے کردیا ہے تو یہ عقیدہ تفویض کہلاتا ہے اور یہ شرک ہے قرآن اور معصوم کے فرمان سے ٹکراتا ہے ارشاد ہوا ۔

’’ قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا ‘‘   (الجن ۲۱)

(اے میرے نبی ) کہہ دو میں نہ تو تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہوں اور نہ تمہاری رشد و ھدایت میرے ہاتھ ہے۔‘‘

ایسی روایات موجود ہیں جن میں آئمہ معصومین ؑ نے ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر لعنت کی ہے اور ان سے اپنی برائت  کا اعلان فرمایا ہے۔

لیکن اگر کوئی اس نیت سے ان ہستیوں کو پکارتا ہے اور ان سے مدد طلب کرتا ہے کہ وہ ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان وسیلہ ہیں وہ بارگاہ پروردگار میں ہماری سفارش کر سکتے ہیں۔تو یہ عمل عقیدہ توحید سے ٹکراتا نہیں ہے بلکہ یہی توحید ہے کیونکہ خود پروردگار ہی نے انہیں اپنے فیض کا واسطہ قرار دیا ہے ارشاد ہوا۔

’’ وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا ‘‘ ( النساء ۶۴)

جب یہ لوگ اپنے اوپر (گناہ کر کے) ظلم کرتے ہیں تو اگر وہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالی سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا پاتے۔‘‘

تو یہ حقیقت میں گناہوں کی معافی طلب کرنے میں رسول ؐ سے مدد مانگی جا رہی  تو جب اللہ کی اس عطاء میں  ان سے مدد طلب کرنا توحید سے نہیں ٹکراتا بلکہ یہ قرآن کا دیا ہوا  درس  ہے تو پھر کسی اور عطاء پروردگار میں ان سے مدد طلب کرنا عقیدہ توحید کے منافی نہیں ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 10: ہم پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں کہ انبیاء اور آئمہ معصومین ؑ نے کئی ایک معجزات دکھائے جیسے عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے یا نبی آخر الزمان نے چاند کے دو ٹکڑے کیے وغیرہ تو ان کے بارے میں کیسے عقیدہ رکھا جائے تاکہ توحید افعالی سے نہ ٹکرائے؟

جواب: ان معصوم ہستیوں نے جو بھی عادت سے ہٹ کر ایسے کام دکھائے جو عام طور پر انسان انجام نہیں دے سکتا ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر ظاہر کیے ہیں یا انہوں نے اذن پروردگار سے انہیں انجام دیا ہے۔ارشاد ہوا۔

’’ الْاَكْـمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِـاِذْنِيْ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِـاِذْنِيْ  ‘‘(المائدۃ ۱۱۰)

اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے صحت یاب کرتے تھےاور تم میرے حکم سے مردوں کو زندہ کر کے نکال کھڑا  کرتے تھے‘‘

سوال نمبر 11:ہم کیسے یہ عقیدہ رکھیں کہ کائنات کا نظام چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے جبکہ قرآن مجید میں بھی اور معصومین ؑ کی احادیث میں بھی ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف فرشتوں کے ذمہ مختلف کام لگا رکھے ہیں ان میں سے کچھ ارواح قبض کرتے ہیں ،کچھ بارشیں برساتے ہیں اور کچھ لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں وغیرہ ؟

جواب: فرشتے ایک معصوم مخلوق ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں صرف وہی کرتے ہیں جس کا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوتا ہے اور وہ اپنے ارادے سے کچھ نہیں کرتے بلکہ پروردگار کے ارادے کو نافذ کرتے ہیں تو چونکہ یہ سب ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی طاقت اور قوت  سے انجام پارہی ہیں لہذا ان سب کا مرکز اللہ کی ذات ہے ارشاد ہوا۔

’’ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ  ‘‘  (التحریم۶)

وہ (ملائکہ ) اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور صرف وہی کرتے ہیں جس کا (اللہ تعالیٰ کی طرف سے)انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

سوال نمبر 12:کیا اولیاء خدا جیسے انبیاء اور آیمہ معصومین ؑ ہیں ا ن کی قبور کی زیارت کرنا یا ان کی خوشی کے دنوں میں خوشی منانا اور ان کی مصیبت کے دنوں میں مصیبت اور غم کا  اظہار کرنا یہ ان ہستیوں کی عبادت شمار ہوتی ہے یعنی توحید در عبادت کے منافی ہے؟

جواب: ہرگزایسا نہیں ہے یہ غلط فکر کا نتیجہ ہے  کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبوب ہستیاں اپنی زندگی میں بھی اور دنیا سے جانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتی ہیں اور چونکہ ان کی قبور کی زیارت کرنے سے اللہ تعالیٰ کی یاد آتی ہےاور اس میں  ان ہستیوں کا بھی احترام اور تعظیم ہے اور خود پروردگار نے اپنے خاص بندوں کی تعظیم کا حکم دیا ہےلہذا ان کی قبور کی زیارت کرنا یا ان کی مناسبات کو زندہ کرنا یہ ان کی عبادت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔چونکہ دراصل مسلمان رضائے خدا کی خاطر ایسا کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے وسیلہ قرار دیتے ہیں وہاں جو نماز پڑھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نماز پڑھتے ہیں ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں تو کیسے یہ ان کی عبادت قرار پا سکتی ہے ارشاد ہوا۔

’’ ذٰلِكَ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ  ‘‘ (الحج ۳۲)

’’اور جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ  دلوں کے تقوی کی علامت ہے

اس میں کوئی شک نہیں کے انبیاء اور آئمہ ھدیؑ  کی قبور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے بلکہ بڑی نشانیوں میں سے ہے شاید دنیا کے کسی کونے میں اللہ تعالیٰ کی اتنی زیادہ عبادت نہیں ہو رہی جتنی ان ہستیوں کے مزارات مقدسہ میں ہو رہی ہے تاریخ میں ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول شہداء احد کی قبروں پر جایا کرتے تھے اور کئی ایک معتبر روایات  میں ہے کہ آپ ؐ نےمیں اپنی اور اپنی اہل بیت کی قبور کی زیارت کرنے کا اجرو ثواب بیان فرمایا ہے اسی طرح سے ان کی مناسبت کو زندہ رکھنا بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا پسندیدہ فعل ہے ارشاد ہوا۔

’’وَذَكِّرْھُمْ بِاَيّٰامِ اللہِ‘‘ (ابراھیم ۵)

’’اور انہیں اللہ تعالی کے دنوں کی یاد دلاؤ‘‘

ویسے تو سارے دن اللہ تعالیٰ کے ہیں لیکن یہاں پر مراد وہ دن ہیں جن دنوں میں کوئی ایسا کام ہو جس سے قدرت خدا اور اس کا غلبہ ظاہر ہو ا اور دشمن پسپا اور کمزور ہوا اور معلوم ہے کہ ان ہستیوں سے تعلق رکھنے والی مناسبات ایام اللہ کے زمرے میں  آتی ہیں ۔

سوال نمبر 13: وہ مرئی نہیں ہے اس سے کیا مراد ہے؟

جواب: اس سے مراد  یہ ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر آنے والی ذات نہیں ہے نہ دنیا میں نظر آسکتا ہے نہ آخرت میں چونکہ جو نظر آئے وہ جسم رکھتا ہے اور جسم رکھنے والا مخلوق ہو سکتا ہے خالق نہیں ہو سکتا ۔ارشاد ہوا۔

’’لَا تُدْرِكُہُ الْاَبْصَارُ،وَھُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ‘‘ (الانعام ۱۰۳)

’’اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتی وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے‘‘[5]

سوال نمبر 14: ہم کیسے اس خدا کو مانیں جسے کبھی بھی نہ دیکھ سکیں؟

جواب: ہم نے  اللہ تعالیٰ کو عقلی دلائل کی بنیاد پرمانا ہے نہ کہ آنکھ سے دیکھنے کی بنیاد پر اور اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ جو چیز موجود ہو وہ نظر بھی آئے بلکہ وہی عقل جوکہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے وہی فیصلہ کرتی ہے کہ اس کا نظر آنا ممکن نہیں ہے کیونکہ نظر آجانے والی چیز جسم رکھتئ ہے اور جو جسم رکھتا ہو وہ خالق نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جسم اپنی اجزاءکی طرف محتاج ہوتا ہے اور محتا ج مخلوق ہوتی ہے اگر جسم رکھتا تو دوسرے اجسام کیطرح ہو جاتا جبکہ قرآن مجید میں ہے  ’’لیس کمثلہ شیء‘‘ اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے ‘‘

سوال نمبر 15:وہ مکان نہیں رکھتا ہے اس بات پر کیا دلیل ہے ؟

جواب: مکان اس کا ہو تا جو جسم رکھتا ہو اور محدود ہو جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات جسم نہیں رکھتی اور اس کی کوئی حد بھی نہیں ہے بلکہ وہ ہر جگہ موجود ہے ارشاد ہوا

’’وَھُوَالَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰہٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰہٌ ‘‘ (الزخرف ۸۴)

’’اور وہ ایسی ذات جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے ‘‘

’’وَھُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ (الحدید ۴)

’’اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو ‘‘

سوال نمبر 16:اس سے کیا مراد ہے کہ وہ محل حوادث نہیں ہے ؟

جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسی ذات نہیں ہے کہ جس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی رونما ہو یعنی ایسا نہیں ہے کہ وہ کبھی جوان اور کبھی بوڑھا ہو یا کبھی صحت مند اور کبھی مریض ہو یا کبھی غصہ کی کیفیت میں اور کبھی غمگین ہو یا کبھی خوش حالت میں اور کبھی ناراضگی کی حالت میں ،کیونکہ یہ تبدیلیاں اس پر رونما ہوتی ہیں جو محدود اور محتاج ہو اور جس ذات کی کوئی حد نہ ہو  اور نہ محتاج ہو تو اس میں اس قسم کی تبدیلیاں تصور نہیں کی جا سکتیں۔

سوال نمبر 17 :ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے محبت کرتا ہے اور بعض پر غضب ناک ہوتا ہے بعض کاموں کو پسند کرتا ہے اور بعض سے نفرت کرتا ہے تو پھر ان باتوں سے کیا مراد ہو سکتا ہے؟[6]

جواب: اللہ تعالی ٰ کا کسی سے محبت کرنا ،اس پر راضی ہوناسے مراد اسے ثواب دینا اور کسی پر غضبناک ہونے سے مراد اسے اپنی رحمت سے دور کرنا ہے اور کسی کام کو پسند کرتا ہے یعنی اس کا حکم دیتا ہے اور کسی کام کو ناپسند کرتا ہےیعنی اس  سے روکا ہے ۔

سوال نمبر 18: وہ کسی میں حلول نہیں کرتا  اس سے کیا مراد ہے؟

جواب: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ذات کسی اور ذات  میں نہیں اترتی ہے اس

طرح سے  کہ وہ  دو  ایک ہو جائیں کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ محدود ہے چونکہ کسی محدود ذات کے اندر وہی سما سکتا ہے جو محدود ہو۔جبکہ وہ ذات لا محدود ہے  اسی سے جاہل قسم کے صوفیوں کے اس عقیدہ کا بطلان واضح ہو جاتا ہےکہ اللہ تعالیٰ صوفیاء کے اندر حلول کرتا ہے اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔

 

[1] مناسب ہے کہ یہاں بچوں کو قوم فرعون یا کسی اور ہلاک ہونے والی قوم کا واقعہ سنایا جائے۔

[2] یہاں پر استاد بچوں کو بوڑھی کے چرخے والی مثال سنائے۔

[3] مناسب ہے کہ استاد  یہاں بچوں کو کچھ نئی ایجادات کے بارے میں بتائے جو قدرت خدا کا کرشمہ ہوں۔

[4] حضرت علی ؑ کی محبت خدا کا کوئی واقعہ سنایا جائے۔

[5] یہاں پر قوم موسیٰ   علیہ السلام کا واقعہ سنایا جائے جنہوں نے اللہ کی رؤیت کا مطالبہ کیا تھا۔

[6] یہاں استاد  مثال کے طور پر کچھ کام ایسے ذکر کرے جن کے کرنے والوں پر اللہ راضی ہوتا ہے اور ان سے محبت کرتا ہے اور کچھ کام ایسے ذکر کرے جنکے کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہوتا ہے۔