پانچواں باب

ہمارے نبیﷺکی نبوت

سوال نمبر 1:ہمارے زمانے میں کس نبی کی نبوت پر ایمان رکھنا واجب ہے؟

جواب: ہمارے زمانے کے نبی حضرت محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ﷺ ہیں جن کی کنیت ابو القاسم ہے۔آپ خاندان بنی ہاشم سے ہیں ماں کا نام آمنہ بنت وہب ہے عام الفیل کے پہلے سال مکہ میں 17 ربیع الاول کو ولادت ہوئی دنیا میں آنے سے پہلے باپ کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا پہلے دادا عبدا لمطلب اور پھر آٹھ سال کی عمر سے چچا ابو طالب کی کفالت میں رہے پچیس(۲۵) سال کی عمر میں جناب خدیجہ الکبری کی درخواست پر ان سے شادی کی۔چالیس برس کے ہوئے تو اعلان نبوت فرمایا ۔نبوت کے دسویں (۱۰) سال جناب ابوطالب ؑاور خدیجہ الکبریؑ کا انتقال ہوا تو بہت غمگین ہوئے اور اسے عام الحزن[1](غم کا سال) کا نام دیا جب ان دو ہستیوں کی وفات  کی وجہ  سےمکہ میں حامی وناصر کم ہو گئے اور دشمن بڑھ گئے تو بعثت کے تیرھویں (۱۳)  سال مکہ کو چھوڑکر مدینہ (جس کا پرانہ نام یثرب تھا)کا رخ کیا اور تقریبادس سال وہاں گزارنے کے بعد 63 سال کی عمر مین یہودی عورت کی جانب  سے دیئے گئے زہر کے اثر سےفانی دنیا کو خیرآباد کہتے ہوئے ابدی زندگی کی طرف رحلت فرما ئی۔

سوال نمبر2:ہمارے پاس آپ کی نبوت پر کیادلیل ہے؟

جواب:ہمارے اس عقیدہ کے حق ہونے پر کئی دلیلیں موجود ہیں۔

  1. آپ نے اپنی نبوت کو حق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کے معجزات دکھائے بعض کتابوں میں آپ کے معجزات کی تعداد چار ہزار(۴۰۰۰) سے دس ہزار(۱۰۰۰۰)  تک بتائی گئی ہے۔ہم تبرکاً چند ایک کا ذکر کرتے ہیں۔

(الف) ۔قرآن مجید خود جوایک معجزہہے اس کی تفصیل آگے بیان ہوگی

  1.  
  2.  

(د) ۔کفار و مشرکین کے کہنے پر ایک درخت کو حکم دیا تو وہ جڑوں سمیت چل کر آپکی خدمت میں آگیا اور پھر دوبارہ حکم فرمایا تو دوبارہ واپس اپنی جگہ پر ثابت ہو گیا ۔

آپ کے معجزات میں شک کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ تاریخ و سیرت کی کتابیں ان سے بھری پڑی ہیں اورلوگ ہر دور میں تواتر کے ساتھ ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔اور یہ معجزات آپ کے برحق ہونیکی یقینی دلیل ہے۔[2]

  1. سابقہ انبیاء جیسے جناب موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ جنہوں نے آخری زمانے کے نبی کی بشارت دی اور آپ کی ایسی علامات بیان کیں جو مکمل آپ ؑ میں پائی جاتی تھیں یہاں تک کہ آپ کے اسم مبارک کو بھی بیان کر دیا تھا۔
  2. وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ ‘‘ ( الصف ۶ )

ترجمہ ’’ اور جب عیسی ٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور مجھ سے پہلے جو تورات ہے اسکی تصدیق کرتا ہوں اور ایسے رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہو گا۔‘‘

چونکہ جناب آمنہ نے آپ کانام احمد رکھا تھا اسی لیے جناب ابوطالب کے اشعار میں بھی آپ کا نام احمد ہی  ذکر ہوا ہے لیکن جب جناب آمنہ کو نداء سنائی دی اور  اس میں کہا گیا کہ اس بچہ  کا نام محمد رکھو لہذا  جناب عبدالمطلب نے اس بات کے پیش نظر آپ کا نام محمد نام رکھا ۔گزشتہ انبیاء نے آپکی صفات  متواتر اس قدر بیان کی تھیں کہ بنی اسرائیل آپکو دنیا میں آنے سے پہلے ہی جاننے لگے تھے۔اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ کے آنے کا وقت قریب آچکا ہے  اسی وجہ سے یہودیوں کے کئی ایک قبیلے آپکی آمد کی انتظار میں روم کی سلطنت کو چھوڑ کراطراف  مدینہ میں آباد ہو ئے اور جب آپ دنیا میں آگئے اور  اعلان نبوت فرمایا تو یہی نصاریٰ اور یہود آپکو اچھی طرح پہچان گئے لیکن دنیا کی محبت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے اکثر افرادنے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادہوتاہے۔

’اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَہ كَـمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْہُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ‘‘ (البقرۃ ۱۴۶)

((جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی (یہود و نصاریٰ) وہ اسے (محمد ﷺکو) اس طرح سے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے ایک گروہ حق کو جاننے کے باوجود چھپاتا ہے ))

اب اس سے زیادہ کسی نبی کی صداقت پر اور کونسی دلیل ہو سکتی ہے۔

  1. آپ ﷺ کے صفات و کمالات ،صدق ،امانت ،اخلاق ،کردار اورگرانقدر تعلیمات  اس بات کی دلیل ہیں  کہ آپ ﷺ اپنے دعوے میں سچے  ہیں[3]۔ اور ایسا انسان اور ایسی تعلیمات دینے والا ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ کسی بات کا جھوٹا دعوی کرے۔

سوال نمبر 3: آپ کے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ کون سا ہے؟

جواب: آپ کے معجزات میں سے سب سے اہم اور ہردور میں زندہ رہنے والا معجزہ قرآن مجید ہے ۔جس زمانے میں یہ نازل ہوا ۔عربی ادب میں فصاحت و بلاغت اپنے شباب و عروج  پر تھی ۔اہل عرب دوسری دنیا کو گونگا سمجھتے تھے۔اور اگر اشعار گوئی کی مقابلہ بازی ہوتی تھی تو جو سب سے اچھا قصیدہ کہتا تھا اسے سونے کے پانی سے لکھ کر در کعبہ پر لٹکایا جاتا تھا ۔ان حالات میں  قرآن مجید  ایسی فصیح و بلیغ زبان میں نازل ہوا  کہ جس نے پوری عرب و غیر عرب دنیا کو یہ چیلنج کر دیا کہ اگر ہمت ہے تو سب ملکر قرآن جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ ۔ارشاد ہوا۔

’’ وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّـمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہ وَادْعُوْا شُہَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ  ‘‘ (بقرۃ ۲۳)

’’پس اگر تم اس (کتاب ) میں کسی قسم کا شک کرتے  ہو جوکہ ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے  تو پھر اس جیسی کوئی سورت لے آؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سارے مددگاروں کو بلاؤ  اگرتم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘[4]

لیکن قرآن کا مقابلہ کرنے سے سب عاجز رہے کیونکہ یہ ایسا کلام تھا جس میں نظم کی حلاوت بھی تھی اور نثر کی خوبی بھی تھی۔ایسا کلام کہ جسے جتنی بار پڑھا جائے تازگی بڑھتی ہی جاتی ہے  ۔جسکےالفاظ سادہ اور مختصر لیکن معانی انتہائی وسیع اور عمیق تھے۔ایساکلام جسے انہوں نے آج تک کبھی نہیں سناتھا اسی لیے تو جو عربی زبان کی خوبیوں اور فصاحت و بلاغت کے طور طریقوں کو زیادہ سمجھتا تھا وہ قرآن سن کرسب سے پہلے   یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ ’’مَا ھذا کلامُ البَشَرِ‘‘ (یہ کسی انسان کاکلام نہیں ہو سکتا)

سوال نمبر 4 : کیا قرآن مجید صرف اپنی فصاحت و بلاغت کی بنیاد پر معجزہ ہے؟

جواب :نہیں  ہرگز ایسا نہیں ہے کیونکہ قرآن مجیدفصاحت و بلاغت بحر بیکراں  کے علاوہ بھی کئی  اور دوسرے پہلوؤں کی بناپر معجزہ ہے ان میں سے چند  پہلو مندرجہ ذیل  ہیں۔

۱۔ قرآن مجید کے اول سے لے کر آخر تک  کے معانی میں ہم آہنگی  ہے۔جبکہ اس میں کوئی بات دوسری سے نہیں ٹکراتی۔اگر اتنی بڑی جامع اور مختلف موضوعات پر مشتمل  کتاب جو ۲۳ سال میں مکمل ہوئی ہے۔اگر اس  کا لکھنے والاایک انسان  ہوتا تو اس کے مضامین میں اختلاف  ضرور پایا جاتا اسی بات کی طرف قرآن میں بھی

اشارہ کیا گیا ہے  ۔

’’ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِيْہِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا ‘‘ (النساء ۸۲)

’’اگر یہ کتاب غیر خدا کی طرف سے ہوتی تو لو گ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کتاب اس ذات کی طرف سے ہے جس کے علم کی کوئی حد نہیں ہے  اورجو ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

۲۔قرآن مجید میں کئی مقامات پر غیب کی خبریں بیان ہوئی  ہیں کہیں پر گزشتہ اقوام کی خبریں ہیں کہیں پرپیش  آنے والے حالات کی خبردی گئی  ہے اور جو بعد میں صد در صد صحیح ثابت ہوئےجیسا کہ ارشاد ہوا ۔

’’ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَيَغْلِبُوْنَ   فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ‘‘(الروم۲،۳)

رومی (عربیوں کے )قریبی ترین علاقے  میں مغلوب ہوں گے (فارس سے)اور مغلوب ہونے کے بعد چند برسوں میں (ان پر) غالب آجائیں گے‘‘

بعد میں یہ پیشین گوئی سو فیصد درست ہوئی لہذا ایسی غیب کی خبروں پر مشتمل کتاب کسی انسان کی طرف   سے نہیں ہو سکتی ۔

۳۔ قرآن مجید کے معانی اور مفاھیم باریک  عمیق اور دقیق  حقائق پر مشتمل ہیں اور اس کی تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں لہذا یہی قرآنی مضامین اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کلام کسی ایسی ہستی کی جانب سے ہے جو کائنات کو اس کی گہرائیوں سے سمجھتا ہے اور وہ انسان کے تمام حالات اور اس کی ضرورتوں سے بخوبی آگاہ ہے اور یہ کام کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔

سوال نمبر 5 : کیا یہ ہمارے پاس موجودہ قرآن وہی  قرآن ہے جو اللہ کے رسول پر نازل ہوا تھا اور  کیا اس میں ابھی تک کوئی کمی یا بیشی (تحریف ) واقع نہیں ہوئی ہے؟

جواب: قرآن مجید میں کمی یا بیشی کا ہونا ایک ناممکن کام ہے کیونکہ رسول خداﷺ کے زمانے سے ہی مسلمانوں نے اسے اپنے پاس لکھنا اور حفظ کرنا شروع کر دیا تھا او ر اسکا  بہت زیادہ اہتمام کیا کرتے  تھے جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی تھی تو اسے رسول اللہ ﷺ  کے حکم سے کسی سورت میں محفوظ کر دیا جاتا تھاپھر جب قرآن مکمل ہواتو اکثر افراد  اسے حفظ  کر چکے تھے اورپھر اپنے پاس لکھ بھی چکے تھے اور بعد میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی یہاں تک کہ  ہزاروں تک جا پہنچی  لہذا بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اسطرح کے انتظامات  کے باوجود اس میں خورد  برد کرے۔اور آج تمام مسلمانوں کا ایک کتاب پر اجماع  بھی اس بات کی دلیل ہے کہ تحریف واقع نہیں ہوئی ورنہ اختلاف کا ہونا ضروری تھا اسی لیے  ہمارے علماءکا تقریباً اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ قرآن وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔اس کے علاوہ  اس کتاب میں تحریف  کیسے واقع ہو سکتی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خداوند متعال نے لے لی ہو۔ ارشاد ہوا۔

’’ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘( الحجر ۹)

’’ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘[5]

سوال نمبر 6 : ایک عام مسلمان ہونے کے ناطے قرآن مجید کے سلسلے میں کیا ذمہ داری  ہے؟

جواب : ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ یہ کلام خدا ہے اورکتاب برحق ہے یہ کتاب ہماری ہدایت کے لیے نازل ہوئی ہےاور  اس کی کسی ایک آیت کا انکار کرنے والا منکرِ خدا اور  رسول ﷺ ہوگالہذا  اسے کتاب ِہدایت سمجھتے ہوئے اس کے پیغام کو غور سے پڑھنے اور سمجھنے کی ساری زندگی کوشش جاری رکھنی چاہیے کیونکہ جو شخص قرآن مجید کو اہمیت نہیں دیتا،اور اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا ڈر ہے کہ وہ کہیں ان لوگوں میں سے نہ ہو جائے کہ جن کے بارے میں یہ آیت اتری [6]ہے۔ارشاد ہوا۔

’’ وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا ‘‘ (فرقان ۳۰)

’’(اللہ کے رسول ﷺ کہیں گے )اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو ترک کر دیا تھا ‘‘

اسی خوف سے کہ لوگ کہیں قرآن کو ترک نہ کر دیں اپنی رحلت کےآخری لمحات میں بھی آپ نے  یہی فرمایا کہ لوگوں میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں(قرآن مجید اور میری اہل بیتؑ) جب تک ان سے متمسک رہو گے گمراہ نہیں ہو گے یہاں تک کہ یہ میرے پاس حوض کوثر تک پہنچ  آ ئیں‘‘

آج کل تو قرآن مجید کو سمجھنا انتہائی آسان ہے کیونکہ ہر زبان میں اس کا ترجمہ اور تفاسیرموجود ہیں کہ جن سے قرآن فہمی آسان ہو گئی ہے ارشاد ہوتاہے۔

’ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا ‘‘ (محمد ۲۴)

ترجمہ۔’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں ‘‘

قرآن پر ایمان رکھنے اور اس سے محبت کرنے کا تقاضا یہی ہے کہ انسان قرآن فہمی کے لیے روزانہ کسی مخصوص وقت اس سے استفادہ کرے۔ اوریاد رہے کہ  جن دلوں میں قرآن اتر جاتا ہے وہ دل نورانی ہو جاتے ہیں اور  ایسےلوگوں کا دنیا میں بھی قرآن رہنما ہوتا ہے او رانکی  قبر میں بھی قرآن اجالا کرتاہے اور آخرت میں بھی قرآن ان کا شفیع ہوتا ہے ۔

سوال نمبر 7 : کیا آپ ﷺ کے بعد بھی کوئی اور نبی آئے گا؟

جواب: آپ ﷺ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں اور  آپ ﷺ پر نبوت ختم ہو جاتی ہے ۔لہذا  قیامت تک کوئی اور نبی نہیں آسکتا ہے ارشادخداوندی ہے۔’’ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ‘‘ (احزاب ۴۰)

’’محمد تم مردوں میں سے کسی  کےباپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اورخاتم الانبیاء ہیں۔‘‘

لہذا تمام دنیا والے چاہے جس مذہب کے ماننے والے ہوں ان پر واجب ہے کہ وہ اپنےاپنے مذاہب کو چھوڑ کر آخری نبیﷺ اور ان کے دین پر ایمان لے آئیں کیونکہ اللہ تعالی ٰ نے آپﷺ  کو تا قیامت تمام بشریت کے لیے نبی اور حجت  بنا کر بھیجا ہے اور باقی تمام انبیاء کی شریعتیں  آپؐ کے تشریف لانے سے منسوخ ہو چکی  ہیں ارشاد ہوتاہے۔

’’ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ‘‘   (اعراف ۱۵۸)

’’کہہ دو اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘‘

چونکہ آپﷺ سبھی لوگوں کے لیے نبی ہیں تو پھر قرآن مجید بھی قیامت تک کےتمام لوگوں کے لیے کتاب ہدایت ہو گی ارشاد ہوا۔

’’ تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِہٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا ‘‘ (فرقان  ۱)

’’ بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن ) نازل کیا تا کہ تمام عالمین کو ڈرانے والا ہو ‘‘

سوال نمبر ۸: یہاں  ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور  کہ ایک ایسے زمانے میں اترنے والی کتا ب اور بھیجی جانے والی شریعت کہ جسے گزرے ہوئے صدیاں  بیت چکی ہیں بھلا کیسے وہ دین اور وہ کتاب ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی لوگوں کی ضروریات کو ان کے حالات کے مطابق پوراکر سکتی ہے؟ جبکہ دنیا بڑی تیز ی سے تبدیلی اور ترقی کی طرف گامزن ہے انسان مختلف علوم میں ترقی کر چکا ہے اور مسلسل کر رہا ہے کہاں وہ پتھر کا زمانہ اور کہاں یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور۔بھلا یہ  دین اِن دونوں زمانوں کے تقاضوں کو کیسے پورا کر سکتا ہے کہ جنکے درمیان اتنا طویل فاصلہ پایا جاتا ہے ؟

جواب : اس دین اور اس کتا ب کو نازل کرنے والا کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ وہ ہستی ہے جو ازل سے ابد تک کے تمام انسانوں  کے حالات اور ضروریات سے بخوبی  آگاہ ہے۔اور پھر جب اس حکیم ذات نے ضرورت سمجھی تو سابقہ شریعت کو منسوخ کر کے ایک دوسری شریعت اور نبی بھیجا لیکن اسی ذات نے جب شریعت محمدی کو بھیجا تو اسمیں ایسا منظم و مکمل  زندگی کا لائحہ عمل  مرتب کر کے بھیجا جو کہ تمام انسانوں کی قیامت تک کے تمام تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا اس نے  اسلام کو ایک  کامل دین بنایا ۔ اور  شریعت کاایک ایسا بے مثال نظام زندگی بنایا کہ جو قیامت تک آنے والے ہر  انسان کی ضروریا ت کو پورا کرتا رہے گا اور اس میں ایسے قواعد اور کلیے قرار دیے کہ جو ہر دور میں اسی دور کے مطابق اثر انداز ہوں گے ان میں سے کچھ احکام کو قیامت تک  کے لیے ثابت کر دیا اور کچھ ایسے احکام ہیں کہ  جن میں زمان و مکاں کے اعتبار سے  تغیرو تبدیلی ممکن قرار دی   لہذا اسلام ہر دور کے تقاضوں پر پورا اترنے والا مذہب ہے بلکہ جتنی ترقی اسلام  کےقوانین کی پابندی کر کے کی جا سکتی ہے کسی اور طریقے پر چل کر اتنی ترقی نہیں کی جاسکتی۔ اسلام کا ابتدائی دو ر اس بات کا بہترین گواہ ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں مسلمانوں نے اکثر دنیا پر قبضہ کر لیا تھا اور دوسری دنیا کی بہ  نسبت زیادہ تیزی سے علوم و اقتصاد میں ترقی کرنے لگےتھے ۔لیکن جب سےمسلمانوں نے  اسلا می تعلیمات کو پس پشت ڈالنا شروع کیا تب سے ذلت اور غلامی مسلمانوں کا مقدر بن گئی ہے اور مسلمانوں کی غلامی کرنے والے مسلمانوں کی تقدیروں کے مالک بن بیٹھے  ہیں۔ارشاد ہوا۔

’’ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ  ‘‘ (انفال ۵۳)

’’یہ اس لیے کہ اللہ تعالی کسی قوم کو عطاء کردہ نعمت کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اسےتبدیل نہ کردیں‘‘

 بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ رسول اسلامﷺ کے رحلت کے بعد سے آج تک کسی ایسی شخصیت کو حکومت اسلامی اس طرح سنبھالنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ جو پورے اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل پیرا ہو کر ان اسلامی تعلیمات کو معاشرے پر نافذ بھی کر سکے ورنہ اسلام تو اپنے دامن میں وہ عظیم تعلیمات رکھتا ہے کہ اگر انہیں معاشرے میں لاگو کیا جائے تو انسان دنیاہی  میں رہ کر اپنی جنت بنا سکتا اور پوری دنیا کی قیادت اپنے ہاتھوں میں سنبھال سکتا ہے صر ف حضرت علی ؑ کو چند سال حکومت ملی لیکن وہ بھی نام نہاد مسلمانوں کے ساتھ جنگوں میں گزر گئی اور آپؑ  کو شہید کر دیا گیا ۔

سوال نمبر ۹ : ہمارے نبی ﷺ کی سیرت اور خصوصیات کیا تھیں؟

جواب : ہمارے نبی بہت سارے کمالات اور خصوصیات  کے مالک تھے اسی لیے تو اللہ تعالی کی تمام مخلوقات چاہے اولین ہوں یا آخرین ہوں آپ سب سے افضل ہیں ہم ان میں سے چند کمالات کا ذکر کرتے ہیں۔

(۱)۔بچپن سے موحد تھے کہیں غیراللہ کے سامنے  نہیں جھکے ۔

(۲)۔بچپن ہی سے تھوڑی غذا پراکتفا کرتے۔

(۳)۔انہیں کبھی کوئی نازیبا حرکت کرتے نہیں دیکھا گیا ۔

(۴)۔اعلان نبوت سے پہلے ہی اپنی صداقت اور امانت کا لوہا منوا چکے تھے۔

(۵)۔انتہا کی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتے تھے اپنے ہاتھ سے بکریوں کا دودھ دوہتے تھے۔اپنی نعلین اور لباس کو خود سلا ئی کرتے تھے ۔

(۶)۔پاکیزگی اور خوشبو کو دوست رکھتے تھے۔

(۷)۔اتنے عظیم اخلاق کے مالک تھے کہ بہت سارے لوگ آپ کے اخلاق کے گرویدہ ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے تھے۔

(۸)۔ قانونی مسائل میں سختی سے عمل کرتے تھے۔کسی کی رعایت نہیں کرتے تھے ۔

(۹)۔اپنے گھر والوں اور رشتہ دارو ں سے انتہائی اچھا سلوک کرتے تھے۔لوگوں کی زیادتی کو معاف کر دیتے تھے۔

(۱۰)۔بچوں کے ساتھ پیار کرتے تھے اور ان پر سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔

(۱۱)۔غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت کرتےتھے اور خود ان کے ساتھ مل کر کھانا کھا تے تھے۔

(۱۲)۔ کبھی امیر غریب یا عربی عجمی میں امتیاز نہیں برتتے تھے صرف علم و تقوی کی بنیاد پر ترجیح دیتے ۔

(۱۳)۔شجاع اتنے تھے کہ انہیں اس وقت بھی کہ جب جنگ پورے زوروں پر ہوتی دشمن کے لشکر کے درمیان میں پایا جاتا تھا۔لیکن رحیم اس قدر تھے کہ اپنے ہاتھ سے نہ کبھی کسی انسان کا خون بہایا اور نہ ہی اپنے ہاتھ سےکبھی شکار کو پکڑاالبتہ شکارکاگوشت کھا لیتے تھے ۔

(۱۴)۔ادب اور تواضع اس قدر تھا کہ انہیں کبھی چارزانوں بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا گیا بلکہ ہمیشہ دو زانوں بیٹھتے تھےاور فرماتے تھے مجھے غلاموں کی طرح بیٹھنا اچھا لگتا ہے ۔

(۱۵)۔کبھی کسی کھانے کی شکایت نہیں کی ۔پسند نہیں آتا تھا تو نہیں کھاتے تھے۔دودھ ،کھجور،شہد ،خربوزہ ،بکرے کا گوشت پسند کرتے تھے۔تفصیل کے لیے سیرت کی کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔[7]

سوال نمبر 10 : ایک مسلمان پر رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

جواب : جب ایک آدمی آپ پر ایمان لے آیا ہے تو پھر اسے چاہیے کہ

(۱)۔ ذات خداوندی کے بعد سب سے زیادہ محبت انہی کے ساتھ ہواور جب بھی آپؐ کانام لے یا سنے یا ان کی یاد  آئے تو آپؐ پر اور آپ ؐکی آل پر درود بھیجے ۔

(۲)۔ان کی سیرت کو اپنانے کی ہر ممکن کوسش میں رہے

(۳)۔ان کے  لیے دل میں بے حد احترم رکھے کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کو اتنا مقام عطا کیا ہے کہ مسلمانوں کو فرمایا ۔

’’ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ كَجَــہْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ‘‘ (الحجرات ۲)

’’اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند مت کرو اور ان سے اس طرح بلند آواز سے بات نہ کرو جیسے ایک دوسرے   سے کرتے ہو ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور تمہیں پتا بھی  نہیں ہو گا۔‘‘

(۴)۔اور ان کے کسی فیصلے اور حکم کے سامنے چوںچراں نہ کرےبلکہ سر  تسلیم خم کرے۔ارشاد ہوا۔

’ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا ‘‘ (النساء ۶۵)

’’تیرے رب کی قسم وہ اس وقت تک مومن نہیں ہیں جب تک کہ وہ آپس میں ہونے والے اختلاف میں آپ کو ثالث نہ بنائیں۔اور پھر تیرے حکم کے سامنے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے بخوشی تسلیم کر لیں ‘‘[8]

(۵)۔ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوئے انہیں وسیلہ بنانا چاہیے اور آخرت میں ان کی شفاعت کی امیدرکھنی چاہیے کثرت سے ان پر اور ان کی آل پر درود بھیجنا چاہیے

(۶)۔جن سے وہ محبت کرتے تھے ان سے محبت اور جن سے وہ نفرت کرتے تھے ان سے نفرت کرنی چاہیے۔[9]

(۷)۔ ایسے اعمال سے گریز کرنا چاہیے کہ جن سے آپؐ منع فرماتے تھے ورنہ ان کو تکلیف اور اذیت ہوتی ہے۔

چھٹے امام ؑ نے فرمایا  ۔’’ما لكم‏ تسُوؤن‏ رسول‏ اللَّه‏ فقيل كيف نسوؤه فقال:أما تعلمون أنَّ أعمالكم تعرض عليه فإذا رأى‏ معْصيةً فيها ساءه ذلك فلا تسوءوا رسول اللَّه صلىَّ اللَّه عليه و آله و سلم و سرّوه‏‘‘(اصول الکافی ج ۱ باب ۸۶ عرض الاعمال علی النبی والآئمۃ)

’’تمہیں کیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ سے برائی سے پیش آتے ہوتو ایک آدمی نے کہا ہم کیسے برائی سے پیش آتے ہیں جبکہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں امام نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے اعمال رسول اللہ ﷺ کے ہاں پیش کیے جاتے ہیں پس جب وہ ان اعمال میں معصیت خدا کو دیکھتے ہیں تو انہیں یہ بہت بر ا لگتا ہے پس ان سے برائی سے پیش نہ آؤ  بلکہ انہیں خوش کرو۔‘‘[10]۔[11]

 


[1] جناب ابو طالب ؑ اور خدیجہ کبری ٰ کی وفات سے رسول اللہﷺ اتنے زیادہ غمگین کیوں ہوئے؟

[2] کیا آپ کو بھی نبی پاک کا کوئی معجزہ یاد ہے؟

[3] کیا رسول خداﷺ پر ایمان لانے والے ہر مسلمان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ آپ ؐ کے کردار کو اپنانے کی کوشش کرے یا نہیں؟ آپ کس حد تک یہ کوشش کرتے ہیں؟

[4] کیا آپ جانتے ہیں کہ نزول قرآن کے وقت عرب نے کئی بار قرآن کے مقابل کلام پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اگر یہ بات معلوم ہے تو کوئی واقعہ سنائیں۔

[5] کیا اہل سنت میں سے بعض کا یہ دعوی درست ہے کہ شیعہ حضرات تحریف قرآن کے قائل ہیں؟

[6] آپ کس حد تک قرآن کے اس حق کا پاس کرتے ہیں؟

[7] ذرا سوچئیے!کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں سے کونسی باتوں کے پابند ہیں؟

[8] کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کو بھی ماننے کے لیے تیار ہیں کہ جس سے ظاہر میں آپ کو نقصان پہنچ رہا ہو؟

[9] وہ کون لوگ ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ محبت کرتے ہیں اور کن لوگوں سے نفرت کرتے ہیں؟

[10] یہاں استاد صاحب چند ایسے کاموں کی مثالیں ذکر کریں جو اللہ کے رسول کو اذیت دیتے ہوں۔

[11] کیا آپ سے تو کبھی کوئی ایسا کام نہیں ہوا جس سے رسول اللہ ﷺ کو اذیت ہوئی ہو؟