چھٹا باب

امامت

 

سوال نمبر1: امامت سے کیا مراد ہے؟

جواب: اہل تشیع کی نظر میں مسلمانوں کی دین و دنیا کی رہبریت جو اللہ کی جانب سے عطا ہو اس کا نام امامت ہے۔اورامام وہ ہستی ہے جو اللہ کی جانب سے ہر اعتبار سے رسول خدا ﷺ کا جانشین ہو اور مسلمانوں کی دینی و دنیاوی قیادت کر سکتا ہو جبکہ اہل سنت کے نزدیک  ہر اسلامی معاشرے کا ہرحکمران امام ہے چاہے وہ شوریٰ کے ذریعے سے بنا ہو یا انتخابات کے ذریعے اس کا چناؤ ہوا ہو یا طاقت و قوت سے اقتدار سنبھالا ہو۔

سوال نمبر 2 : امام کا ہونا کیوں ضروری ہے؟

جواب: (۱)۔جو دلیل نبی کے ضروری ہونے کو ثابت کرتی ہے وہی دلیل امام کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے۔اسی لیے امام کی ضرورت پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے کیونکہ جب نبی پیغام دین و شریعت پہنچا کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کے بعد آنے والے لوگوں کے لیے اگر کوئی اور نبی نہیں ہے اور انہیں اگر اسی دین میں رہنا ہے تو پھر ضروری  ہے کہ ایسی شخصیت موجود ہو جو اس دین کو اول سے آخر تک سمجھتی ہو تاکہ اس دین کو معاشرے پر لاگو کرسکے اور اس دین کے احکام کو صحیح معنوں میں نئے لوگوں تک پہنچائے

(۲) اگر کوئی شخص نئی نئی بدعتیں ایجاد کر رہا ہو یا کوئی اعتراضات اور شبہات پیش کررہا ہو تو ایسی ہستی کا ہونا ضروری ہے جو  دین کی  حفاظت کر سکے ورنہ اس میں تحریف ہو جائے گی اور حقیقی تعلیمات کو چھپا دیا جائے گا اوردشمن عناصر وسوسے اور شبھات پیدا کریں گے اور بالآخر وہ دین مٹ جائیگا یا اپنی اصلی حالت پہ  باقی نہیں رہے گا پس جس منزل تک انسان کو پہنچنے کے لیے یہ دین و شریعت بھیجی گئی ضروری ہے کہ نبی کے بعد ایسی کامل شخصیت موجود ہو جو اس امت کو تکامل کے راستے پر گامزن رکھے اور منزل مقصود تک پہنچائے ۔

 (۳)۔ ایسا دین جسے قیامت تک باقی رہنا ہے اس کے لیے واجب ہے کہ ہر دور میں نبی کا ایسا قائم مقام موجود ہو جو اسلامی معاشرے کی حقیقی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔

 (۴)۔ اگر امت کسی مسئلہ میں اختلاف کر ے تو ان کے درمیان فیصلہ کرنے والی ایسی شخصیت موجود ہو جو حق و باطل میں تمیز کر سکتی ہو وگرنہ حق وباطل کے درمیان فرق  باقی نہ رہے گا

سوال نمبر 3 : امام کو کن کن اوصاف کا مالک ہونا چاہیے؟

جواب : چند  اوصاف  وکمالات کا امام میں ہونا ضروری ہے ۔

۱۔ عالم اور حکیم ہو۔

پورے دین کا اسے علم ہو ۔ہر مسئلہ کا حل جانتا ہو ۔حکمت بھرے فیصلے کر سکتا ہو۔کیونکہ اگر وہ بھی کسی مسئلے میں کہے کہ میں نہیں جانتا ہوں تو پھر اس کا حل تلاش کرنا ناممکن ہو جائے گا اور لوگ یونہی حیران و سرگردان رہیں گے۔ارشاد ہوا۔

’’ قَالَ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰىہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ‘‘(البقرۃ ۲۴۷)

’’بے شک اللہ تعالی نے اس (طالوت) کوتم پر (حاکم کے طور پر) چن لیا ہے اور اسکے علم اور جسم میں اضافہ کیا ہے‘‘

۲۔ زاہد اور متقی ہو۔

ضروری ہے کہ امام دنیا کی محبت سے آزاد ہو ۔زہد و تقوی اس کا شعار ہو کیونکہ اگر وہ لالچی ہو گایا خوف خدا اس میں نہ ہو گاتو مخلص ہو کر قیادت کے فرائض انجام نہیں دے سکتا اور لوگوں کے لیے عملی نمونہ بننے اور انہیں دین کی طرف راغب کرنے میں ناکام رہے گا ۔ارشاد ہوا۔

’ وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ‘‘ (سجدۃ ۲۴)

اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) میں سے کچھ کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا اوروہ ہماری آیات کا یقین رکھتے تھے‘‘

۳۔ بہادر ہو۔

شجاعت  ایک قائد اور رہبر کے لیے اس قدر ضروری ہے جس قدر علم اس کے لیے  ضروری ہے کیونکہ جو بزدل ہوتے ہیں وہ حالات کا سامنا نہیں کر پاتےاوررعیت کو ذلت کا عادی بنا دیتے ہیں ۔سابقہ آیت جو کہ جنا ب طالوت کے حوالے سے ذکر ہوئی ہے  اس میں علم کے ساتھ شجاعت کی طرف بھی اشارہ موجودہے ۔

۴۔معصوم ہو۔

کیونکہ اگر وہ بھی گناہ گارہوگا تو پھر امت کے دوسرے افراد سے بھلا کیا توقع کی جاسکتی ہے  کہ وہ دین کے پابند ہوں گے اوربھلا کس طرح سے لوگ دل و جاں سے اس کی اتباع  کریں گے۔حقیقی قیادت اسی وقت ممکن ہے جب لوگوں کو اس کے علم اور کردار پر سو فیصد اعتماد ہولیکن اگراس نے گناہ کا ارتکاب کیا تو لوگوں کا اس پر سےاعتماد اٹھ جائے گا۔ارشاد ہوا۔

’’ وَجَعَلْنٰہُمْ اَىِٕمَّۃً يَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوۃِ۝۰ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ ‘‘ (انبیاء ۷۳)

’’او ر ہم نے انہیں (اسحٰق و یعقوب کو) امام قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں اور ان کی طرف اچھے کام کرنے ،نماز قائم کرنے،زکاۃ دینے کی وحی کی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔‘‘

قرآن گواہی دے رہا ہے کہ جنہیں اللہ نے امام بنایا ہے ان افراد کو امام بنایا ہی اس لیے ہے کہ انہوں نے کبھی غیراللہ کی عبادت نہیں کی اور معلوم ہونا چاہیے کہ کسی  بھی قسم کا گناہ عباد ت میں شرک شمار ہوتا ہے کیونکہ اس میں شیطان کی عبادت کا دخل ہوتاہے تو جن کے بارے میں اللہ گواہی دے کہ وہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنے والے ہیں تو اس کا معنی یہ کہ وہی حقیقی معصوم ہیں ۔

۵۔ افضل ہو۔

ضروری ہے کہ امام تمام صفات و کمالات میں اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے افضل ہو تاکہ کسی افضل پر اپنے سے مفضول کی اطاعت و پیروی واجب نہ ہو جائے ۔کیونکہ عقل کے نزدیک یہ قبیح ہے ارشاد ہوا ۔

’ اَفَمَنْ يَّہْدِيْٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَہِدِّيْٓ اِلَّآ اَنْ يُّہْدٰى ۚ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ ‘‘ (یونس۳۵)

’’اور کیا جو حق کی طرف ہدایت کرتا ہے وہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے یا وہ کہ جو ہدایت نہیں کر سکتا ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے پس تمہیں کیا ہو گیا تم کیسے فیصلے کرنے لگے ہو۔‘‘

سوال نمبر ۴ : امام کو معین کرنا کس کا کام ہے ؟

جواب: اس مسئلہ میں مذہب امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح نبی کو معین کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اسی طرح سے امام کی تعیین بھی فعل خدا ہےکیونکہ امامت بھی نبوت کی طرح الہی منصب ہے اور ذات پروردگار ہی صحیح طرح سے یہ جا ن سکتی ہے کہ کون اس منصب کا اہل ہے،اور وہ کون ہے جو گناہوں  اور خطاؤں سے پاک  وپاکیزہ ہے۔اس لیے قرآن میں مذکورہے کہ اللہ تعالیٰ  ہی نے اپنے بندوں میں سے جسے چاہا لوگوں کا امام قراردیا۔ارشاد ہوا۔

’ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ‘‘  (بقرۃ ۱۲۴)

’’بے شک میں تجھے(اے ابراہیم)لوگوں کا امام بنا رہا ہوں‘‘

گزشتہ آیات میں جناب طا لو ت کا تذکرہ گزر چکا ہےکہ لوگ اپنے زمانے کے نبیؑ کے پاس آئے کہ آپ ہمارا حاکم اور سلطان معین کریں تو انہوں  نے جواب دیا کہ اللہ تعالی نے تمہارے لیے طالوت کو تمہارا حاکم و سلطان چنا ہے  گویا یہ حق صرف خدا کا ہے غیرخدا اس میں شریک نہیں ہے حتی کہ انتخاب ِحاکمیت کا حق نبی کو بھی نہیں ہے بلکہ ان کا کام صرف خدا کی طرف سے منتخب شدہ اس فرد کا اعلان کر نا ہے۔

لیکن اہل سنت چونکہ اسے الہی منصب  قرار نہیں دیتے اوران کا نظریہ ہے کہ اسے لوگ بھی چن سکتے ہیں  اور جو امام بن گیا اس کی اطاعت واجب ہو جائے گی جیسا کہ وہ صفا ت میں بھی مذکورہ شرائط کے قائل نہیں ہیں بلکہ ان کے ہاں امام فاسق بھی ہو سکتا ہے اور جاہل بھی۔لہذاوہ جیسا بھی  ہے  چونکہ وہ  امام ہے اس لیے اس کی اطاعت واجب ہے ۔

سوال نمبر 5 ؛ ہم کس طرح سے  یہ جان سکتے ہیں کہ موجودہ امام ہی  اللہ تعالی کی جانب سے منتخب  شدہ امام ہے؟

جواب : اسکے جاننے اور پہچاننے کے چند طریقے ہیں

۱۔ وہ دعوی ٰ امامت کے ساتھ معجزہ بھی دکھائے۔

۲۔ نبی یا گزشتہ امام اپنے بعد والے  امام  کی تصدیق کر دے۔

۳۔اس میں ایسی اوصاف پائی جائیں  کہ جن کا امام میں ہونا ضروری ہو۔اس کے علاوہ کسی اور میں ایسے اوصاف نظر نہ آئیں۔

سو ال نمبر 6: امام اور نبی میں کیا فرق ہے؟

جواب  : نبی پر وحی نازل ہوتی ہے جبکہ امام پر وحی نازل نہیں ہوتی۔نبی کا کام اللہ کی جانب سے پیغام پہنچانا ہے اورامام کا کام اس کی حفاظت کرنا ہے۔ امام خود بھی نبی کی تعلیمات کا پابند ہوتا ہے اور معاشرے میں بھی انہیں نافذ کرتا ہے اور مزید یہ کہ وہ معاشرے کی راہِ کمال کی طرف قیادت کرتا ہے اور نبی کی طرح امام بھی  تمام صفاتِ کمال وجمال  کا مالک ہوتا ہے۔