ساتواں باب

ہمارے آئمہ ؑکی امامت

 

سوال نمبر1: کیا نبی ﷺ نےاپنے  بعد کسی کو اپنا خلیفہ  اور  جانشین مقرر کیا ہے یا نہیں؟اور اگر کیا ہے تو پھر کس کومعین کیاہے؟

جواب: ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول خدا ﷺ نے اپنے بعد اپنا جانشین معین بھی کیا ہے اور باقاعدہ اس کا اعلان بھی فرمایا ہے کیونکہ کوئی عقل سلیم رکھنے والا انسان  اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ وہ نبی جو اپنی امت کی ہدایت اور کامیابی کے لیے اس حد تک کوشاں تھے کہ چھوٹے  سے چھوٹا حکم بھی آپ بیان کیا کرتے تھے حتی  کہ یہاں تک بیان فرما یا ہے  کہ ہاتھوں کے ناخن کس دن تراشنے چاہییں اور کس انگلی سے پہلے شروع کرنا اور کس پر ختم کرنا چاہیے ،پانی کب کھڑے ہو کر پینا مناسب ہے اور کب بیٹھ کر ۔لہذا وہ  نبی یہ جاننے کے باوجود کہ میری دنیاوی زندگی کے آخری ایام ہیں اور یہ دین قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ہےاور نہ ہی کسی اور نبی نے  آنا ہے اور اب بھی بڑی بڑی روم و فارس جیسی اسلام دشمن طاقتیں موجود  ہیں اور یہاں سے  اکثر مسلمان ابھی تازہ تازہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ان سب حالات سے باخبر ہونے کےباوجود وہ امت کو اس کے حال پہ چھوڑ کر چلیں جائیں کہ ان کا کوئی والی وارث نہ ہو اور وہ اپنا کوئی خلیفہ اور جانشین مقرر نہ کریں چاہےان کے  بعد  امت قیامت تک اس مسئلہ میں  آپس میں لڑتی رہے اور دشمن اس فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے اسلام کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرلے اور نتیجہ میں تمام محنتوں اور جنگوں میں اٹھائی گئی تکلیفوں پرپانی پھر جائے۔ایسا تو ایک عام قسم کا رہبر جوکہ ایک چھوٹے سے گروہ سے تعلق رکھتا  ہو وہ بھی اس طرح کا غیر عاقلانہ اقدام نہیں کر سکتا تو بھلا کیسے ممکن ہے کہ وہ ذات جو  پوری کائنا ت میں حکیم  و دانا  اور عقلاء کا سرداروہ  اتنی بڑی اسلامی حکومت کوکیسے بغیر امام کے چھوڑ کر جا سکتا ہے۔یہ بات ہماری عقل سے بالا تر ہے لہذا ایسا کہنا کہ انہوں نے اپنے بعد کسی کو معین نہیں کیا ہے یہ نبی اعظمﷺ  پر بہتان اور تہمت ہے کہ نعوذباللہ انہیں امت کی کوئی فکر نہیں تھی جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلیفہ اول اپنی زندگی کے آخری لمحات  میں خلیفہ دوم کو معین کرکے گئےاور خلیفہء دوم کو بھی اسی بات کی فکر تھی اس لیے اپنے بعد چھ افراد پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو ان کے بعد خلیفہ کا چناؤ کرےگی تو پھر کیسے اللہ کے رسول کے بارے میں یہ کہا جاتاہے کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا[1]۔اسی لیے تو ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول خدا نے اپنے بعد علی ؑ کو اپنا خلیفہ اور جانشین مقرر کیا تھا اور ان کے بعد ا نکی نسل سے آنے والےگیارہ(۱۱) اماموں کو ان کے اسماء گرامی کے ساتھ بالترتیب بیان فرما دیا تھا۔

 ۱۔ حضرت حسن بن علی ؑ ۔۲۔ حضرت حسین بن علیؑ،۳۔حضرت علی بن حسینؑ۔۴۔ حضرت محمد بن علیؑ۔۵۔ حضرت جعفر بن محمؑد۔۶۔حضرت موسیٰ بن جعفرؑ۔۷۔ حضرت علی بن موسیٰؑ ۔۸۔حضرت محمد بن علیؑ ۔۹۔حضرت علی بن محمدؑ۔۱۰۔حضرت حسن بن علیؑ۔۱۱ ۔حضرت مہدی بن حسنؑ۔

سوال نمبر ۲: ہمیں مذکورہ کلام سے اتنا تو علم ہو گیا ہے کہ آپؐ نے ضرور با لضرور اپنے بعد کسی نہ کسی کو اپنا نائب معین کیا تھا  لیکن اس بات کی کیا دلیل ہے کہ آپ ؐنے اپنے بعد مولا علیؑ  ہی کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر  کیا تھا ؟

جواب:ہمارے اس دعویٰ  کی دلیل یہ ہے کہ مختلف موقعوں پر آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؑ کی جانشینی اور انکے خلیفہ ہونے کا اعلان فرمایا تھا لہذا  ہم ان میں سے چند مواقع کا ذکرتبرکا ً و تیمناً   کرتے ہیں۔

۱ :دعوت ذی العشیرۃ: اعلان نبوت کے تیسرے سال بعد جب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ’’ وَاَنْذِرْ ’’عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ‘‘ (شعراء ۲۱۴)

(اپنے قبیلہ میں سے جو زیادہ آپ کے قریبی ہیں انہیں ڈراؤ))

 لہذا اس حکم کے پیش نظرآپ ﷺ نے اولاد عبدالمطلب میں سے چالیس افراد کو دعوت طعام دی اور کھانے سےفارغ ہونے کے بعد  آپ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کرکے وہاں پر توحید اور اپنی رسالت کا اعلان فرمایا اور پھر اعلان کیا کہ تم میں سے جو کوئی بھی اس کا م میں میری تصدیق اور مدد کریگا وہ میرا جانشین اور وصی ہوگا ۔پھر آپ  نے اس کلام کو مسلسل تین دن تک تین بار دہرایا اور ہر بار علی علیہ السلام نے اٹھ کر اپنی نصرت کا اظہار کیا تو اس موقع پر آپ نے فرمایا۔

’ ان ھذا أخی و وصیّ وخلیفتی علیکم فاسمعوا و اطیعوا‘

(( بے شک یہ میرا بھائی میرا وصی اور تم پر میرا خلیفہ  ہے پس اس کی بات سنو اور اسکی اطاعت کرو)

یہ واقعہ شیعہ اور سنی علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جیسا کہ مشہور مورخ طبری نے اپنی کتاب  تاریخ طبری 1/543۔میں یہ لکھا  ہے کہ اسلام  کی طرف  سےپہلی دعوت ہی میں توحید اور رسالت کے  ساتھ امامت کی طرف بھی دعوت دی گئی تھی ۔

۲۔حدیث منزلت:

جب آپؐ 9 ہجری میں سلطنت روم کے خلاف غزوہ تبوک کے لیے جانے لگے تو حضرت علی ؑ کو مدینہ میں رہنے کا حکم دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت علیؑ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ مجھے  اپنے آپ سے جدا کر کے عورتوں اور بچوں میں تنہاء چھوڑ کر جارہے ہو تو اس وقت اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ۔

’’ألا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الّا انہ لیس نبی بعدی‘‘

((کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی نسبت مجھ سے وہی ہے جو ہارون کو موسی ٰ کے ساتھ تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے))

یہ حدیث بھی انتہائی معروف اور مشہور ہے اور دونوں مذاہب کے علماء نے اسے اپنی اپنی کتابوں میں نقل بھی کیاہے جیسا کہ بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری 1/526میں اور مسلم نے صحیح مسلم  2/278  میں اور یہ دونوں کتابیں  اہل سنت کی معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی  ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ہارون کو موسیٰ کے ساتھ  کیا منزلت تھی اس چیز کو سمجھنے کے لیے جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں۔تو وہاں ہمیں  یہ نظر آتا ہے کہ ہارون موسیٰ کے بھائی ،خلیفہ اور وزیرہونے کے ساتھ ساتھ خود بھی نبی تھے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں موجود ہے کہ جناب موسی نے بارگاہ پروردگار میں عرض کی۔’’ وَاجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَھلیِ ،ھٰرُوْنَ اَخِي ‘‘  (طہٰ ۳۰)

’’اور میرے لیے  ایک وزیر قراردے جو  کہ میرے اہل میں سے ہو اور وہ میرا بھائی ہارون ہے ‘‘اس آیت میں ہارون کے وزیر اور بھائی ہونے کا ذکر ہے۔

اور ایک جگہ پر جنا ب موسیٰ ؑ نے جناب ہارون ؑ کو مخاطب ہو کر فرمایا۔

’’ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ  ‘‘  (اعراف ۱۴۲)’’میری قوم میں میرا خلیفہ بن کر رہو‘‘ اس آیت میں جناب ہارونؑ کا جناب موسیٰؑ کا خلیفہ ہونا ثابت ہوا ہے۔

لہذا جب بقول رسول اللہ ﷺ علی ؑ کی منزلت رسول ﷺ سے ہارون جیسی  ہےسوائے نبوت کے تو یہاں یہ ثابت ہوتاہے کہ کہ علیؑ رسول خدا ﷺ کے بھائی بھی ہیں اور وزیر اور خلیفہ بھی ہیں۔بس اتنا فرق ہے کہ وہ نبی نہیں ہیں ۔

۳۔حدیث غدیر:

جب رسول خدا ﷺ 10 ہجری کو حجۃ الوادع سے فارغ ہو کر مکہ  سے مدینہ روانہ ہوئے تو مقام غدیر پر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

’’ يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّك ،وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ، وَاللہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ‘‘  (المائدۃ ۶۷)

’’ اے رسول جوحکم تمہارے رب کی جانب سے تم پر نازل ہوا ہے اسے پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے یہ کام نہ کیا توگویا آپ نے رسالت کا کوئی کام انجام نہ دیا  اور اللہ تمہیں لوگوں  کے شر سے محفوظ رکھے گا‘‘

اسی وقت اللہ کے رسول ﷺ نے اصحاب کو رکنے کا حکم دیا ۔پلانوں کا ممبر بنایا  گیا  اور اس پر بلند ہو کر آپ نے  ایک عظیم الشان خطبہ دیا جس میں اللہ کی حمد و ثناء کے  بعداپنی رحلت کا وقت قریب ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔اور ساتھ ساتھ کچھ وصیتیں اور نصیحتیں فرمائیں۔پھر لوگوں سے پوچھا۔’’ألست أولی منکم بانفسکم‘‘ ((کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتاہوں)

سب نے کہا ’’بلیٰ‘‘ کیوں نہیں ۔تو اس وقت آپ نے حضرت علی ؑ کو بازو سے پکڑا اور بلند کرکے فرمایا ’’من کنت مولا فھذا علی مولاہ‘‘

(جس جس کا میں مولا ہوں اس  اس کے یہ علیؑ مولا ہے))

پھر آپ ﷺ نے  سب کو حکم دیا کہ وہ علی ؑ کے ہاتھ پر بیعت کریں پھر جب سب نےبیعت کی   تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ سب حضرت علی ؑ کو مبارکباد پیش کریں لہذا سب نے  ان لفظوں میں آپ کو  مبارک باد دی ۔’’بخ بخ لك یابن ابی طالب لقد أصبحت مولای و مولیٰ کل مومن و مومنہ‘‘

((مبارک مبارک اے فرزند ابو طالب آپ  میرےبھی اور ہر مومن اور مومنہ کےمولا بن گئے۔[2]

جب یہ اعلان ہو چکا تو جبرئیل پھر نازل ہوئے اوریہ آیت نازل ہوئی ۔’’ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ‘‘ (المائدۃ ۳)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا   اور نعمت کو تم پر تمام کر دیا ہے ۔اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو گیا )

حدیث غدیر تواتر کی حد تک نقل ہوئی ہے یہاں تک کہ  اسےبہت سے اہل سنت علماء نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جیسا کہ  ۔سنن ابن ماجہ 1/129 ۔ المعجم الکبیر للطہرانی 5/194۔مستدرک نیشاپوری۔14/375۔ وغیرہ

ایک اعتراض اور اس کا جواب:

کوئی کہہ سکتا ہے کہ حدیث غدیر میں لفظ مولا استعمال ہوا ہےاور یہ ایسا لفظ ہے جو کہ عربی زبان میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔کبھی یہ چچا زاد بھائی کے لیے استعمال ہوتا ہے توکبھی دوست کے لیے ،کبھی محبوب کے لیے تو کبھی آقا کے لیے،کبھی غلام کے لیے تو  کبھی حاکم کے لیے(جس کی اطاعت واجب ہو)استعمال ہوتا ہے تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ یہاں حدیث میں اللہ کے رسول نے  جو لفظ مولا  کہا اس سے سے آخری معنی مراد ہی ہے  اور اگر آخری معنی کی تعیین نہ ہو سکے تو علی کا امام اور خلیفہ ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا ہے۔؟

جواب: یہ بات درست ہے کہ لفظ مولا کے کئی معانی ہوتے ہیں اور چونکہ یہ لفظ مشترک ہے بعض علماء نے اس کے ستائیس (۲۷) معانی شمار کیے ہیں ،موقع و محل کی مناسبت سے یہ لفظ ان معانی میں استعمال ہوتا ہے ،لیکن اس مقام پر ایسے قرائن موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ یہاں اس لفظ سے مراد فقط ’’ اولیٰ بالتصرف ‘‘ ہی ہے ۔ہم ذیل میں ان قرائن میں چند کو بطور نمونہ ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ اپنے کلام کے آغاز ہی میں اللہ کے رسول نے اشارہ کردیا تھاکہ میں عنقریب تمہارے درمیان سے جانے والا ہوں تو جب کوئی رہبر ایسی بات کرتا ہے تو فوراً ذہنوں میں یہی سوال اٹھتا ہے کہ پھروہ  ہمیں کس کے حوالے کر کے جارہے ہیں تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمادیا کہ میں تم پر حضرت علؑی کو امام اور قائد مقرر کرکے جارہا ہوں۔

۲۔ پہلے  آپ نےسوال کیا  کہ کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں ؟تو  ان سب نےجواب دیاکیوں نہیں پھراس بات کا اقرار لینے کہ بعدیہ  فرمایا  کہ’’ جس کا میں مولی ٰ ہوں اس کے یہ  علی مولا ہیں تو پھر واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت علؑی  کو اسی معنی میں مولا کہنا چاہتےتھےجس معنی میں اپنے مولا ہونے کا  ان سے اقرار لیا تھا ۔یعنی جس طرح میرے حکم کی اطاعت تم پر بغیر چوں وچرا کے واجب ہے اسی طرح میرے بعد علیؑ کے حکم کی اطاعت بھی واجب ہو گی۔

۳۔ اس طرح حاجیوں کو راستے میں روک کر پلانوں کو ممبر بنا کر اعلان کرنا یہ کسی معمولی مقصد کے لیے نہیں تھا یعنی صرف یہ کہنے کے لیے کہ علی ؑ تمہارا دوست یا محبوب ہےا س قدراہتمام کرنا عقلاء کے نزدیک غیر مناسب ہے ۔بلکہ اس طرح کا اعلان وہ بھی خاص اہتمام کے ساتھ کسی عظیم مقصد کے پیش نظر ہی تھا۔

اب رسول  اللہ ﷺ سے اس طرح کےصادر ہونے والے واضح کلام کے بعد اس بات میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے کہ انہوں نے کئی بار خلافت و امامت علی ؑ کا اعلان فرمایا ہے ۔

سوال نمبر ۳ : کیا ہم قرآن مجید سے بھی ثابت کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد امام حق علی ؑ ہیں؟

جواب: قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس طرح کی آیات موجود ہیں کہ جن سے تاریخ اور حدیث کی مدد سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ بعد رسول ﷺ امام علی ؑ خلیفہ برحق ہیں ۔مثال کے طور پر سورۃ مائدۃ کی آیت ۵۵ میں ارشاد ہوا۔’’ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَھُمْ رٰكِعُوْنَ‘‘

(( بے شک تمہارا ولی (حاکم ،اولی بالتصرف )صرف اللہ اور اسکا رسول اور وہ ہیں جو ایمان لائے اور نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکاۃ دیتے ہیں۔

اہل سنت اور اہل تشیع کی اکثر تفسیروں میں یہ منقول ہے کہ  حضرت  علیؑ نے ایک دن مسجد نبوی میں حالت رکوع میں ایک سائل کو اپنی انگوٹھی دی تھی  چونکہ اس  سائل نے اس وقت سوال کیاتھاجب آپؑ حالت نماز میں تھے لہذا یہ آیت حضرت علیؑ  کی شان ہی  میں اتری  ہے ۔مثال کے طور پر دیکھیے۔(درمنثور سیوطی کی 3/405 اور تفسیر کبیر رازی کی 12/24۔

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید اسی طرح سے حضرت علیؑ  کو ہمارا مولا قرار دے رہا ہے  جس طرح سے اللہ اور اس کے رسول ہمارے مولا ہیں۔

سوال نمبر ۴ : کیا ہمارے پاس کوئی عقلی دلیل بھی ہے کہ جو یہ ثابت کرے کہ رسول اللہ کی جانشینی کے اصل حقدار صرف حضرت علیؑ تھے؟

جواب: جی ہاں ہر عاقل انسان اگر اپنی عقل سے پوچھے  کہ رسول کےبعد کون انکی جانشینی کا زیادہ حقدار  تھا تو ہر انسان کی عقل  یہی کہے گی کہ  اصحاب رسولﷺ جو بھی علم ،حکمت ،شجاعت،زہد و تقویٰ عدل و انصاف میں سب سے زیادہ ہو اور حسب و نسب اور خاندانی طور پر  پست نہ ہو۔اب جب ہم اصحاب رسول کی حقیقی اور سچی تاریخ اور انکی سوانح حیات کا مطالعہ کرتے ہیں  تو جس شخصیت میں یہ تمام صفات بدرجہ اتم موجود نظر آتی ہیں وہ صرف علی ؑ کی ذات ہے اوریہ اس بات کی واضح دلیل ہے کی تنہا وہ حکومت اسلامی کےحقیقی قائد ہونے کے اہل تھے ۔

اسی لیےتو ایک بہت بڑے نحوی اور لغوی عالم خلیل بن احمد فراھیدی نے کہا تھا۔’’عدم احتیاجہ الی احد فی شیئ و احتیاج الکل الیہ فی الکل دلیل علی انہ امام الکل فی الکل۔‘‘

( آپکا کسی کی طرف محتاج نہ ہونا اور ہر ایک کا ہر چیز میں آپکا محتاج ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ہر چیز میں ہر ایک کے امام ہیں)

اسکے علاوہ متعدد مقامات پر حضرت علیؑ سے ایسی کرامات صادر ہوئیں جو انبیاء سے صادر ہوا کرتی ہیں اوریہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اگر نبی نہیں ہیں تو نبی کےوصی ضرور تھے۔[3]

سوال نمبر ۵ : یہاں پر ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے اور وہ یہ کہ اگر اللہ کے رسولﷺ نے اپنی زندگی میں کئی بار علی ؑ کی امامت کا اعلان کیا ہوتا  تو وہ صحابہ جو آپ ﷺکے اشارے پر جان قربان کر دینے کو تیار تھے آپ ﷺکے کہنے پر وطن چھوڑنے ،جنگیں لڑنے اور طرح طرح کی مختلف مشکلات برداشت کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے اور جن کے بارے قرآن کی یہ آیت اتر چکی تھی ارشاد ہوا۔

          ’’وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهَارُ ‘‘ (توبہ ۔ ۱۰۰)

(مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جنہوں نے اچھے کاموں میں انکی اتباع کی اللہ  ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور انکے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں)

توپھر یہ کیسے  ہو سکتا ہے کہ وہ سب کے سب اس ایک حکم کو پس پشت ڈال دیں۔اور رحلت رسول ﷺ کے فوراً بعد خدا اور رسول کی نافرمانی پر اتر آئیں یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے اور کیا اس سے یہ لازم نہیں آئیگا کہ العیاذ باللہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی تربیت کرنے میں ناکام رہے؟

جواب: ہم اس سوال کا جواب مختلف زاویوں سے بیان کر تے ہیں۔

۱۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ تمام اصحاب نے حضرت علی ؑ سے رخ موڑ لیاتھا بلکہ  اصحاب رسول ﷺ میں بہت سی شخصیات نے خلیفہ اول کی بیعت سے انکار کر دیا تھا کہ جن میں سلمان ؓ،ابوذرؓ،مقدادؓ،جیسے لوگوں کےنام سر فہرست ہیں۔

۲۔ یہ آیت صرف مہاجرین و انصار میں سے سبقت کرنے والوں اور پھر نیک کاموں میں انکی اتباع کرنے والوں کو خوشخبری سنا رہی ہے بشرطیکہ وہ آخر زندگی تک کوئی ایسا کام نہ کریں کہ جس سے خدا ناراض ہوجائے یعنی اس آیت  کےزمرے میں صرف وہی صحابی شامل ہے جو مرتے دم تک خدا  و  رسولﷺ کی اطاعت پر برقرار تھاورنہ کئی قبیح اعمال  ایسےبھی ہوتے ہیں کہ جن کے انجام دینے سے سب اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ارشاد رب العزت ہوا۔

’’ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّہْتَدُوْنَ ‘‘ (انعام ۸۲)

’’ وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کیا تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں‘‘

لہذا آخر ت میں امن میں رہنے کی یہ شرط ہے کہ انسان اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہ کرے ۔

۳۔ اگرکوئی یہ قیاس کرے  کہ جب وہ لوگ ایمان لا چکے تھے اور دوسرےاحکام میں پیروی بھی کر رہے تھے تو پھر یہ بات بعید ہے کہ وہ اس مسئلہ میں نافرمانی پر اترآئیں لیکن  یہ قیاس درست  نہیں ہے اس لیے کہ گزشتہ امتوں کی تاریخ بھی ایسے کارناموں سے بھری ہوئی ہے ۔

جیسا کہ  جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم موسیٰ ؑ کے ہاتھوں کم و بیش چودہ معجزات دیکھ چکی تھی  ۔اپنی آنکھوں سے فرعون اور اس کے لشکر کو ڈوبتا ہوا بھی دیکھ لیا تھا۔جناب موسی ؑ  کے ذریعے ایک بہت لمبے عرصے کی غلامی اور ذلت سے چھٹکارہ بھی حاصل کر لیا تھالیکن جب جناب موسیٰؑ ان کے لیے تورات لینے کے لیے چالیس دن  اپنے بھائی ہارون کو انکے درمیان خلیفہ مقرر کر کے چلے گئے تو اس کے باوجود صرف چالیس دن کی غیبت میں اکثر لوگ بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے اور اتنے مختصر لوگ شرک سے بچے  تھے کہ جناب موسیٰؑ نے جب جناب ہارونؑ کی سرزنش کی تو انہوں نے کہا کہ قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ یہ  لوگ مجھے قتل کر دیتے ۔یعنی ان کے اتنے یارومددگار ہی نہیں بچے تھے کہ جنکے ذریعہ وہ اپنا دفاع کر سکتے اور اپنی تبلیغ  جاری رکھتے ۔

جبکہ رسول اللہ ﷺ  تو ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھےاور لوگوں نے آپ کے مقرر کردہ خلیفہ کو تسلیم بھی نہیں کیا تھا تو پھر جب کتب تاریخ و حدیث میں یہ بات ذکر ہوئی ہے تو اسے ماننا پڑے گا کہ یہ واقع ہوا ہے۔

۴۔ یہ بات قطعاً درست نہیں ہے کہ تمام اصحاب رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو بغیر چوں وچرا کے تسلیم  کیا کرتے تھے بلکہ کئی ایک مواقع پر کچھ اصحاب نے حکم رسول ﷺکو تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ آپ کی بات پر عمل کیا ہے ۔مثال کے طور پروہ  چند اموریہ ہیں

(الف ) ۔سنہ 6ہجری میں ہونے والی صلح حدیبیہ پرکچھ اصحاب نے اعتراض کیا  تھا کہ جس میں رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کے ساتھ کچھ شرائط پر صلح کی تھی اس کی تفصیل  سیرت نبویہ ابن ہشام 2/316[4] میں ملاحظہ کریں۔

(ب ) ۔اسی طرح تاریخ کی کتابوں میں یہ معروف ہے کہ جنگ احد میں اللہ کے رسول ﷺ نے 50 صحابہ کو عینین پہاڑ پر معین کیا اور فرمایا کہ میری اجازت  کے بغیر اس جگہ کو نہیں چھوڑنا لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کا پلہ بھاری ہوتے دیکھا  تو رسول اللہ ﷺ کے امر کا ا نتظار کیے بغیر مال غنیمت لوٹنے کے چکرمیں اپنی جگہ چھوڑ کرچلے آئے  اور پھر مسلمانوں کوان کے اس اقدام کا بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

(ج) اسی طرح  آپ ﷺ نےاپنی وفات سے پہلے اسامہ کا لشکر تشکیل دیا تھااور جنگ کے لیے روانہ ہونے کا سختی سے حکم  دیا تھاحتی کہ پیچھے رہ جانے والے پر لعنت بھی کی تھی لیکن پھر بھی مختلف حیلے بہانے بنا کر بہت سارے  افرادلشکر اسامہ میں نہ پہنچے جس کی وجہ سے وہ لشکر روانہ نہ ہو سکا تفصیل کے لیے تاریخ طبری 2/430۔[5] کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

(د) اسی طرح جب آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں قلم و دوات مانگی تاکہ انہیں کوئی ایسی چیز لکھ کر دیں کہ بعد میں وہ گمراہ  نہ  ہوں تو ان موجود ہ اصحاب  میں سے کسی نے کہا کہ اس شخص پر بیماری کا غلبہ ہو چکا ہے۔حسبنا کتاب اللہ ۔ہمارے لیے کتاب خدا کافی ہے  تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا ’’ قوموا عنی ‘‘ میرے پاس سے چلے جاؤ۔[6] مزید تفصیلات کے لیے صحیح  بخاری1/99 کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ  کئی مرتبہ رسول ﷺ کی کئی  او امر میں  پہلے بھی  مخالفت ہو چکی تھی تو پھر ایک ایسے مسئلہ میں جس کے قبول کر نے کےلیے  خواہش نفس کی بہت زیادہ مخالفت کی ضرورت تھی ایسے منفعت بخش امر میں رسول اللہﷺ کے حکم کی مخالفت کرنا کوئی ناممکن چیز نہیں تھی۔

۵۔ دراصل ا س مسئلہ میں نافرمانی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ اس میں علی ؑ کو حاکم اور خلیفہ کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور حضرت علیؑ نے اکثراصحاب کےقریبی ترین رشتہ داروں کو اسلامی جنگوں میں قتل کیا تھا جس وجہ سے ان کےدلوں میں آپ کے لیے بغض و عناد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور مزید یہ کہ آپ ؑ عدل و انصاف میں انتہائی سخت تھے جس وجہ سے بہت سارے دل آپ کی طرف میلان نہیں رکھتے تھے اورعلاوہ ازیں عرب کی تاریخ اس بات پرگواہ ہے کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کی حکومت کو گوارا نہیں کرتا تھا۔اسی لیےعرب میں کوئی حکومت قائم نہیں رہی  ہے۔

لہذااب اسلام آنے کے بعد  مسلما ن قبیلوں کو رسول اللہ ﷺ  جو بنی ہاشم میں سے تھے کی حکومت کو دل سے یا زبردستی  قبول کرنا پڑی لیکن آپﷺ  کے بعد  بنی ہاشم کےکسی دوسرے فرد کی حکمرانی قبول کرنا ان کے لیے انتہائی دشوار تھا لہذا اقتدار و منصب کے لالچ میں کچھ افراد نے تمام حدوں کو تجاوز کرتے ہوئے اسے حاصل کر لیا ۔

6۔ اور ان تمام باتوں سے یہ لازم نہیں آتا کہ رسول اسلامﷺ کے انداز تربیت میں کوئی کمی تھی بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کچھ انسان اتنے کمزور نفس اور کمزور ارادے کے مالک تھے  کہ ایسے عظیم مربی کی تربیت میں رہ کر بھی دنیا کی محبت اور خواہشِ نفس پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے جیسا کہ جناب موسیٰؑ بھی اولوالعزم نبی تھے اور ان کی تربیت میں بھی کوئی کمی نہیں تھی یا اسی طرح جناب نوح ؑ کا بیٹا بھی گمراہ ہوگیا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذاللہ جناب نوح ؑ کی تربیت میں کوئی کمی تھی۔

سوال نمبر ۶ : اس بات سے ایک اور سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اگر خلافت علی ؑ کا الہی حق تھا تو پھر وہ خود اس پر کیوں خاموش رہے اوراس خلافت کے غاصبوں کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا ؟اور کیا آپ ا ن کی حکومت پہ راضی تھے۔

جواب : یہ بات بالکل  غلط ہے کہ حضرت علی ؑ خاموش رہے تھے بلکہ آپ نے کئی جگہوں پر اپنے حق کے غصب ہونےکا اظہار کیا ہے۔کتب تاریخ میں اس کا ذکر موجود ہے کہ انکا خلیفہ اول کی بیعت سے انکار کر دینا یہ آپ کا ان کے خلاف ایک احتجاج تھا اوراس بیعت سے انکار کی وجہ سے وہ آگ اور لکڑیاں لے کر آپ کے دروازہ پر آگئےتھے اور آپؑ   کے  گلے میں رسی ڈال کرآپ کو زبردستی دربار لے جایا گیا تھا اور آپؑ کے دفاع میں نہ صرف دختر نبی سیدۃ نساء العالمین فاطمۃ الزھراء  علیھا السلام زخمی ہو ئیں تھیں بلکہ بطن مادر میں جناب محسن ؑ بھی شھید ہوگئے تھے۔[7]

تفصیلات کے لیے مراجعہ کر سکتے ہیں ۔انساب الاشراف بلاذری کی1/586۔المصنف  ابن شبیہ کی  7/592۔

البتہ آپ نے کبھی  اپنا حق چھننے کی وجہ سے  ان سے جنگ نہیں کی کیوں کہ اس طرح جنگ کرنے سے اسلام کو خطرہ لاحق تھا جو لوگ ابھی تازہ اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ سبھی یہ سمجھتے کہ اسلا م کوئی حقیقت نہیں بلکہ دنیا داری ہے  اسی وجہ سے نبی کے بعد ان کے ساتھیوں میں کرسی پہ لڑائی ہو رہی ہے لہذا اس موقع پر آپؑ نے بقاء  اسلام کی خاطر اپنے حق کے غصب ہونے پر صبر کیا ۔مزید تفصیل کے لیے رجوع کریں نہج البلاغہ کا خطبہ نمبر ۳ ۔جو کہ خطبہ شقشقیہ کے نام سے معروف ہے۔[8]

دواہم اعتراض اور ان کے جواب :

پہلا اعتراض:  اہل سنت  شیعہ حضرات پر  یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ  اصحاب رسول ﷺ سے محبت نہیں کرتے  بلکہ ان سے بغض رکھتے ہیں ؟ حالانکہ اصحاب رسول ﷺ کے مسلمانوں پر بہت زیادہ احسانات ہیں اور قرآن میں کئی

مقامات پر انکی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔

جواب:یہ بات سراسر غلط ہے کہ شیعہ تمام صحابہ نبی ﷺ کے دشمن ہیں  اور انہیں قابل ملامت سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف اورصرف ان اصحاب سے محبت نہیں کرتے  جو رسول اللہ ﷺ کی رحلت  کے بعد انکی  تعلیمات سے منحرف ہو گئے  تھے اور اہل بیتؑ کے حق میں جنہوں نے ظلم کیا ہے ۔ جبکہ قرآن مجید اہل بیت  رسول ﷺ سے مودت کا حکم دے رہا ہے ورنہ ان کے علاوہ  اصحاب رسول ﷺ سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا ہم اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر وہ صحابہ جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں جنگوں میں شہید ہو گئے  یا اطاعت رسول  پر ثابت قدم رہتےہوئے انہیں موت آگئی یا وہ صحابہ جو رسول اللہ ﷺ کی رحلت  کے بعد بھی ان کے حکم پر ثابت قدم رہے بلکہ حتی وہ صحابہ بھی کہ ابتداء  میں جن کے قدم پھسلے لیکن پھر وصیت رسول اللہﷺ کی طرف لوٹ آئے ہم ان سب کا احترم کرتے ہیں۔

دوسرا اعتراض :

ایسی بحثیں چھیڑنے سے مسلمانوں میں فرقہ واریت اور فتنہ برپاہوتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنا مشکل ہو جاتا ہے پھر تیسری طاقت جو دشمن اسلام ہے وہ ایسے ماحول سے فائدہ اٹھا کر اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر ایسی بحثیں چھیڑنے کا کیا فائدہ ہے کیا ان پر خاموش رہنا بہتر نہیں ہے تا کہ سب مسلمان اکٹھے زندگی بسر کر سکیں۔

جواب : ایسی بحث ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کا تعلق عقیدہ سے ہے اور عقیدہ صحیح  نہ ہو تو کوئی عمل بھی فائدہ نہیں دے گااور انسان کا مقدر جہنم ہو گا  یعنی اس عقیدہ کے بغیر عقیدہ تو حید و نبوت بھی سود مند نہیں ہو گا۔

لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس انداز میں بات کی جائے کہ جس سےدیگرمذاہب کی دل آزاری ہو اور فتنہ و فساد برپا ہو جائے بلکہ صرف احسن طریقے سے ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے ،گالی گلوچ سے اجتناب کرتے ہوئے  حقیقت  سے اس طرح پردہ اٹھا یا جائے کہ طرف آخر بھی مشتعل ہوئے بغیر سوچنے پر مجبور ہو جائے  اور یہ حق کی طرف  دعوت ہے ۔اگر مسئلہ صرف اس حد تک ہو تو کوئی افتراق پیدا نہیں ہوگا اور سب مسلمان ایک ساتھ جی سکتے ہیں۔

چونکہ سب مسلمانوں کا خدا ،نبی ؐ اور کتاب ایک ہے اس پر سب جمع ہو سکتے ہیں اور ہر کوئی اپنی جگہ پر اپنے خاص عقیدہ کی حفاظت کرتا رہے  اور اسے حق ہے کہ وہ اسے اپنی نسلوں تک پہنچاتا رہے کیوں کہ وہ اسے حق سمجھتا ہے اس میں کوئی لڑنے مرنے والی بات نہیں ہے۔

سوال نمبر ۷:کیا مذہب شیعہ کا دیگر اسلامی مذاہب کے ساتھ صرف مسئلہ امامت  میں ہی اختلاف ہے یا اسکے علاوہ  کچھ اور مسائل  بھی ہیں جن میں اختلاف پایا جاتا ہے؟

جواب: ویسے تو بہت سارے مسائل  ہیں کہ جن میں اختلاف پایا جاتا ہے جیسے نکاح یا طلاق کے مسائل  یادو  نمازوں کو  ملا کر پڑھنے یا  ہاتھ باندھنےپر یا نکاح متعہ کے مسئلہ پر لیکن  بنیادی اختلاف عقیدہ امامت میں ہے اگر یہ حل ہو جائے توباقی تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے کیونکہ جس نے آئمہ اہل بیت ؑ کو اپنا امام مان لیا تو پھر وہ ان کا ہر  حکم مان لے گا ۔

لہذا دوسرے مسائل میں بحث کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہےلہذا جب کسی مذہب والے سے گفتگو یا بحث ہو تو مسئلہ امامت کو موضوع ِکلام قرار دیا جائے۔باقی مسائل خود  ہی حل ہو جائیں گے۔

سوال نمبر ۸ : اگر ہم یہ مان لیں کہ رسول اللہﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے منتخب خلیفہ علی ؑ تھے مگر اس بات پر کیا دلیل ہےکہ ان کے بعد ان کی ذریت میں سے گیارہ (۱۱)امام بھی منجانب اللہ خلفاء ِ رسول ﷺ ہیں؟

جواب : ہم نے گزشتہ ابواب میں واضح کر دیا تھا  کہ اسلام قیامت تک باقی رہنے والا مذہب ہے اور یہ بھی بیان کیا تھا کہ ہر زمانے میں امام کا ہونا ضروری ہے تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ کون ہیں جو امامت کے اصلی حقدار اور اہل تھے اور اب بھی ہیں۔اور یہ بات دلیل سے ثابت ہونی چاہیے لہذا اس بات پرہمارے پاس بہت سے ایسے دلائل ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ منصب امامت کے اصل حقدار  آئمہ اہل بیتؑ ہی ہیں۔جن کے نام تفصیل سے ذکر ہو چکے ہیں۔ہم ان میں سے چند دلیلوں کو ذکر کررہے ہیں۔

۱۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ نبی یا پہلے والے امام بعد میں آنے والے امام کی امامت کی گواہی دے دیں تو وہ یقینی امام ہے اور یہ بات ہمارے آئمہ ؑمیں پائی جاتی ہے۔جیسا کہ امیرالمومنینؑ نے حضرت امام حسنؑ کا اعلان فرمایا تھا اورحضرت امام حسن ؑ نے حضرت امام حسین ؑ کو وصیت کی تھی اورانہوں نےحضرت امام زین العابدین ؑ کو اسی طرح سے ہر امام اپنے بعد آنے والے امام کا تعیّن کرتا رہا ہے اور لوگوں کو اس کی امامت سے باخبر کرتا رہا ہے اور آخر پہ حضرت  امام حسن عسکری ؑ نے حضرت امام مہدیؑ کے امام ہونے کی خبر دی تھی ۔اس طریقے سے ان کی امامت میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ہے ۔

۲۔رسول اسلام ﷺ سے ایک حدیث منقول ہے جواہل سنت کی کتابوں میں بھی بکثرت  پائی جاتی ہے آپﷺ نے فرمایا۔’’ اسلام  اس وقت تک سر بلند رہے گا جب تک میرے بعد  میرے بارہ خلفاء (امیر) رہیں گے اور پھر فرمایاکہ  وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے‘‘

حوالہ کے لیے رجوع کرسکتے ہیں  صحیح بخاری 9/100 ۔ سنن الترمذی 8/163۔مستدرک نیشاپوری 3/716۔

یہ بات ہمارے آئمہؑ کے علاوہ کسی اور  پر منطبق نہیں ہوتی اور انکے علاوہ کوئی ایسی شخصیات نہیں ہیں کہ جن کے خلیفہ یا امیر ہونے کا دعویٰ کیاگیا ہواور وہ سب کے سب قریش سے ہوں اور ان کی تعداد بارہ ہو اور وہ اصلاح امت اور سربلندی اسلام کا موجب بنیں۔یہ حدیث نہ توپہلے چار خلفاء پر صادق  آتی ہیں کیوں کہ ان کا عدد چار ہے اور نہ  بنی امیہ اور بنی عباس کے خلفاء پر پوری اترتی ہے۔کیوں کہ وہ زیادہ تھے۔ بنی امیہ میں یزید جیسے اور بنی عباس میں ہارون جیسے فاسق و ظالم حکمران بھی پائے جاتے تھے بلکہ ان میں سے کوئی بھی ظلم  کرنے سے باز   نہیں آیا۔لہذا یقیناً رسول اللہﷺ نے نہ انہیں اپنا جانشین کہا ہے اور نہ ہی وہ سربلندی اسلام کا موجب بنے ہیں۔

۳۔ امام کو اس کےاوصاف اور کرامات سے بھی پہچانا جاتا ہے ہمارا ہر امام اپنے زمانے کی معروف شخصیت ہوتا  ہے جس کے فضائل و کمالات کی دشمن بھی تعریفیں کرتا ہے  اور ہر امام سےاپنے اپنے زمانے میں بے شمار کرامات ظاہر ہوئی ہیں۔اور یہ ان کی امامت کی  پختہ دلیل ہے ۔

لہذا ان کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنے والا بخوبی اس بات سے آگاہ  ہو سکتا ہے۔

۴۔ایک سنی عالم دین شیخ سلیمان قندوزی نے اپنی کتاب  ینابیع المودۃ ۔ص 441 پر رسول اسلام ﷺ سے ایسی متعدد احادیث نقل کی ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے بارہ آئمہؑ کے نام پوری تفصیل سے ذکر کیے ہیں اور ہماری کتابوں میں تو بے شمارایسی روایات موجود ہیں ۔جیسا کہ کتاب بحارالانوار ج/36/ص /226کی طرف مراجعہ کی جا سکتا ہے ۔

۵۔ تمام مسلمانوں کی کتابوں میں یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ’’من مات بغیر امام مات میتۃ جاھلیۃ‘‘ (جو بھی امام کی (معرفت ) کے بغیر مرجائےاس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہوگی۔یہ حدیث واضح طور پر بتا رہی ہے کہ ہر دور میں ایک ایسا امام ہوگا جس کی معرفت کے بغیر انسان حقیقی طور پر مسلمان نہیں بن سکتا۔اب ہمارے آئمہؑ کے علاوہ کون ہے جو ہر دور میں ہو اور ان کی معرفت  بھی اس قدر ضروری ہو۔

کیا وہی ظالم و جابر حکمران کہ جنہوں نے غریبوں اور  مسکینوں کا خون چوسنا اپنی غذا ء قرار دیا تھا ۔یا شراب کے نشے میں مست رہنا جن کا شعار ووتیرہ  تھا ،یا بیت المال کے مال سے  جواکھیلنا جن کا محبوب مشغلہ تھا اگر انہی کی معرفت مراد ہے تو پھر ایسے اسلام پر سلام ہے ۔

۶۔ رسول اسلام ﷺ سےچند ایسی معتبر  احادیث نقل ہوئی  ہیں جن سے یہ  ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی امت کی باگ ڈور ہمیشہ کے لئے اپنی اہل بیت ؑکے ہاتھ میں دے کر گئے تھے ان میں سے چند حدیثوں کو پیش کیا جا رہا ہے ۔

پہلی حدیث : حدیث ثقلین  جس کا تذکرہ ہو چکا ہے کہ اس میں آپﷺ  پوری امت کو قرآن اور اپنی عترت (اہل بیت ؑ)سے متمسک رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں۔اس کا معنی یہ ہے کہ اسلامی معاشرے کی قیادت  صرف اہل بیت ؑ میں سے ہی کوئی فرد کرے گا اور اس کا قانون قرآن کے آئینہ میں مرتب و معین ہو گا اور قانون قرآن کا نافذ ہوگا اور اس حدیث کے ذریعے سے رسول اللہ یہ پیغام بھی دینا چاہتے تھے کہ جس طرح قرآن ہر زمانے میں موجود رہے گا اسی طرح  ہر زمانے میں خاندان اہل بیتؑ  کا بھی کوئی نہ کوئی فرد ضرور موجود رہے گا ۔

دوسری حدیث :حدیث سفینہ۔اللہ کے رسول نے اپنی اہل بیتؑ کو کشتی نوحؑ سے تشبیہ  دی ہے کہ جو اس میں سوار ہو جائے گا وہ نجات پا لے گا ورنہ غرق ہو جائے گا ۔ارشاد فرمایا۔’’ مَثَلُ‏ أَهْلِ‏ بَيْتِي‏ فِيكُمْ‏ كَمِثْلِ‏ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ.‘‘

’’میری اہل بیت کی تمہارے درمیان وہی مثال ہے جو قوم نوح کے درمیان کشتی نوح کی تھی۔جو اس میں سوار ہوا  اس نے نجات پا لی اور جس نے اس سے منہ موڑ لیا وہ غرق ہو گیا ‘‘ مستدرک نیشاپوری 2/158۔ خصائص کبری سیوطی 2/266۔

یہ حدیث بھی واضح طوریہ اعلان کر رہی ہے کہ پوری امت اہل بیت رسول ﷺ کے پیچھے چلے اور ان کے حکم کی اطاعت کرے ورنہ ہلاکت  ان کا مقدر ہوگی ۔

تیسری حدیث: حدیث  الأمان۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔’’ أَهْلُ‏ بَيْتِي‏ أَمَانٌ‏ لِأَهْلِ‏ الْأَرْض‏‘

’’میری اہل بیتؑ  اہل زمین کے لیے اسی طرح  باعث امان ہیں جس طرح ستارے آسمان والوں کے لیے باعث امان ہیں۔‘‘مستدرک نیشاپوری 3/149۔

 اور یقیناً اہل بیتؑ اسی وقت باعث امان ہو سکتے ہیں جب ان کی بات مانی جائے  اورہر حکم ان سے لیا جائے وگرنہ ان پر مظالم کیے جائیں اوران کا حق غصب کیا جائے تو پھر کیسے وہ باعث امان ہوں گے۔

ان مذکورہ دلیلوں کے بعد اہل بیت رسولﷺ کی امامت میں شک  باقی نہیں رہنا چاہیے اور یہ احادیث ساتھ اس بات پر بھی دلالت کررہی ہیں کہ ہر دور میں اہل بیت رسول ﷺ کاکوئی نہ کوئی ایسا فرد موجودہوگا جو امت کی امامت اور قیادت کا اہل ہوگا۔اور ساتھ یہ بات بھی ان احادیث سے ثابت ہوتی ہے کہ اہل بیت رسول  اللہ ﷺ کے یہ افراد ہر قسم کے گناہ اور خطاء سے معصوم ہیں کیوں کہ اگر وہ (معاذاللہ)خود گناہ کرتے تو پھر بھلا وہ کیسے دوسروں کے لیے کشتی نجات قرار پائیں  گےیا ہلاکت سے امان اور  قرآن کے ہم پلہ ہوں گے۔

 

 


[1] آپ ذرا اپنی عقل سے پوچھیے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اتنے بڑے مسئلے کے بارے میں کوئی رہنمائی فرما کر نہ گئے ہوں؟

[2] کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے پہلے ان الفاظ میں مبارک باد دینے والا کون تھا؟

[3] یہاں پر مناسب ہے کہ استاد صاحب امام علی علیہ السلام سے صادر ہونے والی کچھ کرامات کو بچوں کے لیے بیان کرے۔

[4] یہ اعتراض کرنے والوں میں سے کسی صحابی کا نام آپ جانتے ہیں؟

[5] رسول اللہ ﷺ کا لشکر اسامہ میں شامل ہونے کی اس قدر تاکید کرنے کے باوجود بعض  صحابہ کیوں نہیں جا رہے تھے  ۔کیا آپ اس کی وجہ بتا سکتے ہیں؟

[6] کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ جملہ کس صحابی نے کہا اور وہ قلم دوات کیوں نہیں دینا چاہتے تھے؟

[7] جناب سیدہؑ پر جو ظلم ہوئے اس کا اصل سبب کیاتھا؟

[8] یہاں بہت مناسب ہے استاد  بچوں کو نہج البلاغہ کاتعارف کروائے اور انہیں خطبہ نمبر3 ترجمہ کے ساتھ سنائے۔