آٹھواں باب

حضرت امام مہدیؑ

 

سوال نمبر 1: گزشتہ کلام سے یہ  ثابت ہو گیا ہے کہ موجودہ زمانے میں بھی امام کا ہونا ضروری ہے اور وہ  فی الوقت ہمارے درمیان موجود ہیں اور آپ ؑ  ذریت رسول ﷺ اور امام حسن عسکریؑ  کی اولا د  میں سے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ چونکہ وہ ہمارے زمانے کے امام ہیں لہذا یہ بھی ضروری ہے کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ اس وقت  وہ کہاں رہتے ہیں؟ اور کیا ان سے ملاقات ممکن ہے؟

جواب: ہمارے زمانے کے امام جو امام عصرؑیا امام مھدیؑ  یا حجت خداکے القاب سے معرو ف ہیں  اور جن کا نام ۔م۔ح۔م۔د کے حروف سے مرکب ہے اور کنیت ابوالقاسم ہے ۲۵۵ھ کو سامرہ میں ۱۵ شعبان کی رات امام حسن عسکری ؑ کے گھر جناب نرجس ؑ کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے اگرچہ وقت کے عباسی خلیفہ معتمد نے امام حسن عسکر ی ؑ کے ہاں پیدا ہونے والے ہرمولود پر جاسوس معین کیےہوئے تھے کیونکہ وہ بارہا یہ سن چکے تھے کہ جو ذات  ظالم حکومتوں کے تخت الٹے گی وہ گیارہویں امام کے صلب سے ہوگا لیکن اللہ تعالی نے جناب موسیٰؑ  کی طرح آپؑ کی ولادت کو بھی مخفی رکھا اور بعد از ولادت بھی  آپ عام نگاہوں سے اوجھل رہتے تھے صرف خاص افراد ہی آپ کی زیارت سے مشرف ہوتے تھے ابھی ۵ سال عمر مبارک ہوئی تھی کہ آپ کے والد بزرگوارکو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔آپ  نے  ۲۶۰ ھ سے منصب امامت کو سنبھالا اور اکثر وبیشتر صرف خاص لوگوں سے ہی آپ کی ملاقات ہوتی تھی آپ کا ایک خاص نائب اور سفیر ہوتا تھا جس تک لوگ اپنی حاجات اور مسائل پہنچاتے تھے اور اسی کے ذریعے امام ؑسے ان کا جواب  حاصل کیاکرتے تھے ۔یہ سلسلہ تقریباً۶۹ سال تک جاری رہاجسے غیبت صغری ٰ کہا جاتا ہے۔۳۲۹ ھ میں آپؑ نےاپنے آخری اور چوتھے سفیر کو خط لکھا کہ وہ ۶ دن بعد فوت ہو جائیں گے اور اس کے بعد ہمارا کوئی سفیر یا نائب خاص نہیں ہو گا چونکہ اب غیبت کبری ٰ واقع ہو رہی ہےلہذا  اب جو مشاہدے[1]  کا دعوی ٰ کر ے تو اسے جھٹلا یا جائے ۔اس کے بعد آپؑ عام و خاص سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

سوال نمبر2: امام ؑ  کی غیبت سے کیا مراد ہے یعنی کیا وہ کسی اور دنیا یا آسمانوں میں زندگی بسر کرتے ہیں یا اسی دنیا میں مگر ہمیں نظر نہیں آتے ؟

جواب : بہت ساری روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امام ؑ غائب ہونے کے باوجود  لوگوں کے درمیان  رہتے ہیں اور حج کے موسم میں لوگوں کے درمیان رہ کر حج ادا کرتے ہیں بنابرایں اس کا معنی یہ ہوا کہ امام ؑ اسی دنیا میں رہتے ہیں لیکن لوگ انہیں پہچانتے نہیں ہیں جیسے یوسف ؑ لوگوں کے درمیان  رہتے تھےلیکن لوگ انہیں جانتےنہیں تھےکہ یہ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنے کسی ولی کی لوگوں کو پہچان نہ ہونے دے جبکہ وہ انہیں کے درمیان موجود ہو۔

سوال نمبر 3 : زمانہ غیبت صغری ٰ میں  جو سفراء اور نواب تھے ان کے نام کیا ہیں ؟

جواب: ۱۔عثمان بن سعید عمری  = زمانہ سفارت ۲۶۰ ھ سے ۲۸۰ ھ تک۔

۲۔ محمد بن عثمان عمری=زمانہ سفارت ۲۸۰ ھ سے ۳۰۵ ھ تک ۔

۳۔ حسین بن روح نو بختی=زمانہ سفارت ۳۰۵ ھ سے ۳۲۶ ھ تک۔

۴۔ علی بن محمد سمری = زمانہ سفارت ۳۲۶ ھ سے ۳۲۹ ھ تک ۔

سوال نمبر 4: کیا امامؑ کی غیبت اچانک واقع ہوئی ہے یا پہلےسے ہی  اس بارے  متعدد مرتبہ خبر دی جا چکی تھی ؟

جواب : آخری امام ؑکی غیبت کا تذکرہ اللہ کے رسول سے لے کر گیارہویں امام تک تقریباً تمام معصومین نے فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ و ہ پردہ غیبت میں ہونگے اور اتنی طولانی غیبت ہوگی کہ بہت سارے افراد آپ ؑکے وجود کے بارے میں شک میں پڑجائیں گے  اور یہاں تک کہہ دیں گے کہ معاذاللہ آپ کہیں چلے گئے ہیں یا ھلاک ہو چکے ہیں۔

سوال نمبر 5:کیا غیبت صرف بارہویں  امامؑ کے لیے واقع ہوئی ہے یا اس سے پہلے بھی کسی نبی یا امام  کی غیبت ہوچکی ہے؟

جواب: اللہ تعالی ٰاپنی مصلحت اور حکمت کے پیش نظر اپنے اولیاء میں سے کسی کو کچھ عرصے کے لیے نگاہوں سے اوجھل رکھتا ہے ۔مثال کے طور پر حضرت عیسی ؑ کو آسمانوں پر اٹھا کر لوگوں کی نظروں سے غائب کر دیا جناب خضرؑ اس دنیا میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں جیسا کہ قرآن مجید نے جناب موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کی ملاقا ت کا ذکر کیا ہے بعض روایات کے مطابق جناب ادریسؑ بھی زندہ ہیں اور  آسمان پر اٹھا لیے گئے ،اسی طرح جناب یونسؑ بھی  کچھ عرصہ کےلیے مچھلی کے پیٹ میں لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہےتھے ۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ کسی ولی خدا کا غیبت میں رہنا ایک الہیٰ سنت ہے ۔

سوال نمبر 6:ایک ایسی شخصیت کے متعلق عقید رکھنا  جو ابھی غائب ہو اور بعد میں ظاہر ہو کر امامت اور قیادت کے فرائض انجام دے گی۔کیا یہ عقیدہ مسلک امامیہ سے مخصوص ہے یا دوسرے مذاہب میں بھی اس کا تصور پایا جاتا ہے ؟

جواب :ایک ایسی شخصیت جو انسانیت کو ظلم سے نجات دلا کر اسے عروج وکمال تک لے جائے گی اور دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کر ے گی  اس کے بارے میں ایسا عقیدہ تمام مذاہب و ادیان میں پایا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری چیز ہےاور فطرت انسان کہتی ہے کہ ایک دن اس دنیا میں ایسا آئے گا کہ جب ظلم ختم ہوگا،مظلوم کی فریاد رسی ہوگی اور معاشرے میں امن وامان قائم ہوگا ۔

مسلمانوں میں اہل سنت بھی اس بات پر اتفاق رکھتے  ہیں کہ آخری زمانے میں ایک مہدی آئے گا جو عادلانہ حکومت قائم کرے گا اور اس کی حکومت میں اسلام سر بلند ہو گا اور دوسرے مذاہب سرنگوں ہوں گے۔لیکن وہ شخصیت کون ہے اس کی تشخیص ہر مذہب والے اپنے  عقیدے و مذہب کے مطابق کرتے ہیں تمام شیعہ اور اہل سنت میں سے کچھ اہل تحقیق اس نظریہ کے قائل ہیں کہ وہ شخصیت امام حسن عسکری ؑ کے فرزند ہیں جو پردہ غیب میں  ہیں جبکہ اکثرعلماءِ اہل سنت کہتے ہیں کہ وہ ابھی تک پیدا نہیں ہوئے بلکہ بعد میں پیدا ہوں گے۔عیسائی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ وہ شخصیت حضرت عیسیٰ ؑ ہیں ۔زرشت کا عقیدہ ہے کہ وہ ہستی ایردان ہے جس کے ذریعے کائنات سعادت حاصل کرے گی۔ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ وہ انسان خدا کو دوست رکھتا ہو گا اور خدا کے خاص بندوں میں سے ہو گا ۔وہ فرشتوں پریوں اور انسانوں سب کا رہبر ہوگا ۔وہ سمندروں ،پہاڑوں ،زمینوں میں موجودہ تمام پوشیدہ اشیاء کو حاصل کرے گا حتی کہ چین کی پرانی کتابوں ،قدیم مصریوں کی کتابوں وغیرہ میں بھی ایک مصلح اعظم کا عقیدہ موجود ہے لہذا یہ کہنا صحیح ہے کہ ایک نجات دہندہ بشریت کے بارے میں عقیدہ، ایک عالمی عقیدہ ہے  لیکن صرف خصوصیات میں فرق ہے کہ وہ کون ہے اور  وہ پیدا ہو چکے ہیں یا بعد میں پیدا ہو نگے؟۔

سوال نمبر7:کیا ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے امام ؑ کیوں غائب ہیں اور اسکے کیا اسباب ہیں؟

جواب: غیبت امام ؑ الہیٰ رازوں میں سے ایک راز ہے اور چونکہ ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں مصلحت پائی جاتی ہے تو پھر غیبت امامؑ بھی یقیناً مصلحت سے خالی نہیں ہے چاہے ہم اسے جان سکیں یا نہیں۔

بعض روایات میں غیبت امام ؑ کے کچھ اسباب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے  اور وہ یہ کہ امام ؑ اس لیے غائب ہوئے تاکہ جب ظہور فرمائیں تو ان کی گردن پر کسی دنیاوی حکمران کی بیعت نہ ہو اور بعض احادیث میں ہے کہ قتل کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے انہیں پردہ غیبت میں بھیج دیا ۔لیکن یقیناً غیبت کے اور بھی کئی اسباب ہوں گے جو ان کے ظہور پر نور کے بعد ظاہر ہونگے  جیسے خضر ؑ کے کاموں کی حکمت اور مصلحت ،موسیٰ ؑ کے لیے ان سے جدائی کے وقت ظاہر ہوئی تھی۔

سوال نمبر 8 : ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ پید اہو چکے ہیں نہ کہ بعد میں پیدا ہوں گے؟

جواب : ہمارے پاس بہت ساری قطعی دلیلیں ہیں ان میں سے چنددلائل کو ذکر کررہے ہیں۔

۱: وہ احادیث  جن میں تفصیل سے تمام آئمہؑ کے نام ذکر ہوئے ہیں  ان میں بارہواں نام امام مہدی بن حسن عسکریؑ کابھی ہے۔

۲۔ہمارے پاس ۱۰۰ سے زیادہ ایسی احادیث موجود ہیں جن میں یہ ذکر ہوا ہے کہ امام مہدی ؑامام حسین ؑکی نسل مبارک سے نویں (۹)نمبر پر ہوں گے

۳۔اسی طرح دسیوں احادیث میں ملتا ہے کہ امام علی ؑابن الحسینؑ کی نسل سے آٹھویں فرد  امام مہدی علیہ السلام ہیں ۔

۴۔۱۰۰ سے بھی زیادہ احادیث میں موجودہے کہ امام مہدی ؑ امام حسن عسکری کے ہی بیٹے ہیں۔

۵۔ ۲۰۰ کے لگ بھگ روایات آپ کی ولادت کو ذکر کر رہی ہیں اور بہت سارے ماہرین انساب  نے اپنی نسب کی کتابوں میں امام مہدیؑ کی امام حسن عسکر یؑ کے ہاں ولادت کا ذکر کیا ہے۔ان احادیث کی تفصیل کتاب منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

۶۔ بے شمار احادیث میں ان کی غیبت کا تذکرہ موجود ہے اور غیبت تب ہی متصور کی جا سکتی ہے جب انکی پہلے سے ولادت کو تسلیم کیا جائے۔

۷۔ وہ سب روایات جن میں مخصوص افراداور نواب اربعہ کے ساتھ آپ ؑ کی ملاقاتوں کا ذکر ہے وہ بھی آپؑ  کی ولادت کی گواہی دیتی ہیں۔

سوال نمبر 9:یہاں پر ایک اور سوال  ذہن میں آتا ہے اور وہ یہ کہ امام ؑجب غائب ہیں تو ایسے امامؑ کا لوگوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور ایسے امام کی ضرورت کیا ہے کہ جو نظروںہی سے اوجھل ہو ؟

جواب : حقیقت میں کسی امام کو غائب رکھنااور پھر اسے ظاہر کرنا یہ اللہ تعالیٰ  کا کام ہے  اور اللہ تعالیٰ کا کوئی کام بھی حکمت اور فائدے سے خالی نہیں ہوتا ہے چاہے ہم اس کی حکمت کو درک کریں  یا اس کا کماحقہ ادراک نہ ہو پائےاور اب جب کہ یہ بات قوی اور مستند دلیلوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ وقت کے امام غائب ہیں اور بحکم خدا ظاہر ہوں گے تو پھر ان پر ایمان رکھنا ہم پر واجب ہے۔اس کے علاوہ کئی ایک  فوائدبھی  ہیں کہ جن کو  ذیل میں ذکر کیا جارہا ہے ۔

۱۔ امام ؑکا صرف وجود ہی اس دنیا کے لیے ایک رحمت ہے اور  اسی امام ؑکے مقدس وجود کی وجہ سے یہ دنیا عذاب خدا سے محفوظ ہے ۔معتبر احادیث میں ملتا ہے کہ اگر زمین حجت خدا سے خالی ہو جائے تو یہ تباہ و برباد ہو جائیگی اس کے علاوہ آج ساری کائنات تمام نعمتوں اور آسائشوں کو آپ کے وجود مبارک ہی کی بنا پر حاصل کر رہے ہیں۔

۲۔جب مؤمنین یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے امام موجود ہیں اور ہمارے اعمال پر مطلع ہیں اور بعد از ظہور وہ صرف نیک لوگوں کو اپنا قرب عطا کریں گے   تو کئی  لو گ اسی احساس کی بنیاد پر گناہوں سے بچ جائیں گے  یا انجام دیے  ہوئے گناہوں سے توبہ کر لیں گے  اسی طرح مشکلات اور مسائل میں پھنسے ہوئے مؤمنین جب یہ تصور  کرتے ہیں کہ ہمارے وارث ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ہمارے دردوں کا مداوا کرنے والی ہستی موجود ہے تو اس قسم کے تصورات سے  انہیں راحت پہنچتی ہے اور وہ صبر سے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ۔

۴۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں زمانے کے امام کے توسط سے راہ حق کی ہدایت ہوتی ہے بلکہ وہ تو ایسا نور ہیں جن کے توسل سے ہر کوئی راہ خدا کی  تلاش کر سکتا ہے ۔اسی لیے چھٹے امام ؑسے جب یہ پوچھا گیا کہ امامؑ اگر غائب ہو تو ایسے امام کے وجود سے لوگ کس طرح   فائدہ حاصل کریں گے ؟ تو امام ؑنے فرمایا جس طرح لوگ آفتاب سے فائدہ حاصل کرتے ہیں جبکہ وہ بادل کے پیچھے چلا جائے۔

۵۔ امامؑ کی شفقت اور ان کی دعا سے اللہ  نہ جانے کتنے  مؤمنین سے ان کی  بڑی بڑی مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے ایک روایت میں امامؑ خود ہی فرماتے ہیں  کہ اگر ہمارے شیعوں کے لیے ہماری دعائیں نہ ہوتیں تو دشمن انہیں اپنا نوالہ بنا لیتے۔ اس کے علاہ بھی کئی فوائد ہیں جو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں

سوال نمبر 10: امامؑ کی ولادت ۲۵۵ ھ کو واقع ہوئی اور اب ۱۴۳۷ ھ ہے  تو اس طرح آپکی عمر ا ب تک ۱۱۸۲ سال ہوتی  ہے تو یہاں یہ سوال  پیدا ہو سکتا ہے کہ کیسے ایک انسان اتنے لمبے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ  لمبی عمر جنہیں ملتی ہے وہ  سو سال یا اسے کچھ زیادہ عرصہ تک زندہ رہتے ہیں؟

جواب : اس قسم کا سوال اس وقت اٹھتاہے جب انسان کو قدرت پروردگا ر میں شک ہو یعنی اللہ تعالی ٰ کیسے اپنے خاص بندے کو اتنے لمبے  عرصہ کے لیے زندہ رکھ سکتا ہے جبکہ قادر مطلق کے لیے یہ کام  ایک معمولی امر ہے۔

جیسے حضرت عیسیٰ ؑ اور خضر ؑ کو ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے ۔جناب نو ح ؑ کو بعض روایات  کے مطابق ۲۵۰۰ سال زندگی عطاء کی تھی بلکہ اس ذات نے تو اپنے بعض دشمنوں کو بھی لمبی زندگی عطاء کی ہے۔جیسا کہ شیطان  جو کہ آدمؑ سے بھی پہلے سے موجود تھا اور ابھی تک زندہ ہے تو پھر اس میں تعجب کیا ہے کہ وہ اس آخری زمانے میں بھی کسی اپنے ولی کو طویل عمر عطاء کر ے ۔

سوال نمبر 11: کیا امامؑ کے ظہور اور انکی حکومت کا قرآن مجید میں بھی  تذکرہ موجود ہے؟

جواب : قرآن مجید میں کئی  آیات ایسی ہیں جن کا صحیح مصداق امام ؑ کی حکومت کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا ہے ہم مثال کے طور پر ایک آیت ذکر کرتے ہیں ارشاد ہوا۔

’’ وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُہَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ ‘‘ (الأنبیاء ۱۰۵ )

’’ اور بتحقیق ہم نے ذکر(تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ میرے نیک بندے پوری زمین کے وارث بنیں گے۔‘‘

ابتدائے اسلام سے ابھی تک پوری زمین کا وارث کوئی بھی نیک بندہ نہیں بنا  لیکن اسکا حقیقی مصداق   امام ؑ کے ظہور مبارک کے ساتھ متحقق ہوگا۔

مزید آیات جیسے ۔سورۃ نور ۵۵۔سورہ قصص ۵۔سورہ صف ۹۔وغیرہ بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہیں۔

سوال نمبر 12:یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پانچ سال کا بچہ امامت جیسے اتنے بڑے عہدے پر فائز ہو اور پوری ملت مسلمہ کا قائد اور لیڈر قرار پائے ۔جبکہ وہ ابھی تک حد بلوغت تک بھی نہیں پہنچا ہے؟

جواب : اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے یہ بات  ناممکن  نہیں ہے کہ وہ بچپن میں ہی کسی کو کامل بنا دے  اور دوسرے بالغ لوگوں کی بہ نسبت اسے عقل و حکمت ،علم و رشد میں افضل قرار دے جسکی وجہ سے وہ بچپن ہی میں دوسروں کی امامت کا اہل ہو جائے

قرآن مجید اس  بات پر شاہد ہے کہ پانچ سال سے بھی کم عمر بچوں کو نبوت عطا ء ہوئی  ہے حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت یحیٰ کو بچپن ہی  میں نبوت عطاء ہوئی تھی۔حضرت عیسیٰ ابھی چند دنوں  ہی کے تھے اور گہوارے  میں تھے تو آپ نے  فرمایا۔’’وَجَعَلَنِی نَبِیّا ً ‘‘ ( اور اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنایا ہے۔)ا

دراصل ایام طفولت میں اتنی صلاحیتوں اور استعداد کا پایا جانا یہ بھی ایک الہی معجزہ ہے جو اس نبی یا امام کے برحق ہونے کی تصدیق کر تا ہے۔

سوال نمبر ۱۱ :امامؑ کی غیبت کتنی طولانی ہوگی اور کیسے معلوم ہو گیا کہ اب ظہور قریب ہے ؟

جواب : بہت ساری روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیبت بہت طولانی ہو گی ۔بہت سارے لوگ جوکہ ایمان رکھتے ہیں وہ بھی اس قدر غیبت کے طویل ہونے کی وجہ سے شک میں پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ امام موجود نہیں ہیں  اگر ہوتے تو اب تک ضرور ظہور کر چکے ہوتے ۔ اس عصر غیبت میں مومنین بہت سارے سخت امتحانات سے گزریں گےاور اسی میں ان کی چھانٹی ہو گی۔صرف مخلص ایمان والے ثابت قدم رہیں گےاسی طرح زمانہ ظہور سے پہلے کچھ علامات ظاہر ہونگیں جن سے پتہ چلے گا کہ وقت ِ ظہور قریب ہے ۔

وہ علامات دوقسم کی ہیں کچھ غیر حتمی علامات ہیں یعنی جن کے ظاہر  ہونے سے ضروری و  لازمی نہیں کہ ظہور ہو جائے وہ علامتیں دور حاضر میں وقتاً   فوقتاًتھوڑی بہت ظاہر ہو رہی ہیں۔جیسے

۱۔ مسلمانوں کی آپس میں ایسی قتل و غارت  جو پہلے کبھی نہیں ہوئی ۔

۲۔زمین میں بڑے بڑے زلزلوں کا آنا۔

۳۔شام کا تباہ ہونا۔

۴۔ اقتصاد کا کمزور ہو جانا۔

۵۔ حکام کا انتہائی ظالم و جابر ہونا۔

۶۔زنا کا عام ہونا۔

۷۔سود کا رواج عام ہونا۔

۸۔بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہونا۔

۹۔ ہم جنس پرستی میں رغبت بڑھ جانا۔

اور کچھ حتمی علامات ہیں یعنی اگر ان میں سے کوئی ایک  ظاہر ہو گئی تو پھر ظہور یقینی ہو گااور وہ درج ذیل ہیں۔

۱۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان موجود مقام بیداء کا دھنس جانا۔

۲۔ مکہ میں رکن و مقام کے درمیان ایک حسنی سید نفس زکیہ کا قتل ہونا ۔

۳۔ ایک ہی مہینہ میں پندرہ سے پہلے سورج گرہن اور پندرہ کے بعد چاندگرہن کا لگنا۔

۴۔ آسمان سے آگ کا برسنا۔

۵۔ سفیانی کا لشکر کشی کرنا۔

۶۔ آسمان سے ندا ء کا بلند ہونا کہ فلاں ابن فلاں (امام اور ان کے والد کا نام لے گا) قائم آل محمد ﷺ ہے انکی بات سنو اور انکی اطاعت کرو۔یہ آواز ہر بندہ کے کانوں تک پہنچے گی۔

سوال نمبر14:  زمانہ غیبت میں ایک مومن کی امام زمانہ(عجل اللہ فرجہ الشریف)  کے حوالہ سے کیا ذمہ داری بنتی ہے ؟

جواب: ایک مومن پر عصر غیبت میں جو ذمہ داریاں عائد ہوئی ہیں ان میں سے چند کا ذکر درج ذیل ہے۔

۱۔اپنے آپ کو احکام دین کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے ان پر عمل کرنے کا اس قدر عادی بن جائےکہ اگر زمانے کے امامؑ ابھی ظہور فرما ئیں اور اپنے جد کی شریعت کو پوری طرح نافذ کریں تو پھر وہ کسی حکم پر چوں و چرا  نہ کرے  وگرنہ امامؑ کے حکم کا انکار کرنے والا انکی سزا سے نہیں بچ سکے گا۔

۲۔ ہمیشہ اپنے زمانہ کے امامؑ کو یاد رکھے اورکثرت سے  ان کی حفاظت اور طولانی عمر اور تعجیل ظہور کے لیے دعا کر ے اور انکے حفظ و امان کے لیے اگر صدقہ دے سکتا ہے توصدقہ دے  اور زمانہ ظہور کو آنکھوں سے دیکھنے کا ہمہ وقت مشتاق رہے۔

۳۔ حکومت امام ؑ کی تمہید اور راہ ہموار کرنےکے لیے دوسرے لوگوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  زیادہ  سے زیادہ کرے اور لوگوں کو امام ؑ کا تعارف کروائے۔

۴۔ ہمیشہ علماء سے متمسک رہے  اور انہیں کو اپنا پیشوا  اور رہبر سمجھے انہیں سے دین لے کیونکہ یہی راستہ ہے جو امامؑ دکھا کر گئے تھے،بعض روایات میں ہے کہ امام ؑ نے فرمایا۔

’’اما الحوادث الواقعہ فارجعوا فیھا الی رواۃ احادیثنا‘

((نئے مسائل میں ہماری حدیثوں کے نقل کرنے والے (یعنی انہیں سمجھ کے اس کاحل بیان کرنے والے) علماء کی طرف رجوع کرنا) کیونکہ اگر علماء سے رابطہ نہ رہا تو جہالتیں کیسے دو ر ہوں گی اور ہو سکتا ہے کہ انسان گمراہی ،غلط افکار،غیر شرعی رسم ورواج ہی کو دین سمجھ بیٹھے۔

سوال نمبر 15: امام ؑ کا ظہور ہو جانے کے بعد کیا تبدیلیاں رونما ہونگی؟

جواب: امام ؑ کی پہلی نداء پر دنیا کے مختلف علاقوں سے۳۱۳افراد  انہیں لبیک کہتے ہوئے اس طرح   مکہ پہنچیں گے کہ صبح کو گھر والے انہیں اپنے بستروں پر غائب پائیں گے اور اس کے بعد امامؑ فتوحات کا سلسلہ شروع کریں گے مختلف مقامات پرلشکر کشی کریں گے  یہاں تک کہ امامؑ کا لشکر بڑھتا جائے گا اور دشمن پسپا ہو تے جائیں گے آپ ؑ کوفہ کو اپنا مرکزقرار دیں گے  اور اپنی حکومت کی حدود کو مشرق و مغرب تک پھیلا دیں گے آپؑ کے دور حکومت میں صرف دین اسلام پر عمل ہوگا،ہر بدعت ختم ہو جائیگی ،ہر سنت کو زندہ کریں گے،ہر ظلم کا خاتمہ کریں گے،زمین کے ہر بنجر ٹکڑے کو آباد کریں گے،زمین اپنے تمام پوشیدہ خزانوں کواگل دے گی ،آسمان اپنی برکات کے دروازے کھول دے گا،ا تنی خوشحالی ہو گی  کہ جسے لوگوں نے آج تک نہیں دیکھا ہو گا،ہر جگہ امن و امان ہو گا،اسی حال میں بعض روایات کے مطابق آپ  ستر سال حکومت فرمائیں گے ،چرند ،پرند،حیوانات،سمندری مخلوق ،انسان سب آپ ؑ کی حکومت سے خوش ہوں گے۔

سوال نمبر 16: کیا زمانہ غیبت میں بھی  کسی کو زمانے کے اما م ؑ سے ملاقات ہو سکتی ہے؟

جواب: کسی کی اس طرح سے ملاقات ہو کہ وہ باقاعدہ امامؑ سے ملاقات کرتا ہو اور ان کے درمیان باتیں ہوتی ہوں اور امامؑ سے کچھ مسائل کا حل پوچھتا ہوایسے جیسے سفیر ہوا کرتے تھے تو ایسا  ممکن نہیں ہے کیوں کہ امام ؑ نے اپنے آخری سفیر علی بن عثمان سمری کی طرف جو خط لکھا تھا اس میں یہ فرمایا کہ ’’غیبت کبری واقع ہو رہی ہےاور اس کے بعد جو بھی امام کے مشاہدہ کا دعوی ٰ کرے اسے جھٹلا دینا ‘‘ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض خاص لوگوں کو کبھی زیارت نصیب ہو جائے اور وہ بھی اکثر اوقات اس صورت میں کہ زیارت کے بعد احساس ہو کہ یہ زمانے کے اما م ہیں۔یہ ممکن ہےاور  اس طرح کے کئی ایک واقعات نقل کیے جاتے ہیں بلکہ امام ؑ کی رؤیت کے واقعات پر کتابیں تالیف کی گئی ہیں[2]

سوال نمبر17:عقیدہ رجعت سے کیا مراد ہےاور  اس پر کیا دلیل ہے؟

جواب: رجعت کا لفظی معنی موت کے بعد دوبارہ دنیا میں پلٹنا ہے مذہب شیعہ کے ضروری عقائد میں سے عقیدہ رجعت ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ امام زمانہ کے ظہور کے بعد اور قیامت سے پہلے بعض انبیاء اور بعض آئمہؑ ھدیٰ اور ایمان کے اعتبار سے کامل مومنین  میں سے کچھ اس دنیا میں واپس آکر دوبارہ دنیاوی زندگی گزاریں گے۔ اسی طرح سے کفار اور منافقین میں سے کچھ افراد بھی  واپس لوٹائیں جائیں گے ۔انبیاء ؑاور آئمہؑ پر ظلم کرنے والوں پر آخرت سے پہلے بھی اس  دنیا میں انتقام لیا جائے گا اور مومنین ان کو سزا پاتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوں گے۔اس عقیدہ رجعت پر  قرآن مجید کی آیات اور معصومین ؑ کی احادیث موجود ہیں۔

جیسا کہ ارشاد پروردگار ہوا

’’ وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَہُمْ يُوْزَعُوْنَ‘‘(النمل ۸۳)

اور اس دن جب ہم ہر امت میں سے ایک گروہ کو جمع کریں گے اوران میں سے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں انہیں روکا جائے گا ‘‘

یہ آیت واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ ایسا اسی دنیامیں ہونا ہے ورنہ آخرت میں تو سب  محشور ہونگےاور آیت میں یہ واضح بیان ہے کہ ہر امت سے ایک گروہ کو محشور کیا جائیگا اس کےعلاوہ گزشتہ امتوں میں بھی یہ رجعت واقع ہو چکی ہے یعنی انسان کا مرنے کے بعد دنیا میں واپس آنا ۔جیسا کہ اس کا اشارہ سورۃالبقرۃ 55/56/72/73  اور آیت 243 اور  259 میں ہے جہاں تک احادیث کا تعلق ہے توسینکڑوں  احادیث اس مطلب پر دلالت کر تی ہیں تفصیلات کے لیے بحارالانوار۔ج53 کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔لہذا جب  رجعت عقل کی رو سے ممکن ہے اور پہلی امتوں میں بھی واقع ہو چکی ہے تو پھر اس بات پر اگر کوئی دلیل موجود ہے  کہ اس امت میں بھی رجعت متحقق ہو گی تو اس پرایمان لانا ضروری ہے۔

 

[1] ) اس مشاہدہ سے  کیا مراد ہے اس کا بیان آگے آ رہا ہے۔

([2]) یہاں پر مناسب ہے کہ بچوں کو ملاقات امام ؑ کے کچھ واقعات سنائیں جائیں۔