نواں باب

عالم برزخ

سوال نمبر1:انسان کی موت کی حقیقت  كيا ہے اور انسان کیسے مرتا ہے ؟

جواب: زندگی اور اس کے آثار جیسے شعور اور ارادہ ہے ان کاختم ہو جانا موت کہلاتا ہے ارشاد خداوندی ہے ۔

’’ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ‘‘(البقرۃ ۲۸)

’’ تم مردہ تھے تو تمہیں زندہ کیا‘‘ جس کی حقیقت یہ ہے کہ (روح )  کا جسم سے تعلق ختم ہو جاتا ہے یعنی اب تک اس بدن کا کنٹرول نفس(روح )  کے پاس تھااور وہ اسے چلا رہا تھا لیکن جب موت آئی تو یہ رابطہ ٹوٹ گیا ارشاد پروردگار ہے

’’اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا ‘‘

اللہ روحوں کو انکی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے ‘‘ موت سے انسان فنا اور معدوم نہیں ہو جاتا بلکہ دنیا کی زندگی سے آخرت کی زندگی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے رسول اللہ ﷺسے روایت ہےکہ ’’خُلِقْتُم لِلْبَقَاءِ لَا لِلْفَنَاءِ اِنّمَا تَنْتَقِلُوْنَ مِنْ دارٍ اِلیٰ دَارٍ‘‘(تم باقی رہنے کےلیے خلق ہوئے ہو فناء ہونے کےلیےنہیں تم موت کے ذریعے صرف ایک گھر سےدوسرے گھر کی طرف منتقل ہو جاتے ہو۔ لہذا نفس کا جسم سے جدا ہونے والا عمل مختلف انداز میں واقع ہوتا ہے  روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر مرنے والا مؤمن ہے تو ملائکہ خوبصورت شکل میں حاضر ہوتے ہیں اور ملک الموت اس طرح نرمی سے روح قبض کرتے ہیں جس طرح مکھن سے بال نکالا جائے اور اگر مرنے والا دشمن ِخدا ہوا تو ملائکہ انتہائی  خوفناک ڈراؤنی شکل میں آتے ہیں اور ملک الموت اس طرح سختی سے روح قبض کرتے ہیں  جیسے کسی ململ کے کپڑے کو کانٹے دار درخت پر پھیلا کر اسے ایک طرف سے پکڑ کر کھینچا جائے تو اس کپڑے کی جو حالت ہوتی ہے وہی اس مرنے والے کی روح کی حالت ہوتی ہے۔اگرچہ کبھی کبھار اللہ تعالیٰ اپنے کسی دشمن کے لیےسکراتِ موت آسان کرد یتا ہے تاکہ اسے دنیا ہی میں اس کے اچھے کاموں کا صلہ مل جائے اور اسی طرح سے کسی مومن کی موت کے مرحلے کوسخت اور مشکل کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ دنیا ہی میں اس کے گناہوں کی تلافی ہو جائے۔[1]

سوال نمبر2: اگر موت فناء نہیں ہے تو پھر ہم موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟

جواب: موت سے ڈرنے کی دو اہم وجہیں ہیں

۱: کئی  لوگ اسے فناء سمجھتے ہیں یعنی یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم موت كے بعدختم ہو جائیں گے اور ہمارا وجود فنا ہو جائیگا۔

۲ : بہت سارے لوگ اس لیے موت سے ڈرتے ہیں کہ اس سفر پر جانے کی  انکی تیاری نہیں ہوتی اور انکانامہ اعمال سیاہ  ہوتاہے جبکہ وہاں اعمال کی روشنی چاہیے اسی لیے تو ہم دیکھتے ہیں کہ جو اپنے اعمال سے مطمئن ہوتے ہیں وہ بڑی خوشی سے موت کا استقبال کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر دیکھیے امام علی ابن ابی طالب ؑ فرماتے ہیں ۔’’لَإِبْنُ أَبِیْ طَالِب آنَسُ بِالْمَوتِ مِنْ الطِفْلِ بِثَدْی أُمِّہ‘‘

’’فرزند ابوطالب تو موت کے ساتھ اس سے بھی زیادہ مانوس تھے جتنا ایک شیر خوار بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے ہوتا ہے‘‘

سوال نمبر 3: کیا موت کا وقت معین ہےاوراس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی؟

جواب: موت کی دو قسمیں ہیں ۔ایک حتمی موت ہے اور ایک غیر حتمی موت ہے۔جو غیر حتمی موت ہے اس کی مدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے اور جو حتمی موت ہے و ہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی مثلاً ظاہر میں ایک انسان ساٹھ سال تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی موت کی غیر حتمی مدت ہے لیکن یہ مدت  صدقہ یا رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرنے سے بڑھ سکتی ہے اور اس کے برعکس رشتہ داروں سے قطع تعلقی یا اس طرح كے کسی گناہ كو انجام دینے سے یہ مدت  کم بھی ہو سکتی ہےلیکن جو حتمی موت ہے اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں ہو سکتا۔ارشاد پروردگار ہوتا ہے۔

’’ ھُوَالَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَہٗ ‘‘  (الانعام ۲)

’’وہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں مٹی سے خلق کیا پھر ایک مدت کا فیصلہ کیا اور معین شدہ مدت (کا علم) تو اس کے پاس ہے ‘‘

یعنی اس کا معنی یہ ہوا کہ جو حتمی موت ہے اس کا علم صرف خداوندمتعال کے پاس ہے اور غیر حتمی موت کا علم اللہ کے علاوہ   کسی اور کوبھی  ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 4:عالم برزخ کیا ہے؟

جواب:برزخ اس فاصلہ کو کہتے ہیں جو دو چیزوں کےدرمیان ہوتا ہے اور عالم برزخ سے مراد عالم قبر ہے کہ جسمیں انسان مرنے کے بعد سے قیامت تک زندگی گزارتا ہے اور چونکہ یہ دنیا اور آخرت کا درمیان فاصلہ ہے اس لیے اسے عالم برزخ کہا جاتا ہے اسی عالم برزخ کو عالم مثال بھی کہتے ہیں کیونکہ روحیں جب ان مادی ابدان  سے جدا ہو جاتی ہیں تو انہیں ایسے ابدان میں منتقل کردیا جاتا ہے جو کہ شکل وصورت میں ان دنیاوی ابدان کے مشابہ ہوتی ہیں ۔لیکن وہ مادہ سے خالی ہوتی ہیں لہذا  ان اجسام کو مثالی اجسام کہا جاتاہے ۔

سوال نمبر5: اس عالم برزخ میں انسان کس طرح سے زندگی گزارے گا ؟

جواب: قبر میں داخل ہوتے  ہی منکر ونکیراس سے عقائد کے متعلق سوال[2] کریں گے اگروہ ان سوالوں کے صحیح جوابات دےگا تووہ اسے بشارت دیں گے اور اگر جواب نہ دے سکا تووہ اسے  عذاب خدا کا مزا چکھائیں گے ۔اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ برزخ میں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سر شار ہونگے ،بہت خوشحال رہیں گے جیسا کے شہداء کے بارے میں  ارشاد خداوندی ہے۔

’’ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتًا  بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ‘‘ (آل عمران ۱۶۹)

’’ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں اور اللہ نے اپنے فضل و کرم سے جو انہیں عطاء کررکھا ہے اس پر خوش ہیں‘‘۔اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو عذاب الہیٰ میں مسلسل گرفتار ہوں گے جیسا کہ فرعون اور فرعونیوں کے بارے میں قرآن  میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔

’’وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۗءُ الْعَذَابِ . النَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْہَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا وَيَوْمَ تَـقُوْمُ السَّاعَۃُ  اُدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ‘‘  (غافر ۴۵،۴۶)

’’اور بری طرح کے عذاب نے آل فرعون کو اپنی لپیٹ میں لے لیا صبح اور شام انہیں آگ پر پیش کیا جاتا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کیا جائے گا‘‘  اس بات کی تائید کرتی ہے وہ روایت جو امام علی ابن حسین ؑ سے نقل ہوئی ہے انہوں نے فرمایا۔’’اِنَّ القَبْرَ رَوْضَۃ  مِن ریاض الجنۃ او حفرۃ من حفر النار۔‘‘ (کافی ج ۳ /۲۴۳)

’’ بے شک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ‘‘

البتہ الشیخ مفید ؒ نے لکھا ہے کہ تیسری قسم کے لوگ بھی ہوں گے جنہیں قیامت کے دن تک چھوڑ دیا جائے گا نہ نعمتوں میں ہوں گے نہ عذاب میں  اور یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی کچھ نیکیاں ہونگی اور کچھ گناہ ہونگے۔

سوال نمبر 6: جو انسان قبر میں دفن نہیں ہو سکتا مثلاً جل کر راکھ ہو جاتا ہے یا کسی حیوان کا لقمہ بن جاتا ہے تو وہ برزخ میں کس طرح سے ثواب یا عذاب کامزہ چکھے گا؟

جواب: اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ جس طرح سے چاہے اسکی روح کو ثواب یا عذاب دے سکتا ہے۔امام رضا ؑ سے جب پوچھا گیا کہ سولی پر لٹکا ہوا شخص بھی فشار قبر کے مرحلے سے گزرے  گا تو امامؑ نے فرمایا ’’نعم ان اللہ یأمر الھواء ان یضغطہ ‘‘(کافی ج ۳/۲۴۱)

’’ ہاں اللہ تعالیٰ ہوا کو حکم دے گا اسے فشار دے‘‘

سوال نمبر7: یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر برزخ میں بھی ثواب اورسزا ہے  اور قیامت کےدن کو بھی یوم حساب کہا جاتا ہے تو پھر برزخ اور قیامت میں کیا فرق ہے؟

جواب : برزخ میں جو جزا ء یا سزا ملے گی وہ حساب و کتاب مکمل ہونے کے بعد نہیں ملے گی ۔بلکہ انسان دنیا میں جوعقیدہ رکھتا ہو گا اور جو  اسی بنا پر اس نے اعمال  انجام دیے  ہونگے  عالم برزخ کے مطابق جو آثار مرتب ہونگے  وہی جزاء یا سزا کی شکل میں ظاہر ہو ں گے۔ اسی لیے تو چھٹے امام ؑسے روایت ہےآپ ؑ  فرماتے ہیں۔’’واللہ ماأخاف علیکم الا البرزخ و اما اذا صار الأمر الینا فنحن اولیٰ بکم ‘‘( تفسیر القمی /۲۹۴)

(اللہ کی قسم میں تمہارے بارے میں صرف  برزخ سے ڈرتا ہوں اور جب (روزقیامت) معاملہ ہمارے حوالے ہوگا تو ہم تمہارے زیادہ قریب ہوں گے۔)

اس کا مطلب یہ  ہے کہ قبر میں انسان کے اعمال کا اثر ظاہر ہوگا  اور عقائد کے متعلق پرسش ہوگی۔۔

روایت میں ہے کہ قیس بن عاصم منقری بنی تمیم کے ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا  اور ایک نفع بخش نصیحت طلب کی تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ’’اے قیس لازمی طور پر تیرا ایک ساتھی ہو گا جو تیرے ساتھ دفن ہوگا اس حال میں کہ وہ زندہ ہوگا اور تو اس کے ساتھ دفن  بھی ہوگامگر تو مردہ ہو گا  اگر وہ عزت دار ہوا تو تجھے  عزت عطاکرے گا اور اگر وہ گھٹیا ہو گا تو تجھے (مشکلات ) کے حوالے کر دے گا اور پھر وہ تیرے ساتھ ہی محشور ہوگا اور تیرے ساتھ ہی اٹھے گا اور تجھ سے صرف اسی کے بارے میں سوال ہو گالہذا ضروری ہے کہ اسی کو اچھا بنانے کی کوشش کرو۔کیونکہ اگروہ اچھا ہوا تو تو اس سے انس حاصل کرےگا اور اگر وہ برا ہوا تو تجھے اس سے وحشت ہوگی اور وہ تیرا ساتھی تیراعمل ہے۔[3]

سوال نمبر8: کیا برزخ کا عقیدہ رکھنا بھی ضروریات دین میں سے ہے؟

جواب: برزخ کا عقیدہ اور روز قیامت کے عقیدہ میں فرق ہے اور وہ یہ کہ برزخ  کا عقیدہ اگرچہ ہماری نگاہ میں حق ہے اور ضروری ہے لیکن اس کا منکر کافر نہیں ہےکیونکہ اہل سنت میں سے کچھ علماءاس کے قائل نہیں ہیں جبکہ روز قیامت کا عقیدہ نہ رکھنے والا کافر ہے ۔لہذاہمارا برزخ کا عقیدہ بہت ساری ادلّہ اور نصوص سے ثابت کیا جا سکتا ہے سابق الذکر دلیلوں کے علاوہ قرآن مجید کی ایک آیت بھی اس کو ثابت کرتی ہے جیسا کہ  ارشاد ہوتاہے۔

’’ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ،  لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا

فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا اِنَّہَا كَلِمَۃٌ ھُوَقَاۗىِٕلُہَا وَمِنْ وَّرَاۗىِٕہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ‘‘ (المومنون ۹۹/۱۰۰)

(یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی ایک کو موت آتی ہے تووہ کہتا ہےکہ اے  میرے رب مجھےلوٹا دیجیے شاید کہ میں وہ نیک اعمال کہ جنہیں  چھوڑ کر آیا ہوں انہیں انجام دے سکوں (جواب ملے گا) ہرگز ایسا نہیں ہوگا یہ صرف ایک لقلقہ زبانی ہے کہ جس کا وہ کہنے والا ہے اور موت کے بعد سے قیامت تک ان کے لیے عالم برزخ کو رکھا گیا ہے۔)

آیت کے الفاظ ہمیں اس عالم برزخ کے لیے تیار رہنے کی تنبیہ کر رہے ہیں۔

سوال نمبر9:وہ کون سے کام ہیں جو برزخ میں انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں؟

جواب: بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ، لوگوں کے ساتھ نیکی، صبر  اور نماز تہجد جیسے اعمال خوبصورت اور  نورانی شکلوں میں مرنے والے کے پاس ہونگے اور ان  میں سب  سے زياده  نورانی شکل ولایت آل محمد ؐ کی ہوگی اسی طرح اگر مرنے والا کوئی صدقہ جاریہ چھوڑ کر جاتا ہےتو اس کا ثواب بھی اسے پہنچتا رہتا ہے جیسے کوئی مسجد یا مدرسہ یا امام بارگاہ وغیرہ بنوائےکہ جس میں مذہب محمد و آل محمد ؐ کی ترویج ہوتی ہےلہذاجب تک وہ باقی رہے گا بنوانے والے کو ثواب پہنچتا رہے گا اسی طرح اگر کوئی رفاہ عامہ کے کاموں میں سے کوئی ایساکام انجام دے کہ جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں جیسے سایہ کے لیے درخت وغیرہ لگوائے یا ایسے اچھے عمل کی بنیاد  رکھےکہ جس پر لوگ بعد میں بھی عمل کرتے رہیں  یا وه اولاد کی ایسی تربیت کر ے کہ وہ دین کے پابند رہیں یہ سب ایسے کام ہیں  کہ جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے ۔

اسی طرح جس انسان کی اولاد اور رشتہ دار وغیرہ اس کے لیے دعا مغفرت کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں تو یہ بھی اس کے لیے بہترین ہدیہ بھیجتے ہیں اگر کسی کے ذمہ کوئی واجب رہ گیا ہویا لوگوں کا مال اس کے ذمہ ہو تو ان واجبات کو ادا کرنے سے انسان کی برزخ کی تکلیف دور ہو تی ہے۔[4]

سوال نمبر 10: وہ کون سے برے اعمال ہیں جوعالم برزخ میں عذاب قبر کا باعث بنتے ہیں ؟

جواب :بہت سے گناہ اور جرائم ایسے ہیں جو عذاب قبر کا موجب بنتے ہیں جن میں سے چند کا ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔

1۔ اپنے گھر والوں سے بدسلوکی اختیار کرنا۔

2۔ لوگوں کے درمیان چغل خوری کرنا۔

3۔پیشاب کی نجاست سے پرہیز نہ کرنا۔

4۔اللہ کی نعمتوں کا ضائع کرنا۔

5۔ کسی کمزور اور محتاج کو دیکھنا اور اس کی مدد نہ کرنا۔(علل الشرائع1/310)

 


[1] کیا آپ   نے کبھی سوچا ہے کہ آپ پر موت کب آئے گی اور اس وقت آپ کیا کریں گے؟

[2] برزخ میں کونسے سوال کیے جائیں گے؟

[3] یہاں مناسب ہے کہ استاد  بچوں کو عذاب قبر کا کوئی واقعہ سنائے۔

[4] کیا آپ نے بھی کبھی اپنے کسی مرحوم رشتہ دار یا استاد کے لیے کچھ کیا ہے؟