دسواں باب

عالم آخرت

سوال نمبر 1:عالم آخرت یا معاد سے کیا مراد ہے؟

جواب:معاد سے مراد یہ ہے کہ ایک دن ایسا آئے گاکہ جب اس کائنا ت کا خاتمہ ہو جائیگا اور اللہ تعالیٰ تما م مردوں کو زندہ کرے گا۔حساب کتا ب ہوگا نیکوکار کو ہمیشہ کے لیے جنت میں بھیج دیا جائیگا اور بدکار کو جہنم میں داخل کردیاجائیگا۔اس دن کو روز جزاء ،روز قیامت ،روز حساب اور روز حشر وغیر ہ جیسے ناموں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

سوال نمبر 2: کیا قیامت پر اعتقاد رکھنا واجب ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر ہمارے پاس اس بات پر کیا دلیل ہے؟

جواب: روز قیامت پر عقیدہ و ایمان رکھنا ضروریات اسلام میں سے ہے کہ جس کا انکار دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور اس دن کے واقع ہونے پر ہمارے پاس بہت ساری ادلّہ ہیں ان میں سے ہم چند دلائل کو  ذکر کررہے  ہیں

۱: فطری دلیل: ہر انسان اگر اپنی فطرت کی طرف توجہ کرے تو اسے اپنی فطرت  میں احساس ضرور ہوگا کہ ایک دن ایسا ضرور  پایا جاتا ہے کہ جس دن عدل و انصاف قائم ہوگا حقدار کو حق ملے گا مظلوم پر ہونے والے ظلم کا اسے بدلہ ملے گا اور ظالموں سے انتقام لیا جائیگا اچھے اور برے کے ساتھ اس کے عمل کے مطابق برتاؤ ہو گا اور فطرت کی یہ آواز تب ہی محسوس کی جا سکتی  ہے جب ایسا دن موجود ہو ورنہ یہ چیز فطرت میں داخل نہ ہوتی ۔

۲: عقلی دلیل: یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم اور عادل ہے لہذا اگر ہم معاد کے قائل نہ ہوں تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ نہ حکیم ہے اور نہ عادل ہے لہذا جو اللہ تعالیٰ کے حکیم اور عادل ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ معاد کا عقیدہ بھی رکھے۔اور یہ اس لیے ہے  کہ اگر معاد نہ ہوتی تو  ظالم ومظلوم  ،نیک و بد، غریب و امیر سب کا ایک انجا م ہوتاحقدار کو اس کا حق نہ ملتا اور مظلوم کواس پر ہونے والے ظلم کا بدلہ نہ ملتا اور یہ سرا سر نا انصافی اور ظلم شمار ہوتا۔ اس لیے ارشاد رب العزت ہوا۔

’’ اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡاَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ ‘‘ (ص۲۸)

’’کیا ہم  ایمان لانے اور عمل صالح انجام دینے والوں کو زمین میں فساد کرنے والوں جیسا یا متقی وپرہیز گارکو فاسق فاجر  جیسا قرار دیں گے۔‘‘ یعنی یہ قطعاً نہیں ہو سکتا کہ ہم ان دو کےدرمیا ن برابر کا سلوک رکھیں۔

اور اسی طرح اگر معاد نہ ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جواتنی بڑی کائنات کہ جس میں انسان جیسی مخلوق بھی ہے کو خلق کیا اور  پھر کچھ عرصے کے بعداسے فنا کردے گا تویہ فعل الہیٰ ایک فضول اور لغو کام ہو گا جس کا کوئی ہدف نہیں ہے اور ایسا کام وہ کر سکتا ہے جو حکمت سے خالی ہولیکن ہمارا پروردگار ان سب سے بہت بلند وبالا ہے  پروردگارعالم کا ارشاد ہواہے ۔

’ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ  ‘‘  (المومنون ۱۱۵)

’’اور کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹ کر نہیں آؤ گے ‘‘

یعنی اگر قیامت کے دن نہ پلٹنا ہوتا تو پھر یہ دنیاوی خلقت فضول ہوتی لہذا اس کے حکیم اور عادل ہونے کا تقاضایہ ہے کہ ایک دن ایسا ہوکہ جس میں سب کو جمع کیا  جائے اوران کے اعمال کے مطابق جزاء اورسزا دی جائے۔

۳: نقلی دلیل: نقلی دلیل کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن مجید میں ایک ہزار مرتبہ سے بھی زیادہ بار مختلف انداز میں روز قیامت کا تذکرہ ہوا ہےاور اس دن کے انکار کرنے والے کو توحید کا منکر شمار کیاگیا ہے۔

سوال نمبر 3:  کیاعقیدہ معاد  مذہب اسلام کے ساتھ خاص ہے یا دوسرے ادیان میں بھی اس کا تصور پایا جاتا ہے ؟

جواب:جتنے بھی آسمانی ادیان ہیں  ان سب میں یہ عقیدہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔موجود ہ تورات اور  چاروں  انجیلوں میں بھی ا س کا ذکر ہے اس کے علاہ زرتشت  کے آئین میں اور قدیم مصریوں کے ہاں  بھی اس عقیدہ کے پائے جانے پر شواہد ملتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہےکہ موت کے بعد زندگی کا تصور انسانی فکرکے مرکز میں موجود رہا ہے۔

سوال نمبر4:کیا اس دن لوگ اسی مادی دنیاوی جسم کے ساتھ اٹھیں گے یا اس کے علاوہ کسی اور جسم میں محشور ہونگے؟

جواب :روز قیامت لوگ اسی دنیاوی جسم کے ساتھ مبعوث ہونگے اور اسکی دلیل یہ ہے کہ جب کافر لوگ معاد کے دن پر اعتراض کرتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے کہ کون ان گلی سڑی ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرے گا تو ان کے جواب میں یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ اس مادی بدن کے ساتھ نہیں اٹھنا ہے بلکہ جواب یہ ہوتا تھا  کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا کہ جس نے پہلی بار انہیں خلق کیا تھا لہذا وہ خدا جو انہیں عالم عدم سے زیور وجود سے آراستہ کر سکتا ہے اور وہ خدا جو انہیں پہلی بار بنا سکتا ہے۔ جب  کہ وہ کچھ بھی نہ تھے خلق کر سکتا ہے تواس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں راکھ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کرے۔

ارشاد پروردگار ہوتا ہے۔

قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ۔قُلْ يُحْيِيْہَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَهُوَبِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ۔( یٰس ۷۹۔۷۸)

(اس نے کہا کہ کون ہےجو  ان ہڈیوں کو بوسیدہ ہونے کے بعد زندہ کرے گاتوآپؑ  کہہ دیجیے وہی انہیں دوبارہ  زندہ کرے گاکہ جس نے پہلی بار انہیں خلق کیا تھا اور وہ اپنی ہر مخلوق کا علم رکھتا ہے)

قرآن مجید کا یہ جواب بتا تا ہے کہ اسی عنصری بدن کے ساتھ ہی دوبارہ اٹھایا جائے گا۔        

سوال نمبر 5:یہیں سے ایک سوال ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ وہ انسان  کہ جس کے جسم کے ذرات بکھر چکے ہیں اور ہوا انہیں اپنے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں منتشر کر چکی ہے یا پھروہ کسی حیوان کے جسم کے حصہ بن گئے ہیں تو ایسا انسان کیسے اسی جسم کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب: اس قسم کا سوال تو تب ہو سکتا تھا جب اللہ تعالیٰ کے علم کی کوئی حد ہو یا اس کی قدرت محدود ہو لیکن جب وہ عالم مطلق اور  قادر مطلق ہے تو پھریہ بھی جانتا ہےکہ اس کے جسم کے اجزء کہاں کہاں منتشر ہیں اور انہیں جمع کرکےدوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے [1]

سوال نمبر 6:معاد کا عقیدہ رکھنے سے انسان کی زندگی میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہے؟

جواب: اس عقیدہ کی بنیا د پر انسان بالکل بدل جاتا ہے اس میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ہم ان میں سے دو اہم تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

۱: قلبی اطمئنان: جو انسان آخرت پر عقیدہ نہیں رکھتا وہ اس دنیاوی زندگی کو بے ہدف سمجھتا ہے جس وجہ سے اسکی زندگی میں قرار نہیں ہوتا اس لیے ایسے لوگ کبھی تھوڑی سی پریشانی آنے پر دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں جبکہ و ہ انسان جو اس دنیاوی زندگی کو آخرت کی زندگی کا پیش خیمہ سمجھتا ہے تو وہ مطمئن رہتاہے کہ ایک دن ایسا آئےگا کہ ہر مشکل سے نجات مل جائیگی۔

اور اس دنیا کے بعد دائمی زندگی نصیب ہوگی لہذااس کی یہ آخرت  کی زندگی کی آرزو اس کی حالت اطمئنان کو بڑھا دیتی ہے ۔

۲: احساس مسؤولیت: جو آدمی روز حساب پر یقین رکھتاہے تو وہ ہر کام میں یہ مدِ نظر رکھتا ہے کہ کہیں وہ گناہ کا مرتکب نہ ہوجائے  اوراسی طرح  وہ کسی واجب کو ترک نہ کربیٹھے اور اپنے تمام اعمال اور حرکات پر نگا ہ رکھتا ہے اپنی غلطیوں پر نادم ہوتا ہےاور توبہ کرتاہے  جبکہ اس کے مقابل جو آدمی اس دن پر ایمان نہیں رکھتا وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے اور کسی گناہ یا برے کام سے خوف نہیں کھاتا۔

سوال نمبر7:جس دن قیامت قائم ہوگی تو دنیا میں کیاکیا تبدیلیاں رونما ہوں گی؟

جواب: قرآن مجید کی آیات اور معصومین ؑ کی احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دن ایک عظیم انقلاب برپا ہو گا سورج بے نور ہو جائیگا ستارے ڈوب جائیں گے،پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ رہے ہوں گےدریا خشک ہو جائیں گے ،زمین میں زلزلہ آئیگا ، خوف و ہراس  کی وجہ سے حاملہ عورتوں  کے حمل سقط ہو جائیں گے لوگ  خوف کی وجہ سے یوں لگیں گے  جیسے وہ نشے میں مد ہوش ہوں پھرایک صور پھونکا جائیگا کہ جس  سے ہر ذی روح موت کی آغوش میں چلا جائے گا اور ایک طویل مدت مردہ حالت میں پڑے رہنے کے بعدجب  دوبارہ صور پھونکا جائیگا تو اس سے  انسان زندہ ہوجائیں گے اور قبروں میں سوئے ہوئے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اس دن  زمین وآسمان کو کسی اور زمین و آسمان سے بدل دیا جائےگا انسان کے خوف وہراس کا عالم یہ ہو گا کہ ماں با پ اپنی اولاد سے،شوہر اپنی بیوی سے اور ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی سے دور بھاگ رہا ہو گا کہ کہیں کوئی مجھ سے میرا اچھا عمل نہ مانگ لے اسکے بعد حساب و کتا ب کا مرحلہ شروع ہو گا۔

سوال نمبر 8: بروز محشر حساب وکتاب کی  کیا کیفیت ہوگی ؟

جواب: ہر کسی کو اس کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا جس میں اس کے سارے اعمال درج ہوں گے حتٰی کہ وہ چھوٹے چھوٹے اعمال بھی لکھے ہوئے ہوں گے کہ جنہیں انسان معمولی سمجھتا تھا لہذاوہ  یہ دیکھ کر بے ساختہ بول اٹھے گا   ’’ ما لھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ ‘‘ یہ کیسی کتاب ہے کہ جس میں چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عمل درج کرنے میں کوتاہی نہیں کی

گئی ۔ ‘‘[2]

اگر نامہ اعمال میں اچھے اعمال ہوں گے تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اگر برے اعمال ہوں گے تو بائیں ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔نامہ اعمال کے علاوہ بھی گواہ ہوں گے جوانسان کے اعمال پر گواہی دیں گے۔مثلاً انبیاء ؑاو ر آئمہؑ لوگوں کے اعمال کے گواہ ہوں گےاس کے علاوہ انسان کے اپنے اعضاء  و جوارح اس کے خلاف گواہی دیں گے خود ذات پروردگار بھی گواہ ہو گی اوران گواہوں کی گواہی اور  نامہ اعمال کےدیئے جانے کے علاوہ بھی کچھ مراحل سے انسان کوگزرنا ہوگا   جن  میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

۱: میزان:اعمال تولنے والا ترازو لگایا جائے گا کہ جس کے ذریعے اعمال کا وزن ہوگا جس کے اعمال کا وزن بھاری ہوگا وہ کامیاب ہو  جائیگا ارشاد پروردگار ہوتاہے۔

’ وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَۃِ ‘‘ (الأنبیاء ۴۷)

’’ اور ہم قیامت کے دن انصاف سے وزن کرنے والے ترازو نصب کریں گے‘‘

۲: صراط : جہنم کے اوپر ایک پل نصب ہو گا کہ جسے صراط کہا جاتا ہے روایات کے مطابق وہ بال سے زیادہ باریک ،تلوار سے زیادہ تیز اور آگ سے زیادہ گرم اورجس کےاوپر سے ہر انسان کو گزرنا ہوگا کچھ لوگ اس کےاوپرسے ہوا کی طرح گزر جائیں گے اور کچھ افراد اس سے آہستہ  گزریں گے اور کچھ تھوڑی دیر کے توقف کے بعد گزریں گے اور پھر آزاد ہو کر پار کریں گےاور کچھ افراد گرکر وارد جہنم ہوں گے یعنی جس قدر اعمال ہوں گے اس قدر اس کی رفتا رتیز یا سست ہو گی ۔اور  روایات میں وارد ہوا ہے کہ صراط کو صرف وہی عبور کر سکیں گے جن کے پاس ولایت علی ابن ابی طالب ؑ کا گزرنامہ ہوگا۔

۳: لواء الحمداور حوض: جو لوگ صحیح ایمان اور اچھے اعمال والے ہوں گے انہیں اس لوائے حمد کا سایہ نصیب ہو گا  جو اللہ کے رسول ﷺ حضرت علی ؑ کے ہاتھ میں دیں گے اور اس حوض سے  کہ جسے کوثر کہتے ہیں مومنین کو سیراب کیا جائے گا اس کے ساقی بھی حضرت علی ؑ ہی ہوں گے اور اس سے سیراب شدہ افراد جہنم کی حرارت اور پیاس کی تکلیف سے محفوظ رہیں گے ۔[3]

سوال نمبر 9:حساب و کتاب کے دن لوگوں کے درمیان سزا کے اعتبار سے  کتنا فرق ہوگا؟

جواب: انسان کے ایمان اور اس کے اعما ل کے مطابق اس سے سلوک کیا جائے گا کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور کچھ افراد ایسے بھی ہوں گے جو  سیدھے جہنم میں داخل کر دیئے جائیں گے  لوگوں کی اس مختلف کیفیت کو قرآن یو ں بیان کر رہا ہے ’’ وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَۃٌ ،لِّسَعْيِہَا رَاضِيَۃٌ ،فِيْ جَنَّۃٍ عَالِيَۃٍ ‘‘ ( غاشیۃ ۸/۱۰)

’’اورکچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گےاور اپنی کوشش سے راضی اور خوش  ہوں گے بلند ترین جنت میں ہوں گے۔‘‘

جبکہ کچھ لوگوں کی کیفیت یوں بیان فرمائی ہے ۔

’ وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَۃٌ  ،عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ  ‘‘ (الغاشیۃ ۲/۳)

’’ اس دن کچھ چہرے ذلیل اور رسوا اور مایوس اور تھکے ہوئے ہوں گے‘‘

لوگوں میں اس قدر فرق ہوگا کہ چہروں سے نیکوکار اور بدکار کی پہچان ہو جائے گی ارشاد ہوتاہے کہ

’’ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰہُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ ‘‘ (الرحمن۴۱)

’’گناہ گاروں کو ان کی پیشانیوں سے پہچان لیا جائیگا اور ان کی پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ لیا جائے گا‘‘

نتیجے کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ لوگ تین قسم کے ہوں گے کچھ ایسے ہوں گے  جو قبر کے اٹھنے سے لے کر جنت تک کا سفر بغیر کسی پریشانی کے آرام و سکون سے طے کریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو صرف او ر صرف دائمی عذاب کے مستحق ہوں گے۔اور یہ کافر،مشرک اور منافق ہوں گے اور تیسرے وہ ہونگے جو ان دونوں کے درمیانی مرحلہ میں ہونگے پھر ان کی حالت بھی مختلف ہو گی یہ لوگ تھوڑی یازیادہ تکلیف اٹھائیں  گے کچھ کے لیےصرف محشر کا خوف ہو گا اور کچھ کے لیے اس کے ساتھ حساب کی سختی بھی ہو گی اور کچھ ایسے بھی ہوں گے کہ جو کچھ دیر کے لیے جہنم کا مزا بھی چکھیں گے پھربعد میں  انہیں جنت داخل کر دیا جائیگا۔

سوال نمبر ۱۰: روز قیامت گناہ گاروں کو عذاب دینے کی علت وسبب کیا ہے ؟

جواب: آخرت میں گناہ گاروں کو اس لیے عذاب نہیں دے گا کہ وہ اس بات کا محتاج ہے بلکہ عذاب عدالت کو قائم کرنے کے لیے اور ظالم و مظلوم کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے رکھا گیا ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہنا مقصود ہے کہ ہر کسی کو وہی اجر ملے  گا جس کا وہ مستحق ہو گا تو جہنم کے مستحق کو جہنم کا عذاب اس کے استحقاق  ہی کی وجہ سے دیا جائے گا۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس کا محتاج ہے۔

سوال نمبر 11:اگر عذاب اتنا ہی دینا ہے کہ جتنا وہ مستحقِ عذاب ہے تو پھر کیسے کچھ لوگوں کے لیے ہمیشہ کے لیے جہنم کا عذاب رکھا گیا ہے جبکہ انہوں نے تو چند سال ہی دنیا میں گناہ انجام دیے تھے مثلا سو سال یا ستر سال! تو پھر ان کے لیے یہ دائمی عذاب کیوں ہے؟

جواب: کسی جرم کی سزا میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ گناہ اور سزا کی مدت برابر ہو بلکہ بعض اوقات کچھ گناہ اگرچہ ایک لمحے میں انجام دیئے جاتے ہیں لیکن اس کی سزا ساری زندگی بھگتنا پڑتی ہے اور وہ اسی کا مستحق ہوتا ہے جیسا کہ ایک انسان اگر کسی کو بے گناہ قتل کرتا ہے تو سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ کم از کم اسے عمر قید سزا ہونا چاہیےیا صرف وہ چالیس برس زندہ رہے یا پچاس برس  یا اس سے بھی کم زندہ رہے جبکہ اس نے جو جرم  کیا ہے وہ صرف ایک منٹ میں انجام دیا تھا ۔یا اسی طرح جوشخص  بلندی سے چھلانگ لگاتا ہے اور اس بنا پر اس کی کوئی ہڈی اس طرح سے ٹوٹ جائے کہ پھروہ ساری زندگی صحیح نہ ہو پائے تو اس طرح کے  انسان نے اگرچہ ایک محدود عرصے میں یہ فعل انجام دیاہے لیکن  اس کا گناہ  اس نوعیت کا ہے کہ ایسا انسان پھر دائمی عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلےاسے ڈرایا جا چکا ہےاور اسے عقل  کے ساتھ ساتھ رسول اور کتابیں بھیجی جا چکی ہیں اب اگر وہ اس کے باوجود  اللہ کے عذاب کا مذاق اڑاتا ہے اور اس کے نمائندوں کی توہین کرتا ہے  تو وہ یقیناً اس دائمی عذاب کا مستحق ہے۔ کیونکہ وہ اگر ہمیشہ  زندہ رہتا تو ممکن ہے کہ اپنے اس گناہ پر باقی رہتا ۔

اس سوال کا ایک اور جواب بھی دیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آخرت میں جو عذاب ہو گا یہ کوئی جدید شئی نہیں ہے  بلکہ یہ  انسان کے دنیا میں انجام دیئے ہوئے وہی اعمال ہیں کہ جن کی یہ اخروی شکل ہے۔اورجسے تجسم اعمال بھی  کہا جاتاہے اورقرآن کی آیات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان اپنے انہی اعمال کو دیکھے گا برے ہونگے تب بھی اور اگر اچھے ہونگے تب بھی۔ارشاد پروردگار ہوتاہے۔

’’ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا يَّرَہٗ ‘‘(زلزلہ ۸)

’’اور جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی انجام دی ہے وہ اسےبھی  دیکھے گا۔‘‘

سوال نمبر 12: کیا اس دن کسی کی شفاعت بھی ہوگی؟

جواب: جی ہاں قران مجید اور اقوال معصومؑ میں سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اس دن خاص لوگ جیسے انبیاء ؑاور آئمہؑ اور ملائکہ  اور بعض مومنین ہوں گے جو  لوگوں کی شفاعت کریں گے۔ارشاد ہوتاہے۔

’’ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَھُمْ مِّنْ خَشْيَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ ‘‘(الانبیاء ۲۸)

’’ اور وہ ملائکہ صرف اسی کی شفاعت کریں گے کہ جس پر اللہ راضی ہو گا اس کا مطلب  یہ ہوا کہ شفاعت  ضرورہو گی اگر چہ  وہ صرف خاص لوگوں تک محدود ہے ۔‘‘

سوال نمبر13: کیا کوئی  یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ عقیدہ شفاعت عقیدہ توحید کے مخالف  ہے کیونکہ یہ عقیدہ غیراللہ سےمدد مانگنے کے مترادف  ہے؟

جواب: گزشتہ بحثوں میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ غیراللہ سے مدد مانگنا صرف اس وقت عقیدہ توحید سے منافی ہوتا ہے جب اس غیرِخدا کو اللہ تعالی کے مقابل ایک مستقل طاقت سمجھ کر مدد مانگی جائے لیکن اگر اس مقدس شخصیت یا اس مقدس ہستی کو  اللہ تعالی کی ذات تک پہنچنے کا وسیلہ اور  واسطہ سمجھتے ہوئے مدد مانگی جائے تو یہ توحید کے منافی نہیں بلکہ عقیدہ توحید کی جان ہے۔اور شفاعت کی حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی ہستی کو اللہ تعالیٰ اور اپنے درمیان  اس بات کے لیے وسیلہ بنایا جائے کہ اس مقدس ذات کے ذریعہ سے خالق کائنات گناہوں کو معاف کردے اوراپنے سایہ رحمت میں جگہ دے اسی لیے تو شفاعت کو قرآنی مفاہیم میں سے ایک  واضح اور ضروری مفہوم میں شمار کیا جاتا  ہے۔جیسا کہ ارشاد پروردگار ہوتا ہے کہ۔

’’ وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُہُمْ شَـيْــــًٔــا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللہُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى‘‘(النجم ۲۶)

’’ آسمانوں میں نہ جانے کس قدر ملائکہ موجود ہیں کہ ان کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی مگر  یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کو اذن عطاء کرے  اور اس سے راضی ہو۔‘‘

سوال نمبر 14:کہا جاتا ہے کہ عقیدہ شفاعت تو اس بات کا موجب بنتا ہےکہ انسان شفاعت کے سہارے جتنا چاہے گناہ کرلے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب اس کی شفاعت ہو گی  تو اس کے تمام  گناہ معاف ہو جائیں گے تو پھرکیسےبھلا ایسا عقیدہ  صحیح ہو سکتا ہے کہ جسکی بنا پر انسا ن گناہ انجام دینے پر متجری ہو جائے؟

جواب: ایسی سوچ رکھنے والا دراصل شفاعت کے مفہوم سے صحیح آگاہ نہیں ہے وہ سمجھتا ہے کہ ہر کسی کی شفاعت ہو گی چاہے وہ کتنا بد بخت کیوں نہ ہو اور یہ کہ وہ فوراً ہو جائیگی ۔جبکہ ایسا نہیں بلکہ شفاعت صرف خاص لوگوں کی ہی  ہو گی اور وہ بھی معلوم نہیں کہ کس مرحلہ میں ہوگی۔ہو سکتا ہے کہ کسی کی شفاعت بہت سارے عذاب کے مراحل گزرنے کے بعد ہو ۔

دراصل شفاعت کا فائدہ گناہگاروں کو مایوسی سے بچانا  او ر ان کے لیےتاریکی میں امید کی ایک کرن پیدا کرنا ہے ۔جیسے توبہ اور وسیع رحمت الہی ہے۔

درحقیقت عقیدہ شفاعت انسان میں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اس قابل بن جائے کہ اسے شافعین کی شفاعت حاصل ہو۔

سوال نمبر 15: شفاعت کے لیے کن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ؟

جواب: شفاعت واقع ہونے کی چند شرائط ہیں۔

1۔ شفاعت کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے اذن ہو۔ارشاد ہوا۔

’’ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِـاِذْنِہٖ ‘‘(بقرہ ۲۵۵)

’’ وہ کون ہے جو اذن کے بغیر  اس کے پاس شفاعت کرے گا‘‘

2۔ شفیع قیامت کے دن حق کے ساتھ گواہی دے ۔ارشاد ہوتاہے ۔

’’ وَلَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ  ‘‘( زخرف ۸۶)

’’ اور وہ جنہیں اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ حق شفاعت نہیں رکھتے سوائے اس کے کہ جو حق کے ساتھ گواہی دے اور اسے وہ جانتےبھی  ہیں‘‘

3۔ جس کی شفاعت کی جائے اللہ کے نزدیک اس کا ایمان اور دین مقبول ہو وگرنہ  اصل ایمان صحیح نہ ہو مثلاً  یہ کہ وہ مشرک یا منافق ہوتو اس کی شفاعت نہیں ہو سکتی۔ارشاد ہوتا ہے ۔

’’ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى  ‘‘(الانبیاء ۲۸)

’’ صرف اسی کی شفاعت کریں گے جس سے خدا راضی ہو گا‘‘۔یعنی اس کا مذہب اور عقیدہ صحیح ہو۔

4۔ شفاعتِ نبی کا منکر نہ ہو جس نے  بھی دنیا میں ان کی شفاعت کا انکار کیا وہ آخرت میں  بھی ان کی شفاعت سےمحروم رہے گا۔

5۔ اہل بیت رسول ﷺ سے عداوت اور بغض نہ  رکھتاہو ورنہ وہ شفاعت سے محروم ہو گا۔

6۔ ایسا بڑا گناہ نہ کیا  ہو جو کہ شفاعت میں حائل ہو۔مثلاًیہ کہ وہ نماز کو معمولی سمجھتا ہو چونکہ معصوم ؑ نے فرمایا ہے کہ۔’’ لا ینال شفاعتنا من استخف بالصلاۃ ‘‘( کافی 270/3)

’’ وہ ہماری شفاعت سے محروم رہے گا جو نماز کو معمولی سمجھتا ہے۔‘‘

یا فقراء و مساکین کاوہ  مال جو خمس وزکوٰۃکی صورت میں ہے کھانے کا عادی نہ ہو۔جیسا کہ زمانے کے امامؑ کا ایک  جوابی خط نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے فرمایا ۔ ’’ واما سألت عنہ من أمر من یستحل ما فی یدہ من اموالنا یتصرف فیہ تصرفہ فی مالہ من غیر امرنا فمن فعل ذلک فھو ملعون و نحن خصما فی یوم القیامۃ ‘‘ ( کمال الدین و تمام النعمۃ 2/520)

’’ اور جو تو نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا ہے جو ہمارے اس مال کو جو اس کے ہاتھ میں ہے اپنے لیے حلال سمجھتا ہے اور ہمارے امر کے بغیر اس میں اس طرح تصرف کرتا ہے جس طرح وہ اپنے مال میں کرتا تھا تو جس کسی نے بھی ایسا کیا وہ ملعون ہے اور قیامت کے دن ہم اس کے دشمن ہوں گے‘‘

تو پھر ایسی صورت میں کیسے شفاعت کی توقع کی جا سکتی ہے؟

سوال نمبر 16: اہل جنت جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو ان کے حالات کیا ہوں گے؟

جواب: اہل جنت جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو عالی شان موتیوں اور جواہر سے بنے ہوئے قصروں میں رہیں گے قیمتی ریشم سے بنے ہوئے کپڑے پہنیں گے،سونے کے کنگن سے آراستہ ہوں گے ،بہت ہی آرام دہ بستر اور تکیے لگے ہوئے ہوں گے،تصور سے ماوراء حسین و جمیل حوریں ہوں گی جن سے وہ لذت اٹھائیں گے،ان کی خدمت کے لیے موتیوں کی طرح چمکتے چہرے والے جنتی لڑکے ہوں گے،پینے کے لیے پاک شراب ہوگی جس سے نہ دماغ مفلوج ہو گا نہ چکر آئیں گے۔کھانے کے لیے بھنے ہوئےپرندے ہوں گے ،ایسے درخت ہوں گے جوکہ  اپنی پھلوں سے لدی ٹہنیاں قریب کر دیں گےاور انسان اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے پھل توڑ سکیں گےاور دل میں جس چیز کی خواہش ہوگی درخت کی  ٹہنی پراسی کے مطابق پھل لگ جائیگا۔ان سب سے بڑھ کر انبیاءؑ اور آئمہؑ کی صحبت نصیب ہو گی ،صبح شام فرشتے سلام کرنے آئیں گےاور اللہ کی رضا اور خوشنودی شامل حال ہو گی۔الغرض اتنی نعمتیں ہوں گی جن کا دنیا میں رہ کر تصور کرنا ممکن نہیں ہے۔

سوال نمبر 17: اہل جہنم جب جہنم میں پہنچ جائیں گے تو ان کے حالات کیا ہوں گے؟

جواب: ہر طرف سے آگ کی لپیٹ میں ہوں گے، اوڑھنا بچھونا آگ ہی کا ہو گا،نکلنے کی کوشش کریں گے مگر نہیں نکل سکیں گے ،کھانے کے لیے خار دار اور بے حد بدبودار درخت زقوم کی شاخیں دی جائیں گی ،پینے کے لیے پیپ اور پگھلے ہوئے تانبے کی طرح جلا ہوا مادہ ہوگا جس سے چہرہ جل جائے گا اور آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی اور پھر  جب پہلی جلد جل کر راکھ ہو جائے گی تواس جگہ پر  نئی جلدنکل آئے گی،ہر طرف موت کے آثار دیکھیں گے لیکن مریں گے نہیں، زنجیروں اور طوقوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے،اہل جنت سے کچھ غذا اور پانی کا سوال کریں گےلیکن وہ کہیں گے کہ یہ اللہ کے دشمنوں پر حرام ہے،ایک دوسرے پر لعنت کریں گے غریب گروہ امیر گروہ پر لعنت کرے گا کہ تم نے ہمیں گمراہ کیا تھا اور ان کےلیے دگنا عذاب مانگیں گے اور امیر گروہ اس غریب گروہ پر لعنت کرے گا کہ تم خود گمراہ تھے ہم نے تمہیں مجبور نہیں کیاتھا،وہ التماس کریں گے کہ ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیجا جائے تاکہ ہم نیکوکار ہو جائیں لیکن جواب ملے گا کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا تم نے اپناوہ موقع  ضائع کر دیا اور اب اگر تمہیں لوٹا بھی دیں تو  تم پھروہی کام کرو گے۔ان سب  کے علاوہ ملائکہ انہیں  ڈانٹیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے نبی نہیں آئے تھے کہ تم اس قدر بدکاریاں کرتے رہے؟ تو جواب میں کہیں گے کہ انبیاء نے تو ڈرایا تھا مگر ہم نے ان کی نہیں سنی  اور ان کا مذاق اڑایاہم بدبخت ہیں کہ ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ،اور وہ اہل جنت کو دیکھ کر بہت حسرت کریں گے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہو گا اسی لیے قیامت کے ناموں میں سے ایک نام روز حسرت  بھی ہے۔

سوال نمبر18:وہ اہم ترین چیز کیا ہے کہ  جو انسان کو جنت پہنچانے کا سبب بنتی ہے ؟

جواب: قرآن مجید میں ارشاد ہے

’’ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى ‘‘(النازعات ۴۰)

’’ اور جو اپنے رب کے مقام (عظمت) سے ڈرتا ہے اور نفس کو خواہشات (کی اتباع) سے روکتا ہے تو جنت ہی (اس کا) ٹھکانا ہے‘‘۔[4]

 


([1])مناسب ہے کہ طلاب کو حضرت ابراہیم ؑ کےہاتھوں پرپرندوں کے زندہ ہونے والا واقعہ سنایا جائے

[2] کیا آپ روزانہ اپنے اس دن کے اعمال کا اندازہ لگا تے رہتے ہیں  کہ کونسے اعمال زیادہ ہیں ثواب والے زیادہ  کیےہیں یا گناہ والے اعمال زیادہ کیے ہیں؟

[3] کیا آپ تمنا کرتے ہیں کہ آپ  مولا علی ؑ کے مبارک ہاتھ سے جام کوثر پیئیں؟ اگر یہ تمناء کرتے ہیں تو اس کے لیے آپ کونسے اعمال انجام دیتے رہتے ہیں؟

[4] مناسب ہے کہ بچوں کو نہج البلاغہ میں مکتوب نمبر ۱۳۰ ترجمے کے ساتھ سنایا جائے جس میں امیر المومنینؑ نے مردوں کو خطاب کیا ہے۔