حرم کا داخلی صحن اور سنہری ایوان

حرم کا داخلی صحن( یعنی گنبد دار کمرہ) صحن شریف کی مشرقی سمت میں واقع ہے اور اس  سنہری ایوان کے مقابل میں ہے جو حرم امیرالمومنین ؑ میں داخلے کی بنیادی گیلری شمار ہوتا ہے۔ یہ صحن سبز رنگ کے مرمر سے ڈھکا ہوا ہے ۔اس داخلی صحن میں فقط شمالی اور جنوبی طرف سے داخل ہونا ممکن ہے اور مشرقی سمت میں لمبائی میں ایک فصیل سے اس داخلی صحن کو بند کیا گیا ہے ۔یہ فصیل داخلی صحن کی زمین سے ۹۰ سم اونچی ہے جس کے اوپر چاندی کی طرح چمکدار ایک خوبصورت جنگلہ لگایا گیا ہےجسکی اونچائی ۷۵سم ہے۔
اسی صحن کے اندر دونوں میناروں کی عمارت کی بنیاد اور ان میناروں پر چڑھنے کا دروازہ بھی موجود ہے۔ علاوہ بر ایں دو دروازے اور بھی ہیں ۔ ایک دروازہ سید مصطفی خمینی کے مقامِ دفن کے کمرے کا ہے۔ یہ کمرہ شمالی جانب واقع ہے اور دوسرا دروازہ مؤذن کا ہے جو جنوبی سمت میں واقع ہے۔ ہر مینار کے پہلو میں ایک ایک سنہری دروازہ ہے جو خالص سونے سے بنایا گیا ہے اور ہر ایک دروازے پر خوبصورت ترین نباتی نقوش بنائے گئے ہیں اورآیات قرآنی بھی کندہ کی گئی ہیں جو اس کی تعمیری دقت اور اصلی پن کوعیاں کرتی ہیں نیز شمالی سمت میں واقع دروازہ علامہ حلی کی قبر تک جاتا ہے اور یہ دروازہ علامہ حلی کے نام سے ہی معروف ہے۔
اس کمرے میں موجود مختصر سی گزرگاہ حرم علوی کی داخلی گیلری تک لے جاتی ہے اور جنوبی سمت کا دروازہ جو مقدس اردبیلی (قدہ) کی قبر مطھر کے ساتھ ہے، یہ دروازہ داخلی گیلری تک نہیں پہنچاتا۔
اس صحن کے درمیان میں ایک بڑا سنہری ایوان ہے جو خالص سونے سے ڈھکا ہوا ہے اور یہ ایوان اسلامی فنِ تعمیر کی ایک نشانی اور اپنی بناوٹ میں ایک بے مثال چیز شمار ہوتی ہے۔ یہ ایوان سونے کے نقوش سے بھرپور ہے اور خالص سونے سے بنی ایک بہت بڑی پٹی اس سنہری ایوان کو مزیّن کر رہی ہے۔
جیسا کہ اس ایوان کے اوپر سونے کی ایک بہت بڑی جھرمٹ نما چیز نصب ہے جو تقریباً اس ایوان کے ایک تہائی بالائی حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔
یہ اپنی شان و شوکت اور خوبصورتی میں اس مقام پر ہے کہ دیکھنے والے کو اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور نفوس کو خیرہ کر دینے والا ہے۔ اس ایوان کے سامنے کی دونوں اطراف میں قوس نما کھڑکیاں بنی ہوئی ہیں جنہیں نقوش سے مزیّن کیا گیا ہے جو نیلی کانچ پر واضح و عیاں ہیں۔ ہر طرف میں دو دو کھڑکیاں ہیں۔