نمائندگان كى روانگي

جب اس راستے پر قبض ہوگيا جو لب دريا تك جاتا تھا تو حضرت على (ع) نے دو روز تك توقف فرمايا اس كے بعد آپ(ع) نے اپنى سپاہ كے سرداروں ميں سے بشير بن عمرو ، سعيد بن قيس اور شبث بن ربعى كو معاويہ كے پاس بھيجا_ اور فرمايا كہ تم ان كے پاس جاؤں اور انہيں اطاعت خدا ، ميرے ہاتھ پر بيعت نيز جماعت كى طرف آنے كى دعوت دو

حضرت على (ع كے نمائندے ماہ ذى الحجہ كى پہلى تاريخ كو معاويہ كے پاس پہنچے اور اس كے ساتھ مذاكرات شروع كئے سب سے پہلے بشير نے كہا كہ :اے معاويہ دنيا ختم ہوا چاہتى ہے اور آخرت تم پر آشكار ہونے لگى ہے_ خداوند تعالى تجھے تيرے اعمال كى جزاء دے_ اب تو امت كے درميان تقرفہ اندازى اور خون ريزى سے باز رہو معاويہ نے ان كى گفتگو كو درميان ميں ہى قطع كرديا اور كہا كہ : يہى مشورہ تم نے اپنے آقا كو كيوں نہيں ديا؟ بشير نے جواب ديا كہ وہ تمہارے جيسے نہيں ہيں وہ دين ، فضيلت ، اسلام ميں سابقہ زندگى اور رسولخدا(ص) كے ساتھ قرابت دارى كے اعتبار سے اور اس امر و قصد كيلئے بہترين اور اہل ترين فرد ہيں_

اس كہ بعد شبث نے گفتگو شروع كى معاويہ نے جب اس كى مدلل گفتگو سنى تو وہ حيران رہ گيا اور جب كوئي جواب بن نہ پڑا تو طيش ميں اس كى زبان سے كچھ ناشايسہ الفاظ نكل گئے _ اس نے حضرت على (ع) كے نمائندوں سے كہا كہ يہاں سے اٹھو اور چلے جاؤ_ ميرے اور تمہارے درميان فيصلہ اب تلوار ہى كرے گي_ اس پر شبث نے كہا كہ تم ہميں تلوار سے ڈرا رہے ہو خدا كى قسم ہم جلدى ہى تمہيں گرداب بلا ميں گرفتار ديكھيں گے_ يہ كہہ كر يہ نمائندے وہاں سے اٹھ گئے اور حضرت على (ع) كے پاس چلے آئےاس كے بعد حضرت على (ع) نے اپنى سپاہ كو حكم ديا كہ وہ چند دستوں ميں تقسيم ہوجائے اور با رى بارى اپنے ان حريفوں اور ہم پلہ قبائل كے ساتھ جو معاويہ كى سپاہ ميں ہيں نبرد آزما ہوں اور اس طرح طرفين نے ماہ ذى الحجہ كو جنگ و نبرد ميں گذارا ديا